عمران بن رشید
اس میں دو رائے نہیں کہ سر زمین ِ کشمیر علماء اور مفکرین کی سر زمین رہی ہے ۔حضرت عبدالرحمن بلبل شاہ کشمیری ؒ اورحضرت میر سید علی ہمدانی ؒ کی محنت ِ شاقہ ‘عملِ پیہم اور خلوصِ نیت کا نتیجہ تھاکہ یہ وادی عابدوں اور زاہدوں کی آماجگاہ بن گئی۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’مشاہیرِ اہلِ حدیث۔جموں و کشمیر‘‘کا مطالعہ کررہا تھا تو میرے علم میں یہ بات آئی کہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ بھی کشمیر الاصل تھے‘تعجب اور حیرت ایک طرف سر بھی فخر سے اونچا ہوگیا کہ اس زمین سے کیسے کیسے گوہرِ نایاب پیدا ہوئے ہیں۔مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ جیسی قدآور علمی شخصیت کی بات کریں یا مولاناانور شوپیانی ؒ کی ‘مسالک اور مختلف مکتبہ ہائے فکرکی تفریق کے بغیر اگر بات کریں تو ان جیسی کتنی ہی نابغہ روزگار شخصیات ہیں کہ جو علم وادب اور دعوتِ دین کے اُفق پر سورج کی طرح تاباں و درخشاں ہیں ۔ شاعرِ مشرق سر محمد اقبالؒ بھی کشمیری نژاد تھے؎
تنم گلے ز خیابانِ جنتِ کشمیر
دل از حریمِ حجاز و نوازِ شیراز است
جمعیت اہل ِ حدیث جموں و کشمیر کی جانب سے حال ہی میں ایک ضخیم کتاب شائع ہوئی۔اس کتاب کا عنوان ’’مشاہیرِ اہلحدیث۔ جموں و کشمیر‘‘رکھا گیا ہے۔کتاب کا نام ہی درشاتاہے کہ اس کتاب کا موضوعِ بحث کیا ہوگا ۔میرے علم کے مطابق یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہوگی ،جس میں علمائےاہلحدیث جموں و کشمیر کے حالاتِ زندگی اور دینی خدمات کو یکجا کیا گیاہو۔اس سے پہلے ایک کتاب ’’تاریخ ِ اہلِ حدیث جموں و کشمیر‘‘ ترتیب دی جاچکی ہے ، جس کے دو ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ یہ کتاب صوفی احمد مسلمؒ نے ترتیب دی تھی۔اس کتاب میں 76 علماء اورداعیانِ حق کے متعلق جانکاری فراہم کی گئی ہے جنہوں نے دعوت الی اللہ پر اپنی زندگیاں صرف کیں۔شروع میں اُن علماء اور مبلغین کو رکھا گیا ہے جو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیںاور اپنے پیچھے علم وادب کا وسیع ذخیرہ اور باصلاحیت شاگردوںکی اچھی خاصی تعدادکو چھوڑچکے ہیں ۔مولانا ثناء اللہ امرت سریؒ،مولانا انور شوپیانیؒ، غلام نبی مبارکی ؒ،مولانا شوکت احمد شاہؒ(سابق صدرِ جمعیت اہلِ حدیث کشمیر) اور حافظ محمد امین لولابی المدنی ؒ ان مرحومین میںبالخصوص شامل ہیںجوجموںوکشمیرمیں بالعموم اور وادی کشمیر میں بالخصوص سلفیت کے سرخیل رہ چکے ہیں ۔
زندہ قومیں اپنے ماضی سے آگاہ بھی رہتی ہیں اور اپنے ماضی کا اثاثہ سنبھال کر بھی رکھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ بشارت بشیر صاحب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، جنہوں نے یہ کتاب ترتیب دے کر کشمیریوں کے لئے ایک بڑاکام سرانجام دیا ہے ۔اسلاف کی حیات اور خدمات سے متعلق معلومات یکجا کرنا اور پھر کتاب ترتیب دینا ہر کسی سے نہیں ہوپاتا ہے ۔ایسے کام کے لئے انسان کا بلند حوصلہ ،اعلیٰ ہمت، باصلاحیت اور سب سے اہم مخلص ہونا ضروری ہے۔یہ سارے اوصاف موصوف میں بدرجہ اُتم موجود ہیں ۔ یہ کتاب دراصل اُن مقالات اور مضامین پر مشتمل ہے جو ’’تذکرہ اسلاف‘‘کالم کے تحت برسوں سے جریدہ ’’مسلم‘‘میں شائع ہورہے تھے ۔ میں ذاتی طور پر چوں کہ سوانحی مضامین اور کتابیں پڑھنے کا قدرے شوقین ہوں ،لہٰذا میرے لئے تو یہ کتاب واقعی تسکینِ قلب اورتہذیبِ نفس کا وسیلہ ثابت ہوئی اور ہورہی ہے۔
لوگ مرکر سپردِ خاک کئے جاتے ہیں لیکن اُن کے انجام دئے ہوئے کارنامے آنے والوں کے لئے مشعلِ راہ اور رہنما بنتے ہیں ۔ ہمارے اسلاف کا معاملہ کچھ اسی نوعیت کا ہے جنہوں نے اللہ کے دین کی خاطر ایسے کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں کہ پڑھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ تاریخ کی کتابیں اُٹھاکر دیکھ لیجئے یا اسلاف کے سوانحی کوائف پڑھیئے ایسے سینکڑوں واقعات ملیں گے جن سے پوری دنیا ورطہ حیرت میں پڑی ہوئی ہے۔چنانچہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی عَلم بلند رکھنے کے لئے جس ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا پھر تابعین اور تبع تابعین کا دور بھی اسی نوعیت کا گزرا اور ایثار و قربانی کا یہ جذبہ ہنوز باقی ہے اور باقی رہے گا ۔