ڈوڈہ میں صحتیابی کی شرح میں اضافہ | بدھ کو 52 نئے مثبت معاملات ،77 مریض شفایاب
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //پچھلے دو ہفتوں سے ڈوڈہ ضلع میں کورونا وائرس متاثرین میں کمی آئی ہے اور صحتیابی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ بدھ کے روز ڈوڈہ، بھدرواہ، عسر ،ٹھاٹھری و گندوہ میں ہوئی کوؤڈ جانچ کے دوران 52 افراد کی رپورٹ مثبت آئی ہے اور 77 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد 1087 رہ گئی ہے جن میں سے 30 کو ہسپتال آئیسو لیشن و 1057 افراد کو خانہ قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 4659 پہنچ گئی ہے۔ضلع میں اب تک کورونا وائرس سے 90 افراد فوت ہو چکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پی ایچ سی ملانوں میں ڈاکٹروں کی کمی | مقامی لوگوں نے محکمہ صحت کے خلاف کیا احتجاج
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ کی تحصیل کاہرہ واقع پی ایچ سی ملانوں میں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کو لے کر مقامی لوگوں نے محکمہ کے خلاف احتجاج بلندکرتے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے و عوام کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہسپتالوں و طبی مراکز میں بنیادی ڈھانچہ مضبوط کیا جاتا ہے لیکن پرائمری ہیلتھ سینٹر ملانوں سے ڈاکٹروں کو اٹیچ کیا ہے اور بیس ہزار آبادی کے لئے 1 ایم بی بی ایس ڈاکٹر موجود ہے۔سماجی کارکن و ممبر پنچائت رفاقت میر، محمد رفیق و پرویز احمد نے میڈیا کو بتایا کہ دو ڈاکٹروں کی بناء کسی وجہ کے اٹیچ کر رکھا ہے اور ڈینٹل ڈاکٹر نے جوائن نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ ڈاکٹروں کی تنخواہیں ملانوں سے نکلتی ہیں لیکن ڈیوٹی کہیں اور دیتے ہیں۔مقامی لوگوں نے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کووڈ کے بحران کے دوران غریب لوگ باہر نکل نہیں سکتی ہے اور کسی بھی قسم کی ایمرجنسی میں پی ایچ سی کا ہی رخ کیا جاتا ہے لیکن ڈاکٹروں کی کمی کے باعث انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈسپنسری میں موجود ادویات کو بھی لوگوں میں تقسیم نہیں کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے حکام سے ڈاکٹروں کی اٹیچمنٹ منسوخ کرنے و پرائمری ہیلتھ سینٹر ملانوں میں بنیادی سہولیات دستیاب رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ابتدائی سکولوں کے سربراہوں کیلئے آن لائن تربیت ختم
جموں // جموں کے چھ تعلیمی زونوںجموں، گاندھی نگر ، ستواری ، مڑھ ، بلوال اور پرمنڈل کے چھ زونوں میں انتظامی مہارت اور قائدانہ خصوصیات پر بیس روزہ آن لائن ٹریننگ ابتدائی اسکولوں کے سربراہان کے لئے ڈی ای ای ٹی جموں کے زیر اہتمام اختتام پزیر ہوگئی۔تقریبا ً 370 اساتذہ ، چھ زون کے ماسٹرز نے اپنے اپنے زون کے شیڈول کے مطابق تربیت میں حصہ لیا۔پرنسپل ڈی ای ای ٹی جموں ، روشن لال نے اس تربیتی پروگرام کا افتتاح کیا اور ڈی ای ای ٹی کے ماہر فیکلٹی ممبران بشمول ایچ او ڈی کے این پی سنگھ ، ایچ ایس چوہان ، ریٹا شرما پونم شرما ، تریپتا مانئال ، نگہت پروین ، شوبھا کیرتی ، اور سینئر لیکچرر وینے کھجوریا ، امرجیوٹی کور اور سوگند کے ساتھ تکنیکی ٹیم کے ہمراہ سورب بخشی اور انکیت مہاجن نے تربیتی سیشن کا انتظام کیا۔ شرکاء نے اس وبائی وقت کے دوران ایسی آن لائن ٹریننگ کے ذریعہ اپنے علم کو تقویت بخش اور تازہ کرنے کے لئے ڈی ای ای ٹی جموں کی کاوشوں کو سراہا۔پرنسپل ڈی آئی ای ٹی جموں نے تربیتی پروگرام کی نگرانی کی اور سیشنوں کے دوران شرکا کے سوالات بھی حل کیے۔
میترارام بن میں بیلی معطلی پْل کی تزئین و آرائش کا منصوبہ
رام بن//ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے بیلی معطلی برج میترا کا معائنہ کیا اور اس کی حالت اور دیکھ بھال کے بارے میں ضلعی افسران اور انجینئرز سے موقع پر تبادلہ خیال کیا۔پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ رام بن پی ڈی نتیا،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہربنس لال،ایگزیکٹو انجینئر پی ڈبلیو ڈی اور دیگر سینئر افسران اس موقع پر موجود تھے۔ بحث کے بعد ایل جی کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر کے حالیہ دور ہ رام بن کے دوران جاری کردہ ہدایات کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا کہ رام بن شہر کے دو اطراف کو جوڑنے میں اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بیلی پل کی مرمت اور تزئین و آرائش ضروری ہے۔ڈی سی نے محکمہ پی ڈبلیو ڈی کو ہدایت کی کہ وہ اس کی مرمت اور تزئین و آرائش کے امکانات تلاش کرے تاکہ اسے قابل اعتماد بنایا جاسکے اور مقررہ مدت کے اندر اس کی تجویز پیش کریں۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ بی آر او نے میترا ، رام بن کو ندی چناب کے اوپر بیلی معطلی کا پل غیر محفوظ قرار دے دیا ہے ، حفاظتی اقدام کے طور پر پل پر صرف ہلکی موٹر گاڑیوں کی اجازت ہوگی۔
