سرنکوٹ میں ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایک روزہ کنونشن | کہا تعلیمی معیار کو بڑھانے کے لئے کی جائے گی ہر ممکن کوشش
حسین محتشم
پونچھ//ٹیچرز جائنٹ ایکشن کمیٹی سرنکوٹ کی طرف سے ہائی اسکول سنئی میں ایک روزہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں سینکڑوں اساتذہ نے شرکت کی کنونشن کی صدارت سینئر وائس چیئرمین ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی جموں کشمیر نجم الحسن جعفری نے کی۔کنونشن کے چیف گیسٹ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پونچھ بشارت حسین ،ڈائٹ پرنسپل گلزار چوہدری، چیف ایجوکیشن آفیسر پلاننگ زونل ایجوکیشن آفیسر پلاننگ سرنکوٹ نے کنونشن میں اساتذہ کے فرائض پر بات کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بچوں کا جو نقصان ہوا ہے اسے پورا کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے۔انہوں نے اسکول انتظامیہ خصوصی طور پر اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو پڑھانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کریں تاکہ بچوں کی تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے۔اس دوران اساتذہ کے مسائل پر بھی بات کی گئی جس میں ٹرانسفر پالیسی،تنخواہ کی باقاعدہ گی، بقایاجات تنخواہوں کے واگزار کئے جانے ،اساتذہ کے مستقل کئے جانے اور نئی پنشن اسکیم کے تحت آنے والے اساتذہ کو پرانی پنشن اسکیم کے دائرے میں لیے جانے کی بھی بات کی گئی ۔ کنوینشن میں وحید احمد بانڈے چیئرمین ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی پونچھ ،عارف راٹھور ،الطاف احمد چوہان نے بھی شرکت کی،جبکہ اس موقع پر ضلع سطح کے عہدے داران ،تحصیل صدور ، ذونل صدور بھی موجود تھے۔
دابڑی بن گوہلدکا پنچایت گھر کھنڈرمیں تبدیل
جاوید اقبال
مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر کے بلاک مینڈھر کی پنچائت دابڑی بن گوہلد کے پنچائت گھر کی حالت نہایت ہی خستہ ہے اور وہ کھنڈر بن چکاہے۔ متعلقہ پنچائت کے سرپنچ محمد شفیق خان کا کہنا ہے کہ تیس سے زائد سال گزر چکے ہیں اس وقت گوہلد علاقہ کی دو پنچائتیں ہوتی تھیں تو یہ پنچائت گھر بنا تھا اب ان دو پنچائتوں کی آٹھ پنچائتیں بن چکی ہیں لیکن تیس سال قبل بنے ہوئے پنچائت گھر کی دوبارہ مرمت نہیں کی گئی اور اب پنچائت گھر کھنڈر نظر آرہاہے جس کا اب نہ دروازہ نہ کھڑکی اور نہ اس میں بیٹھنے کی جگہ ہے۔ انہوں نے محکمہ دیہی ترقی کے اعلی آفیسران سے اپیل کی کہ ہمارا پنچائت گھر دوبارہ بنایا جائے یا اس کو مرمت کرنے کیلئے فنڈ دئے جائیں کیوں کہ پنچائت کا جو بھی کام ہوتاہے وہ کھلے عام یا کسی کے گھر بیٹھ کر کرنا پڑتاہے۔ انکا کہنا تھا کہ ایک بڑی آبادی والی پنچائت کا پنچائت گھر جلد نیا تعمیر کروایا جائے تاکہ جتنے بھی پروگرام پنچائت کے اندر ہوتے ہیں وہ پنچائت گھر کے اندر کروائے جائیں تاکہ لوگوں کو مزید سہولیات دستیاب ہو سکیں انہوں نے مزید کہا کہ پنچائت گھر کو لیکر ہم نے تمام اعلی آفیسران کے علاوہ بیک ٹوویلج میں بھی معاملہ اٹھایا لیکن پنچائت گھر جو ں کہ توں پڑا ہے لہذا لوگوں کو سہولیات دینے کیلئے پنچائت گھر مکمل کروایا جائے ۔
ہل ہنڈیاں مرہوٹ میں ترسیلی لائنیں درختوں کیساتھ آویزاں
جاوید اقبال
