جموں//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے سول سیکرٹریٹ جموں میں سماجی بہبود محکمہ کے مجموعی کام کا جائزہ لینے کے لئے محکمہ سماجی بہبود کے اعلیٰ اَفسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔ مختلف اَمور اور جموںوکشمیر میں ایس ڈبلیو ڈی کے تحت چلائے جانے والی مختلف مرکزی معاونت والی سکیموںجس میں ایس ایم اے ایس ، لاڈلی بیٹی ضلع وار ڈیٹا اور سکھشم سکیمیں شامل ہیں ، کے مسائل پر سیر حاصل بحث ہوئی ۔ میٹنگ میںکرافٹ سینٹروں کی موجودہ صورتحال،ری ہیبلٹیشن کونسل کی سکیمیںبالخصوص جسمانی طور معذور اَفراد کے لئے سکوٹیوں کی خریداری کے تازہ ترین اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں متعلقہ اَفسران نے مشیر موصوف کو ایس ڈبلیو ڈی کے کام کاج اور مختلف جموں وکشمیر یوٹی او رمرکزی معاونت والی سکیموں کے بارے میں جانکاری دی جو جموںوکشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کی جارہی ہیں۔میٹنگ میں جسمانی طور معذور اَفراد کے حقوق اور سرکاری عمارتوں کو قابل کار بنانے کی صورتحال ، اثاثوں کی تفصیلات جو اِس وقت کسی مقصد کے لئے استعمال نہیں کی جارہی ہیں، مسکین باغ کمپلیکس کے استعمال پربھی روشنی ڈالی گئی ۔اِس میں بال آشرموں ، ناری نکیتنوں کی ضلع وار،اِس کی فعال / غیر فعال وجوہات ، نئی تعمیرات کی ضرورت اور پروپوزل اور نجی یتیم خانوں / اولڈ اِیج ہوموں / ناری نکیتن کی تفصیلات جو ایس ڈبلیو ڈی میں رجسٹر ڈ ہیں اور گھروں کی صورتحال ذہنی بیمار اَفراد / اولڈ اِیج ہوموں کی تفصیلات کا بھی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں پی ایم ایم وی وائی ، بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو ، آنگن واڑی مراکز کی معقولیت ، اے ڈبلیو سی کو پینے کے صاف پانی کی سہولیت ، اے ڈبلیو سی میں بیت الخلاء کی تعمیر اور ڈیٹا جمع کرنے کے لئے سمارٹ فون کی تقسیم اور نوڈل اَفسران کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا۔مشیر فارو ق خان نے فلاحی سکیموں کی عمل آوری کے لئے جامع اور محکمہ سماجی بہبود کے کام اور سکیموں کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ مقدمات ختم کریں جو ایک وجہ یا دوسری وجہ سے پنشن کے لئے نااہل ہوچکے ہیں اور ان کی جگہ نئے مستحق درخواست دہندگان لے لیں ۔ اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ بڑھاپے، بیوہ یا بالخصوص جسمانی طور معذور اَفراد کے لئے کوئی بیک لاگ کیس نہ چھوڑیں۔اُنہوں نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ لاڈلی بیٹی سکیم ، لڑکیوں کے لئے مریج اسسٹنس سکیم او رزیر اِلتوأ بیوہ او رپنشن کے دیگر معاملات کی ایک تفصیلی رپورٹ ایک ماہ کی مدت میں متعلقہ سہ ماہی میں پیش کی جائے تاکہ ان کے حق میں ایک ہی اور جلد نمٹانے کی جانچ کی جاسکے ۔ اُنہوں نے کہا کہ لاڈلی بیٹی اور میرج اسسٹنس سکیموں کا مقصد خواتین کو بااِختیار بنانا ہے اور اس لئے ان کی ضروریات اور خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پر عمل درآمد کیا جانا چاہیئے۔مشیر موصوف نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ مستحقین کے ہرزُمرے میں سکالر شپ سکیموں کی تقسیم کے اہداف کو پورا کرنے کے لئے اِن میں سے ہر ایک کے درمیان تال میل کے ساتھ کام کریں ۔ اُنہوں نے اَفسران سے کہا کہ وہ خواہشمند طلاب کے لئے آسانی سے فوائد حاصل کرنے کو آسان بنائیں۔