آگ کے واقعہ کو ٹالاگیا
رام بن//بٹوت کے دھرمنڈ میں الیکٹرک ٹرانسفارمر ورکشاپ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ قریبی کیمپ سے آنے والے آرمی کے جوان فوری طور پر مدد کے لئے پہنچ گئے اور آگ بجھانے والے آلات اور کارکنوں کا استعمال کرکے آگ پر قابو پالیا۔ دھرمونڈ میں فوج کے فوری جوابی کارروائی نے آگ پر قابو پالیا اور دو گھنٹے کی کوششوں کے بعد پڑوسیوں کے گھروں میں پھیلنے سے روک لیاگیا۔ آگ میں آرمی کے جوان ورکشاپ میں داخل ہوئے اور کسی بھی دیہاتی کو کوئی چوٹ نہ ہونے کے ساتھ سب کی سلامتی حاصل کرلی۔
مفتی فیض الوحید کے انتقال پر تعزیت کا اظہار
مرحوم کا والہانہ انداز میں خراج عقیدت پیش
کشتواڑ // مرکزی مجلس شوریٰ ضلع کشتواڑ نے مفسر قرآن مرحوم فیضِ الوحید کی وفات پر دکھ کا اظہار کیاور پسماندگان کے ساتھ اظہار تعزیت کیا۔بیان کے مطابق مرحوم کا مقام دینی حلقوں میں صف اول کے بزرگوں میں تھا،گلشن ہستی میں جن قابل قدر شخصیات نے اپنے علم وعمل اور خون جگر سے چمن کی آب پاشی کی ہے اور رہتی دنیا تک کے لیے اپنی حیات مستعار کے بیش قیمت نقوش انسانی دلوں پر مرتسم کیے ہیں ان میں ایک نمایاں نام مرحوم کابھی ہے انکی علمی خدمات ناقابل فراموش اور رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ہلال ہیلتھ کیئر سوسائٹی کشتواڑ نے بھیم مفتی فیضِ الوحید کی رحلت پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ سوسائٹی کے دفتر میں میں ایک تعزیتی مجلس کا انعقاد کیا گیا جس میں مرحوم کی دینی ، سماجی اور علمی خدمات کو یاد کیا گیا۔ اس موقع پر مرحوم کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حاضرین نے کہا کہ جموں کشمیر کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں بچوں کی جو علمی اور دینی رہبری اور رہنمائی موصوف نے کی وہ ناقابل فراموش ہے، انکی دینی اور علمی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ اس موقع پر ایک اجتماعی دعائیہ مجلس کاانعقاد کیا گیا اور مرحوم کے بلند درجات کیلئے فاتح خوانی اوردعا کی گئی۔
باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کا داخلہ عمل
پہاڑی زبان بولنے والے طبقہ کو ریزرویشن نا دینا غیر آئینی:رقیق احمد خان
جموں//اپنی پارٹی یوتھ ونگ جموں وکشمیر نائب صدر اور میڈیا کارڈی نیٹر رقیق احمد خان نے حکومت پرزور دیا ہے کہ باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں تعلیمی سال 2021-22کے لئے مختلف کورسز میں جاری داخلہ عمل میں ریزرویشن دی جائے۔ یہاں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ بدقسمتی کا مقام ہے کہ راجوری یونیورسٹی نے پہاڑی طلبا کو داخلہ میں حکومت کی طرف سے منظور کردہ چارفیصد ریزرویشن نہیں دی، یہ جموں وکشمیر میں رہائش پذیر پہاڑی زبان بولنے والے لوگوں کے ساتھ نا انصافی اور حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ تمام مخصوص طبقہ جات بشمول پہاڑی طبقہ کو داخلہ کے لئے نوٹیفائی کیاگیاہے اور انہیں متعلقہ زمرہ میں میرٹ کے حساب سے مناسب جگہ ملنی چاہئے، البتہ یونیورسٹی انتظامیہ اِس کے برعکس کر رہی ہے کہ اور داخلہ عمل کے دوران دی جارہی ریزرویشن میں پہاڑی زبان بولنے والے طبقہ جات کو بھی رکھاگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’یہ پہاڑی زبان بولنے طبقہ کے تئیں یونیورسٹی انتظامیہ کا متعصبانہ رویہ ہے جوکہ ریزرویشن کٹاگری کے تحت طبقہ کو حاصل آئینی حقوق سے محروم رکھ رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایاکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے تعلیمی سال 2021-22کے لئے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگراموںداخلہ کے لئے جونوٹیفکیشن نکالاگیا ، اُس میں پہاڑی زبان بولنے والے طلبا کے لئے کوئی نشست مخصوص نہ رکھی گئی ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے گذارش کی ہے کہ وہ معاملہ کی تحقیقات کرائیں کہ کیوں پہاڑی بولنے والے طلبہ کو ریزرویشن نہیں دی گئی اور یونیورسٹی کی طرف سے مختلف داخلہ کورسز میں داخلہ عمل کے دوران PSPکٹاگری کو شامل نہ کیاگیا۔ انہوں نے کہاتعلیم کی اِس اعلیٰ دانشگاہ سے اِس طرح کی تنگ نظری اور تعصب کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