مینڈھر//سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کی پنچائت ہل ہنڈیاں مرہوٹ میں بجلی کی ترسیلی لائنیں درختوں کے ساتھ آویزاں ہیں ۔ سرپنچ محمد یوسف نے محکمہ بجلی کے اعلی ملازمین و ریاستی گورنرر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پنچائت کے اندر بجلی کی تاریں درختوں کے ساتھ لکٹی ہوئی ہیں اور کسی بڑے حادثے کو دعوت دے رہی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ انہوںنے بہت بار متعلقہ محکمہ کے اعلی آفیسران اور ضلع کے اعلی آفیسران سے بجلی کے معاملہ کو لیکر بات چیت کی لیکن بجلی کے معاملہ کا حل نہیں ہوسکا ۔انکا کہنا تھا کہ متعلقہ محکمہ کے اعلی آفیسران بس نئی نئی سکیمیں بتا رہے ہیںاور زمینی سطح پر کوئی بھی کا نہیں کررہے ہیں ۔انکا کہنا تھا کہ لوگ کرایہ وقت پر دے رہے ہیں لیکن بجلی کی علاقہ کے اندر خستہ حالت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنچائت کے اندر وارڈ نمبر 7ڈنہ میں ایک بھی پول اس وقت تک نہیں لگاہے لیکن متعلقہ محکمہ کے ملازمین نے لکڑی کے کھمبے اور سر سبز درختوں کے ساتھ بجلی کی تاریں باندھ کر لوگوں سے ہرمہینے کرایہ وصول کررہے ہیں ۔انہوں نے متعلقہ محکمہ کے اعلی آفیسران و گورنرر انتظامیہ سے اپیل کی کہ بجلی کے نظام کو درست کیا جائے ورنہ لوگ احتجاج کرنے پر مجبو رہو جائیں گے ۔
تھنہ منڈی میں سڑکوں کی خستہ حالت
طارق شال // سابق سبکدوش جج اور نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر مظفر اقبال خان نے تھنہ منڈی کی سڑکوں کی خستہ حالت اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہم پر انتظامیہ کو توجہ دینی چاہئے۔ ایتوار کے روز نیشنل کانفرنس لیڈر نے اپنے دیگر کارکنا ن کے ہمراہ تھنہ منڈی کے دیہات کا تفصیلی دورہ کیاجہاں پر لوگوں نے شکائت کی کہ حکومت کے وعدے وفا نہیں ہوئے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈر نے ہسپلوٹ اور منیہال گاوں کا دورہ کیا اور وہاں پر لوگوں کو درپیش مسائل کا جائیزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ تھنہ منڈی کی سڑکوں کی خستہ حالت ہے جنکی تعمیر کے لئے انتظامیہ کو توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا سرکار کے 100 فیصد لوگوں کو بجلی فراہم کرنے کے وعدے وفا نہیں ہوئے ہیں۔ نہ تاریں اور نہ کھمبے دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کئی مقامات پر بجلی کی ترسیلی تاریں سبز درختوں سے آویزاںہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کو بنیادہ سہولیات فراہم کرنے کی طرف توجہ فراہم کی جائے۔
راجوری دیہات میں تلاشی لی گئی
سمت بھارگو
راجوری//فوج اور پولیس نے اتوار کی صبح ضلع راجوری کے تھنہ مندی کے متعدد دیہات میں کا محاصرہ کرکے تلاشی آپریشن عمل میںلایا۔عہدیداروں نے بتایا کہ ایک مخصوص اطلاع پرتھنہ مندی میں واقع راشٹریہ رائفلز بٹالین اور جموں و کشمیر پولیس نے تھنہ مندی تھانے کے دائرہ اختیار میں آنے والے تین سے چار دیہاتوں میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ان گاؤں میں ڈوڈاسن بالا ، ڈوڈاسن پین ، نیروجل شامل ہیں۔فوج اور پولیس دونوں ٹیموں نے مشترکہ طور پر اس آپریشن کا آ غاز سرچ آپریشن اس علاقے میں جاری تھا جب آخری اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔عہدیداروں نے مزید بتایا کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب میں اس علاقے میں کچھ پراسرار آوازیں بھی سنائی دیں جس کے بعد اس علاقے کے لئے سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا گیا۔
مویشی خانہ خاکستر
راجوری// راجوری کے درہال کے گاؤں بڈھانو میں ایک غریب کنبہ کامویشی خانہ خاکستر ہوگیا۔پولیس نے بتایا کہ اتوار کی سہ پہر سہ پہر تین بجے کے لگ بھگ عبد الحق سکنہ بڈھنو کے مویشیوں کے شیڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اور سارا ڈھانچہ آگ میں لپٹ گیا۔راجوری سے پولیس کی ٹیم اور فائر ٹینڈر موقع پر پہنچے اور مقامی لوگوں کی مدد سے فائر فائٹنگ آپریشن شروع کیا گیا ۔اس واقعے میں مویشیوں کا سامان راکھ ہو گیا لیکن اس واقعے میں کسی کے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
راجوری میں سی آر پی ایف جوانوں کو خراج عقیدت
راجوری//راجوری اور پونچھ کی مختلف سماجی ، سیاسی اور ثقافتی تنظیموں نے پلوامہ حملے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے چالیس جوانوں کو یاد رکھنے اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے تقریبات کا انعقاد کیا۔یہ تقریبات مختلف مقامات پر منعقد کی گئیں جن میں ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے حصہ لیا جس میں سی آر پی ایف اہلکاروں کے لئے بھی خاموشی اختیار کی گئی۔برہمن سبھا راجوری کے ذریعہ ناگیش پل کے قریب منعقدہ اسی طرح کے ایک پروگرام میں ، سینئر نمائندے کپل سریال نے کہا کہ پلوامہ حملہ عسکریت پسندی کے خلاف ملک کی طاقت کو بھی بحال کرے گا۔
جموں کے مفاد کے ساتھ کسی سمجھوتہ کی اجازت نہیں دینگے: سلاتھیہ ، رانا
وجئے پور//نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنماؤں سرجیت سنگھ سلاتھیہ اور دیویندر سنگھ رانا نے جموں خطے کے مفادات سے کسی سمجھوتہ کو برداشت کرنے یا اس کی اجازت دینے کی بجائے سیاست چھوڑنے کا عزم کیا۔ سرجیت سنگھ سلاتھیہ کے ساتھ وجئے پور اسمبلی حلقہ کے رام گڑھ علاقے میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا نے کہا "ہم جموں و کشمیر کے تمام خطوں اور سبھی علاقوں کی مساوی ترقی کے حقدار ہیں ، خواہ ذات پات ، نسل ، رنگ ، خطہ یا مذہب سے قطع نظر سب کو ترقی کے مواقع ملیں" ۔ رانا نے جموں کے ساتھ بہادری امتیازی سلوک ، خاص طور پر ترقی اور ملازمتوں کے سلسلے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام خطے کے جائز مفادات کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے والوں کو معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے گذشتہ چھ سالوں کی حکمرانی کے مابین نیشنل کانفرنس کے حکمنامہ کے مختلف منتروں کے ساتھ موازنہ کھینچتے ہوئے کہا کہ حالیہ ماضی میں ترقی کا رجحان گھماؤ پھراؤ پڑا ہے۔صوبائی صدر نے حکمرانی میں کورس کی اصلاح کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت ہوگا جب تمام علاقوں اور ذیلی علاقوں کو حق کی بات کے طور پر اپنا حصہ مل جائے گا۔ کسی بھی خطے یا مذہبی گروہ کو پسماندہ نہیں ہونا چاہئے۔ انھیں امتیازی سلوک اور کمارڈی کے بندھنوں میں باندھنے کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے ساتھ ہی جامو ڈیکلیریشن کی تجویز پیش کی گئی ہے اور کثرت پسند جموں خطے سے پیدا ہونے والا تصور اور بھی اہم ہے کیونکہ وہ لداخ سے وادی تک اور یہاں لکھن پور تک کے تمام علاقوں کو اپنے دائرہ کار میں لائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اعلامیے کے تحت ، خطوں اور مذاہب کے مابین باہمی وجود کا محور بننے والے شبہات اور عدم اعتماد کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اور ریاستی سکریٹری مسٹر سرجیت سنگھ سلاٹیا نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ترقی ، ملازمتوں اور ان کے وقار کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں عوام کے ساتھ اپنی ذمہ داری اور عزم کو پوری طرح سے برداشت کرے گی۔مسٹر سلاتھیہ نے کہا ، "این سی معاشرے کو علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی تمام کوششوں کے خلاف لڑنے کے لئے پرعزم ہے" ۔ انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ جموں و کشمیر امن ، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔سلاتھیہ نے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی سست رفتار اور اس سے خالی آسامیوں کو پْر کرنے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا تاکہ حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے مسئلے کو حل کیا جاسکے۔
گورنمنٹ ڈگری کالج راجوری نے ریڈیو کا عالمی دِن منایا
پی آئی بی سرینگر کے ڈپٹی ڈائریکٹر غلام عباس نے ریڈیو جرنلزم کی بڑھتی افادیت پر روشنی ڈالی
راجوری // سائنس کلب اور نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) گورنمنٹ پی جی کالج راجوری کی اکائی نے عالمی ریڈیو ڈے کے موقع پر ’’نئی دنیا، نیا ریڈیو‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا۔ اس موقعے پر پی آئی بی سرینگر ،حکومت ہند کے ڈپٹی ڈائریکٹر (ایم اینڈ سی) غلام عباس مہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریب پر موجود تھے جبکہ حسن پرویز، سینئر براڈکاسٹر، آل انڈیا ریڈیو جموں اور بھرم پرکاش، سینئر صحافی نئی دہلی ریسورس پرسن تھے۔کالج کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) شکیل احمد رینا نے تقریب کی صدارت کی۔ اپنے کلیدی خطبے میں غلام عباس نے ریڈیو جرنلزم سے وابستہ ارتقاء، جد طرازی اور کیرئیر مواقعوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک نہایت ہی امید افزا ماس میڈیم ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ عام ہوتا جارہا ہے اور طلباء اور نوجوانوں کو اس دلچسپ پیشے کا انتخاب کرنا چاہئے۔ حسن پرویز نے 110برسوں کے اپنے سفر کے دوران ریڈیو کی حصولیابیوں کو اجاگر کیا اور یونیسکو کے عالمی سطح پر اس کو 10 سال سے عالمی یوم ریڈیو ڈے کے طور پر منانے میں ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو کے چاہنے والوں اور معاشرے میں بڑے پیمانے پر رابطے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے سفر کو بدلتی اور ہائی ٹیک دنیا کے اندر آگے بڑھایا جاسکے۔ بھرم پرکاش،نے کمیونٹی ریڈیو کے ظہور اور مقامی مسائل کو حل کرنے اور ثقافت اور زبانوں کو محفوظ رکھنے میں اس کے کردار پر زوم کے ذریعے گفتگو کی۔ پروفیسر شکیل رینا نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ریڈیو ایک صاف میڈیا ہے جو پوری کارکردگی کے ساتھ ان جگہوں تک پہنچتا ہے جہاں پر کوئی دوسرا میڈیا نہیں پہنچ سکتا۔ ریڈیو معلومات، تفریح اور جدت کا ایک مکمل وسیلہ ہے، اور طلباء اور نوجوانوں کو اس کے بے شمار پروگراموں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کالج کی تاریخ میں پہلی بار اس طرح کے منفرد پروگرام کے لئے پہل کرنے پر منتظمین کی تعریف کی۔ اس موقع پر پروفیسر اقبال رینا نے بھی خطاب کیا۔