تاریخ اس جذنے کو سلام کرتی ہے اور مورخین سنہرے حروف سے اس تاریخ کو صفحہ قرطاس پر اُتارتے ہیں۔پھر وہ ابنِ کثیرؒ کی لکھی ہوئی تاریخ ہو ،امام بخاریؒ کی لکھی ہوئی تاریخ ہو،ابنِ خلدون ؒ کی لکھی ہوئی تاریخ ہو یا مولانا اکبرشاہ نجیب آبادی ؒ کی لکھی ہوئی مختصر تاریخ ہو۔غرض کہ امتِ مسلمہ نے ہر دور میں اپنے اسلاف کی تاریخ کو مختلف صورتوں میں محفوظ رکھا ہے۔یہ تاریخیں من حیث القوم بھی لکھی گئی ہیں اور علاقائی طور پر بھی جس کی ایک عمدہ مثال ’’مشاہیرِ اہلِ حدیث جموں وکشمیر‘‘ہے۔جس میں جموں و کشمیرکے چند چنیدہ اہلِ حدیث علماء اور مبلغین کی حیات اور دینی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے ۔مولانا انور شوپیانی ؒ جو کشمیر میں سلفی تحریک کے بنیاد گزار رہے ہیں ،جان کر بے حد مسرت ہوئی کہ وہ کشمیری زبان کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر بھی ہیںاور آپ پر لندن یونیورسٹی‘عثمانیہ یونیورسٹی اورعلی گڑھ یونیورسٹی وغیرہ جیسی عظیم دانشگاہوں میں تحقیق کا کام بھی ہواہے ۔
بشارت بشیرصاحب نے ’’سخن ہائے گفتنی‘‘کے تحت اہلِ حدیث کی ترکیب اور تاریخ پر جو مدلل بحث کی ہے لاجواب ہے بالکل کمال کردیا ہے ۔چند سطور ملاحظہ فرمائیے’’اہلِ حدیث اصل میں ایک فکر کا نام ہے ۔جس کے امام و مرشد اور قائد اللہ کے آخری رسول محترم و محتشم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اُن کے رُفقاء و ہم جلیس صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اہلِ حدیث کے نورِ بصر ہیں، یہ تحریک ہمیشہ منکرین ِ قرآن و احادیث سے بھی نبرد آزماہوئی اور ختمِ نبوت کے قصرِ تانبدہ میں اگر کسی نے سیند لگانے کی کوشش کی تو اُس کے خلاف بھی ہر زمین و زمن میں نہ صرف کمر بستہ رہی بلکہ اس مہم میں تاریخی کامیابیاں سمیٹ لیں۔
مختصر یہ کہ زیرِ تبصرہ کتاب علماء اہل حدیث کشمیر کے حوالے سے معلومات کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔یہ بات میرے لئے البتہ حیران کُن رہی کہ موجودہ علماء اہل حدیث کی فہرست میں مشہور و معروف عالمِ دین ڈاکٹر عبداللطیف الکندی اور شیخ الحدیث محمد رمضان بزلوی شامل کیوں نہیں ہیں؟۔جن کی علمی خدمات عالمی سطح پر سراہی جارہی ہیں ،ان جیسی قدآورشخصیات سے متعلق عوام ہر ممکن جاننے کی جستجو کرتی ہے اور یہ چیز کچھ حد تک عوام کے لئے مایوس کُن ثابت ہوسکتی ہے۔حالانکہ بزلوی صاحب حفظہ اللہ علماء اہلِ حدیث کی بزرگ ترین شخصیات میں سے ایک ہیں جن کی علمی خدمات کا دائرہ یقیناً بے حد وسیع ہے اور ڈاکٹر الکندی صاحب قرآن و سنت کے بے باک سپاہی کے طورپر جوکام کررہے ہیں وہ ہر کس ونا کس پر عیاں ہے۔ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹر موصوف اعلیٰ پایہ کے قلم کار بھی ہیں جن کے رشحاتِ قلم آئے روز اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں بالخصوص جریدہ ’’مسلم‘‘میں ۔
بہرحال ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت سے ’’مشاہیرِ اہلِ حدیث جموں وکشمیر‘‘ایک نہایت ہی اہم کتاب ہے جس کا مطالعہ ہر اُس شخص کے لئے مفید بلکہ لازم ہے جو دعوت و تبلیغ سے منسلک ہے یا قرآن و سنت کی اشاعت سے وابستہ۔ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں کہ جمعیت نے اس طرح کی کوئی دستاویز شائع کی ہو بلکہ جمعیتِ اہلِ حدیث جموں و کشمیر ایک فعال تنظیم ہی نہیں بلکہ ایک متحرک ادارہ بھی ہے جس نے ہر دور میں قرآن و سنت کی ترویج اور اشاعت میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے اور درجنوں چھوٹی بڑی کتابیںمنصہ شہود پر لائی ہیں۔مشہور تفسیر ’’احسن البیان‘‘ کو 2016ء میں ازسرِ نو شائع کر کے عوام میں مفت تقسیم کیا،اسی سال الرحیق المختوم کی اشاعت بھی عمل میں لائی،2017 میں گلدستہ اسلام ،دروس فی التوحید،گلدستہ حدیث اور2018ء میں اہلِ حدیث کا تعارف وغیرہ اور نشر واشاعت کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
پتہ۔سیر جاگیر، سوپورکشمیر
ای میل۔[email protected]
(مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے)