عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ پر جاری تنازع کے درمیان محکمہ جنگلات کے 1300 سے زائد ورکروں (یومیہ اجرت پر کام کر رہے مزدوروں) کو بھی نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، حالانکہ یہ ڈیلی ویجرز 2004 سے محکمہ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے اپنی مستقلی (ریگولرائزیشن) کے منتظر ہیں۔اس فیصلے پر ناراض ان ورکروں نے سرینگر میں چیف وائلڈ لائف وارڈن کے دفتر کے باہر غیر معینہ مدت کا احتجاج شروع کر دیا ہے۔ احتجاج میں شریک مزدور منظور احمد بٹ نامی ایک ورکر نے کہا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو 2004 سے محکمہ جنگلات اور اس کے ذیلی اداروں میں کام پر رکھا گیا تھا اور مختلف حکومتوں اور افسران نے بارہا انہیں مستقل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔انہوں نے کہا: “ہمیں یہ جان کر شدید صدمہ پہنچا ہے کہ اب محکمہ ہمیں نجی کمپنیوں کے حوالے کر رہا ہے، جس سے ہمارا مستقبل غیر محفوظ ہو جائے گا۔
نجی کمپنی ایک سال بعد ہمیں نکال سکتی ہے۔ ہم مستقلی کی امید لگائے بیٹھے تھے، لیکن اب برسوں خدمت انجام دینے کے بعد ہمیں باہر کا راستہ دکھایا جا رہا ہے۔ایک اور ورکر بلال احمد نے کہا کہ محکمہ وائلڈ لائف کے 308 ورکروں کو بھی نجی کمپنی کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا: “ہمارے ساتھ 2004 سے کام کرنے والے باقی تین سو سے زیادہ ورکروں کا کیا ہوگا؟ ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہماری بھرتی CAMPA اسکیم کے تحت ہوئی تھی۔ ہمارے کئی ساتھی افسران کے ڈرائیور ہیں، جنگلی جانوروں سے متعلق موصول ہونے والی شکایات اور معاملات کو سنبھالتے ہیں اور جنگلات میں لگنے والی آگ بجھانے کا کام بھی کرتے ہیں۔”اسی سال فروری میں ان ورکروں نے حکمران جماعت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے 11 اراکین اسمبلی سے ملاقات کی تھی۔ ان اراکین نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا تھا کہ ان ورکروں کو مستقل کیا جائے اور ان کی ماہانہ تنخواہیں CAMPA اسکیم کے بجائے نان پلان مد سے ادا کی جائیں۔جموں و کشمیر کے چیف وائلڈ لائف وارڈن چتربھوجا بہیرا نے کہا کہ ان کے دفتر کو ابھی تک ان کارکنوں کی آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے کوئی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا: “یہ ورکرو وقتاً فوقتاً CAMPA اسکیم کے تحت شجرکاری، جنگلی حیات سے متعلق تنازعات کے انتظام اور دیگر عارضی کاموں کے لیے رکھے گئے تھے۔ یہ مستقل ملازم نہیں ہیں بلکہ حکومتِ ہند سے فنڈ جاری ہونے کے مطابق انہیں کام پر رکھا جاتا ہے۔”