تریکوٹا نگر میں فائرنگ کرنے والے شخص کو پستول کیساتھ پکڑا گیا
جموں // پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے جس نے تریکوٹا نگر میں فائرنگ کی تھی۔پولیس نے بتایا کہ "کچھ نامعلوم افراد نے تریکوٹا نگر میں واقع جنوبی ایکسٹن میں گیارہ بجے کے قریب کچھ گولیاں چلائیں جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا"۔پولیس نے بتایا کہ واقعے کے بعد انہوں نے تفتیش شروع کی اور موقع سے ہی ایک ایسے شخص کو گرفتار کرلیا ، جس نے پولیس ٹیم کو جھوٹی کہانی پیش کرکے چکمہ لگانے کی کوشش کی تھی اور کچھ افراد کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے تریکوٹہ نگر میں ساؤتھ ایکس ٹینشن کے رہائشی چمن کیت عرف روحان ولد موہن لال کیتھ کو مارنے / دھمکی دینے کے لئے اپنے لائسنس یافتہ پستول سے گولیاں چلائیں تھیں کیونکہ اس کے اور اس کے درمیان کچھ تنازعہ چل رہا تھا۔اسے فوراً ہی گرفتار کرلیا گیا اور اس کے انکشاف پرموقع سے 3 زندہ راؤنڈ کے ساتھ جرم کا ایک ہتھیار (.32 بور پستول) برآمد ہوا۔پولیس نے مزید کہا "اس واقعے میں ، چمن کیت کسی بھی طرح کا نقصان نہیں پہنچا۔"
نیلی نار منجا کوٹ میں مواصلاتی سہولت نہیں
پرویز خان
منجاکوٹ//تحصیل منجاکوٹ کا نیلی علاقہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔علاقہ میںایک بھی موبائل ٹاورنہیں ہے اور علاقہ رابطہ سڑک سے بھی محروم ہے جبکہ پانی جیسی سہولت دستیاب نہیں ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں نیٹ ورک موجود نہیں ہے اور ان کو ایک کلو میٹر یا دو کلو میٹر دور جا کر فون کال کرنی پڑتی ہے ۔مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک طرف سرکار دعویٰ کرتی ہے مگر کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں موبائل نیٹ ورک ہی موجود نہیں اور زیادہ تر علاقے سہولیات سے محروم ہیں ۔لوگوں کا کہنا تھا کہ مزید ٹاور لگائیں تاکہ لوگوں کو نیٹ ورک سہولت فراہم ہو سکے۔
انڈور سٹیڈیم کوٹرنکہ مکمل محکمہ کھیل کو سونپنے میںتاخیر
محمد بشارت
کوٹرنکہ// سب ڈویڑن کوٹرنکہ تحصیل بدھل میںکھیلو انڈیا کے تحت تعمیر کیاگیا انڈور سٹیڈیم مکمل ہونے کے باوجود بھی محکمہ کھیل کود کو سونپا نہیںجارہاہے۔ 2017 کو یہ انڈور سٹیڈیم کھیلو انڈیاکے تحت دیا گیا تھا جو کہ اب مکمل ہوچکا ہے اور دیری صرف محکمہ کھیل کو سونپنے کی ہے۔یہ سٹیڈیم کوٹرنکہ اور اس کے آس پاس کے علاقہ کے نوجوان نسل کے لیے لئے بہت ہی فائدہ مند ثابت ہو گا کیونکہ اگر سب ڈویڑن کوٹرنکہ کی بات کی جائے تو اس کے آس پاس کہیں بھی ابھی تک کوئی کھیل کا میدان نہیں تھا جس سے نوجوانوں کو کھیل کھیلنے کے لئے مواقع فراہم نہیں ہوتے تھے اور اب اس سٹیڈیم کے بننے سے سے ہر ایک نوجوان جو کھیل میں دلچسپی رکھتا ہے وہ اپنے خواب پورا کر سکتا ہے۔ اس سٹیڈیم کے اندرونی احاطے کی تو دو طرح کے چار "کوٹس" بنائے گئے ہیں جس میں تین بیڈمنٹن، ایک باسکٹ بال، ایک والی بال کا کوٹ ہے اور اس کی اونچائی لگ بگ 55 فٹ ہے جس میں بیڈمنٹن، والی بال اور باسکٹ بال جیسے کھیل کھلائے جا سکتے ہیں۔ جے کے پی سی سی کے منیجر "وویک شرما بتایاکہ یہ سٹیڈیم اب صرف محکمہ کھیل کو سونپنے کی دیری ہے اور جلد ہی اس کو محکمہ کھیل کو سونپا جائے گا۔
