بلال فرقانی
سرینگر// عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر وادی کشمیر میں زرعی نظام اور موسمیاتی تبدیلی کے باہمی اثرات پر جاری ہونے والی ایک تازہ سائنسی تحقیق نے خطے میں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کو نمایاں کر دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، بارشوں کے غیر یقینی رجحانات،سیلاب، زمین کھسکنے و خشک سالی جیسے خطرات نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ دیہی معیشت اور غذائی تحفظ کے لیے بھی سنجیدہ چیلنج پیدا کر رہے ہیں۔’’ وادی کشمیر میں زرعی نظام کی مستقبل کی کمزوریوں کا جائزہ وسط اور آخر صدی کے لیے مشترکہ سماجی و معاشی منظرناموں کی بنیاد ‘‘پر کیا گیا ہے، جس میں مختلف بین الاقوامی اور علاقائی ماہرین نے حصہ لیا۔ اس تحقیق میں ماجد فاروق (سینٹر فار کلائمیٹ چینج اینڈ واٹر ریسرچ جے پور، سراج کمار سنگھ سینٹرل یونیورسٹی بٹھنڈہ، شروتی کانگا یونیورسٹی آف ٹوکیو، گوہر معراج کنگ فہد یونیورسٹی سعودی عرب، فیمہ مشتاق (یونیورسٹی نارتھ کروشیا)، کوک باو فام (یونیورسٹی آف سیلیشیا پولینڈ)، بوجان ڈورین اور جولین ہنٹ سعودی عرب شامل ہیں، جنہوں نے وادی میں موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں زرعی کمزوری، خطرات اور مستقبل کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔ان کے مطابق ان تبدیلیوں کے اثرات ہر ضلع میں یکساں نہیں، بلکہ زمین کے استعمال، زرعی رقبے اور انسانی سرگرمیوں کی بنیاد پر خطرے کی شدت میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق کشمیر کے مختلف اضلاع میں خطرے کی سطح کا انحصار صرف قدرتی آفات کی شدت پر نہیں بلکہ زیادہ تر ’’ایکس پوزئر‘‘یعنی زمین کے استعمال، زرعی رقبے اور انسانی سرگرمیوں پر ہے، جو مجموعی خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے ،تحقیق میں’ آئی پی سی سی ‘فریم ورک کے تحت 10 اضلاع کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا، جس میں حساسیت ،موافقتی صلاحیت، خطرات اور مجموعی رسک کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق بانڈی پورہ، کولگام اور گاندربل سب سے زیادہ کمزور اضلاع کے طور پر سامنے آئے، جہاں فی کس آمدن میں کمی، زرعی پیداوار میں غیر یقینی صورتحال اور ڈھلوانی زمین ،30 فیصد سے زائد جیسے عوامل نے کمزوری کو بڑھایا ۔دوسری جانب بارہمولہ، پلوامہ، کپواڑہ اور بڈگام کو سب سے زیادہ خطرے والے اضلاع قرار دیا گیا ہے، جہاں سیلاب،زمین کھسکنے اور سوکھے جیسے خطرات کے ساتھ ساتھ زرعی اور باغبانی زمین کی زیادہ موجودگی نے ’’ایکسپوزئر‘ کو انتہائی بلند سطح پر پہنچا دیا ہے۔تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ براہ راست موسمیاتی دبائو خطرے کے ساتھ براہ راست تعلق 0.873 پایا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیادہ زرعی یا ہارٹی کلچر زمین رکھنے والے علاقے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے زیادہ شکار ہیں، چاہے وہاں بنیادی حساسیت کم ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس آفت اور خطرات کے درمیان تعلق نسبتاً کمزور 0.378 پایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف آفات کی شدت مجموعی خطرے کا تعین نہیں کرتی۔ تحقیق نے خوراک کا تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے مقامی سطح پر پالیسی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سفارشات میں مٹی کی بہتری، فصلوں میں تنوع، پانی کے بہتر انتظام اور کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر کو فروغ دینا شامل ہے۔ادھر ایک تشویشناک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ گوجر اور بکر وال چرواہا برادری موسمیاتی تبدیلی کے براہِ راست دباؤ میں ہے۔ تحقیق کے مطابق ان کے روایتی ہجرتی نظام میں 15 سے 20 دن کی تبدیلی واقع ہو رہی ہے، جس کے باعث چرواہے یا تو برف پگھلنے سے قبل ہی بلند چراگاہوں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں چارہ دستیاب نہیں ہوتا، یا اچانک برفباری کے باعث کمزور مویشی اور نومولود جانور شدید نقصان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ان کے روایتی معاشی اور ثقافتی نظام کے لیے وجودی خطرہ بن چکی ہے۔ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ زرعی معیشت، غذائی تحفظ اور دیہی معاشرت کے مستقبل کا مسئلہ بن چکی ہے، جس کے لیے فوری، مربوط اور مقامی سطح پر مبنی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