بلال فرقانی
سرینگر//وزارت خارجہ نے مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں بگڑتی صورتحال کے پیش نظر متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ایک کنٹرول روم قائم کر دیا ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق مغربی ایشیا میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی شہری مقیم ہیں اور ان کی سلامتی اور فلاح و بہبود نئی دہلی کی “اولین ترجیح” ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد ایران میں بھارتی سفارت خانے نے سینکڑوں بھارتی طلبہ کو ایرانی دارالحکومت تہران سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔وزارت خارجہ نے بدھ کے روز کہا کہ’’موجودہ صورتحال کے پیش نظر وزارت خارجہ میں ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جس سے صبح 9جے سے رات 9جے تک رابطہ کیا جا سکتا ہے‘‘۔کنٹرول روم کے نمبرات1800118797 (ٹول فری)،+91 11 2301 2113،+91 11 2301 4104اور+91 11 2301 7905ہیں۔وزارت خارجہ نے کہا کہ خلیجی خطے میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی شہری رہتے اور کام کرتے ہیں، اور ان کی سلامتی اور فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔بیان میں کہا گیا’’ہم کسی بھی ایسی پیش رفت سے بے پروا نہیں رہ سکتے جو ان پر منفی اثر ڈالے‘‘۔
وزارت نے کہا کہ نئی دہلی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی مفاد میں مناسب فیصلے جاری رکھے گا۔ ساتھ ہی خطے کی حکومتوں اور دیگر اہم شراکت داروں سے رابطے میں بھی ہے۔ اس دوران مرکزی حکومت ایران اور خلیجی خطے میں تنازع کے آغاز پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیاکہ وہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی سے گریز کریں اور شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دیں۔مرکزی حکومت کے ترجمان نے بیان میں کہا ’’حالیہ دنوں میں ہم نے نہ صرف تنازع کے شدت اختیار کرنے بلکہ اس کے دیگر ممالک تک پھیلنے کے مناظر بھی دیکھے ہیں۔ تباہی اور ہلاکتیں بڑھ گئی ہیں، جبکہ معمول کی زندگی اور اقتصادی سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ بحیثیت قریبی ہمسایہ اور خطے کی سلامتی و استحکام میں اہم مفادات رکھنے والے ملک کے طور پر یہ پیش رفت شدید تشویش کا باعث ہے۔خلیجی خطے میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی شہری مقیم اور کام کرتے ہیں۔ ان کی سلامتی اور فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم کسی بھی ایسے واقعے سے بے پروا نہیں رہ سکتے جو ان کے لیے نقصان دہ ہو۔ ہمارا تجارتی اور توانائی کا نیٹ ورک بھی اس خطے سے گزرتا ہے، اور کسی بھی بڑی رکاوٹ کا بھارتی معیشت پر سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔ ایک ایسا ملک ہونے کے ناطے جس کے شہری عالمی ورک فورس میں نمایاں ہیں، بھارت تجارتی جہازوں پر حملوں کے بھی سخت خلاف ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں ایسے حملوں میں کچھ بھارتی شہری ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں‘‘۔ترجمان نے مزید کہا’’اسی پس منظر میں بھارت زور دے کر کہتا ہے کہ تمام فریقین بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔ ہم تنازع کے جلد خاتمے کے حق میں واضح آواز بلند کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے پہلے ہی کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور ہم اس حوالے سے اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہیں‘‘۔بیان میںمزید کہاگیا ہے کہ متاثرہ ممالک میں بھارتی سفارتخانے اور قونصلیٹ اپنے شہریوں اور کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور مناسب ہدایات جاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے تنازع کے باعث پھنسے افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی ہے اور آئندہ بھی مختلف قونصلی امور میں فعال رہیں گے۔بیان میں کہاگیا’’ہم خطے کی حکومتوں اور دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے۔حکومت صورتحال پر گہری نگرانی جاری رکھے گی اور قومی مفاد میں مناسب فیصلے کرے گی‘‘۔ادھر جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنونیئر ناصر کھوئیہامی کا کہنا ہے کہ ایران میں سب سے زیادہ کشمیری رہتے ہیں جن میں قریب 2000سے زائد طلبا ہیں جو یہاں میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم ہیں۔انہو ں نے کہا کہ تقریباً 900طلبا پہلے ہی واپس آچکے ہیں جبکہ ابھی بھی1100کشمیری طلبا ایران میں موجود ہیں۔کھوئیہامی نے کہا کہ ان میں سے متعدد ایم بی بی ایس کے فائنل ائر میں ہیں اور فی الوقت ہسپتالوں میں زیر تربیت ہیں جو واپس نہیں آنا چاہتے لیکن دیگر سینکڑوں طلبا اور متعدد زائرین کو قم کے شہر منتقل کردیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے بدھ کے روز وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے ساتھ ایران کے مختلف حصوں میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلبا کی حفاظت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ناصر کھوئیہامی نے وزیر خارجہ کو بتایا کہ ایسوسی ایشن کو کشمیری طلبا کے پریشان والدین کی طرف سے لاتعداد فون کالز اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں جن کے بچے اس وقت قم، ارمیا، اراک اور دیگر شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ملک کے کئی حصوں سے مسلسل ہوائی حملوں اور میزائل حملوں کی اطلاع ملنے کی وجہ سے طلبا انتہائی خوفزدہ اور بے چین ہیں۔