کشمیری پنڈتوں کے بغیر کشمیر ادھورا:دلاور میر
جموں//اپنی پارٹی نے وارڈ نمبر32تریلوک پور میں کشمیری پنڈت برادری کے لیڈران اور ورکروں کی ایک میٹنگ کا اہتمام کیا جس میں سابقہ وزیر اور سنیئرلیڈر محمد دلاور میر کے علاوہ جنرل سیکریٹری وجے بقایہ نے شرکت کی۔ پروگرام کا اہتمام اپنی پارٹی ریاستی مورچہ لیڈر ونود پنڈیتہ، سنجے دھر، ویشال جوتشی اور وائی بہو مٹو نے کیاتھا۔اس موقع پر بولتے ہوئے محمد دلاور میر نے کہاکہ کشمیری پنڈت کشمیریت کا ناقابل ِ تنسیخ حصہ ہیں اور کشمیر اُن کے بغیر نامکمل ہے۔ وہ کشمیری پنڈت برادری کو نقل مکانی کی وجہ سے درپیش مشکلات ومسائل سے بخوبی واقف ہیں ۔ انہوں نے یقین دلایاکہ اپنی پارٹی اُن کے مسائل کو حکومت ِ ہند اور لیفٹیننٹ گورنر جموں وکشمیر کے ساتھ اُٹھائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی ایک بڑا سانحہ تھا اور کشمیری مسلم جوکہ ہم آہنگی وبھائی چار ہ کے ساتھ رہتے تھے، وہ اُن کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جیسے وہ پہلے اُن کے ساتھ رہتے تھے، دوبارہ رہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ جموں وکشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال میں اُن کا کردار انتہائی اہم ہے۔انہوں نے اس موقع پر پارٹی میں شامل ہونے والوں کا خیر مقدم کیا اور اُمید ظاہر کی کہ اُن کی شمولیت سے زمینی سطح پر پارٹی مزید مضبوط ہوگی۔ وجے بقایہ نے بھی خطاب کیا اور پروگرام میں بڑھ چڑھ کر شرکت کرنے پر سنیئرعہدیداران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ اپنی پارٹی کشمیری پنڈتوں کے مسائل ومشکلات کو حل کرانے کے لئے ہرممکن کوششیں کرے گی۔ ونود پنڈیتہ، سنجے دھر اور ڈیزی دھر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کے مطالبات اُجاگر کرتے ہوئے ماہانہ نقد امداد 13ہزار سے بڑھا کر25ہزار کرنے، پنجاب حکومت کی طرز پرفی کنبہ ایک سرکاری نوکری فراہم کرنے، سیاسی ریزرویشن دینے، وزیر اعظم پیکیج کے تحت واد ی میں کام کرنے والے ملازمین کے لئے اضافی رہائش کی تعمیر کرنے، ووٹرفہرستوں کی تصحیح وتجدیداور وادی میں واپس کشمیری پنڈتوں کی خواہشات کے مطابق اُن کی بازآبادکاری کی مانگ کی۔
گوجر بکروالوں کی سماجی ومعاشی ترقی کیلئے جامع منصوبہ مرتب کیاجائے:اعجاز خان
سیاسی ریزرویشن، خصوصی بی پی ایل سروے اور گوجر بکروال بٹالین کے قیام کا مطالبہ
ریاسی// اپنی پارٹی نائب صدر اعجاز احمد خان نے گوجر بکروال طبقہ کی بہتری کے لئے جامع منصوبہ مرتب کرنے، سیاسی ریزرویشن اور خانہ بدوش کنبوں کے لئے مکانات ورہائشی کالونیوں کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک پریس بیان میں خان نے کہاکہ بے گھر خانہ بندوش کنبوں کے لئے پردھان منتری آواس یوجنہ کے تحت خصوصی پیکیج اُن کی سماجی ومعاشی بہتری کے لئے فائیدہ مندثابت ہوگا جنہیں سالوں سے نظر انداز کیاگیاہے۔انہوں نے درجہ فہرست قبائل کے حق میں سرکاری اراضی کی ریگولر آئزیشن کا مطالبہ کیا جوکہ اِس پر کاشت کر رہے ہیں، جس پر اُن کی روزی روٹی کا انحصار ہے۔ انہوں نے کہاکہ بالائی ونچلے علاقوں میں شفاف نقل وحمل کے علاوہ متعلقہ حصہ داروں کے ساتھ صلاح ومشورہ سے ریاستی سطح پر کاہچرائی پالیسی مرتب کی جائے۔اسی طرح اعجازاحمد خان نے جموں سرینگر قومی شاہراہ کے آس پاس راستے تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا جنہیں خانہ بدش کنبہ جات نقل مکانی کے دوران استعمال کریں۔ انہوں نے خانہ بدوشوں کے صحت متعلق مسائل پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے بہتر صحت نظام اور آئی سی ڈی ایس کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے گوجر بکروال طبقہ جات کی اقتصادی بہتری کے لئے ضلع اور سب ضلع سطح پر شاپنگ کمپلیکس کی تعمیر کی جائے۔ جموں اور سرینگر میں گوجر بھوان تعمیر کیاجائے۔ بھیڑ اور بکری فارم کے لئے خصوصی اسکیمیں بنائی جائے۔ بی پی ایل دینے کے لئے خصوصی سروے بھی کرایاجائے۔
منگت کا وفد ڈپٹی کمشنر رام بن سے ملاقی، مسائل حل کرنے کا مطالبہ
محمد تسکین
بانہال // ضلع رام بن کے تحصیل کھڑی کے دور دراز علاقہ منگت کا ایک وفد ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن مسرت الاسلام سے ملاقی ہوا اور انہیں تحصیل کھڑی کے دور افتادہ علاقہ منگت کی عوام کو درپیش مسائل سے آگاہ کرایا۔ وفد نے ڈپٹی کمشنر رام بن کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں مہو منگت کو سیاحتی نقشہ پر لانے کی کاوشوں کیلئے ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن مسرت الاسلام کا شکریہ ادا کیا۔وفد میں شامل سماجی کارکن عبدالجبار میر نے کہا کہ مہو منگت کو سیاحتی نقشہ پر لانے کیلئے ضلع انتظامیہ رام بن کی طرف سے کی جارہی کوشش قابل ستائش ہے۔وفد نے ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن مسرت الاسلام سے کئی مانگیں کی ہیں جن میں گوجر بستی باوا سے منگت تین کلو میٹر رابطہ سڑک کو تعمیر کیا جائے تاکہ عوام کی دیرینہ مانگ کی تکمیل ہو۔ انہوں نے پرائمری ہیلتھ سینٹر منگت میں خالی پڑی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی اسامیوں کو پر کرنے ، ہائی سکول منگت میں سٹاف کی کمی پورا کرنے اور علاقہ منگت میں جموں و کشمیر بینک کی ایک شاخ کے قیام کا بھی مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے زیر برف بانہال منگت رابطہ سڑک کو بھی جلد از جلد قابل آمدورفت بنانے کی بھی حکام سے اپیل کی۔ وفد نے ڈپٹی کمشنر رام بن کو علاقے کا دورہ کرنے کی بھی دعوت بھی دی۔ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے وفد کے تمام مطالبات غور سے سننے کے بعد وفد کو یقین دلایا کہ وہ تمام مطالبات کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرینگے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ڈاکٹرشمشادہ شان اورچوہدری سخی کا | ایڈوکیٹ جی ایم شان کیساتھ اظہار تعزیت
گول//گول کے معروف سیاسی شخص و صحافی ایڈوکیٹ جی ایم شان کی اہلیہ کی وفات پر ڈی ڈی سی ممبرسنگلدان و نیشنل کانفرنس کی لیڈر ڈاکٹر شمشادہ شان اور ڈی ڈی سی ممبر گول چوہدری سخی محمد نے جملہ لواحقین بالخصوص جی ایم شان ، نائب تحصیلدار جاوید اقبال شان کے ساتھ ہمدردی جتائی اور کہا کہ ہم غمزدگان کے دْکھ میں برابر کے شریک ہیںاور رب ِ کائنات سے دعا گو ہوںکہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو کروٹ کروٹ جنت الفروس عطا کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔ مرحومہ ایک نیک بخت خاتون تھی اور علاقہ میں اس کی وفات پر کافی غم چھایا رہا ۔