گول سب ڈویژن میں پانی کی ہاہا کار
انتظامیہ کے وعدے بھی سراب ثابت ہوئے
زاہد بشیر
گول//آئے روز گول میں پینے کے پانی کی شدید قلت سے لوگ کافی پریشان ہیں اور آج کل گرمیوں میں جہاں ماہ صیام بھی ہے وہیںتیز دھوپ اور پانی کی نایابی نے مزید لوگوں کو نڈھال بنا کررکھ دیا ہے۔ پورے سب ڈویژن میں پانی کی ہاہا کار سے اگر چہ انتظامیہ بخوبی واقف ہے لیکن کچھ کرنے سے قاصر ہے ۔ لوگوں کے کئی وفود نے ایس ڈی ایم اور تحصیلدار گول سے بھی ملاقاتیں کیں لیکن کوئی اثر دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے ۔ جہاں جہاں سے پانی کے چشموں سے لایا جاتا ہے اور حوضوں میں جمع کیا جاتا ہے ۔اگر وہاں کی حالت کو دیکھی جائے تو پانی تو کیا یہاںدیکھنے کو بھی جی نہیں کرتا ہے اتنی گندگی اور گندی نالیوں سے پانی جمع کر کے لوگوں کو پلایا جاتا ہے ۔ کسی ایک چشمے کو بھی محکمہ نے صاف نہیں کیا بلکہ ندی نالوں سے آنے والا سارا ملبہ ان چشموں میں جاتا ہے ۔ ان چشموں کو کی حد بندی کرنے کے لئے خزانہ عامرہ سے بھی رقوم آئی لیکن گئی کہاں اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے ۔ تقریباً دو برس قبل آستان کنڈ کے نزدیک ایک چشمے کو کور کرنے کے لئے ٹینڈر بھی ہوئے تھے لیکن ٹھیکیدار نے اسے تعمیر نہیں ۔ساٹھ سال کی پرانی پائپیں کئی جگہوں پر لگی ہوئی ہیں لیکن ان کو آج تک دیکھا تک نہیں ، وہیں ان ہی جنرل لائنوں سے کئی کنکشن بھی نئے نکالے گئے لیکن پانی کی مقدار پیچھے سے وہی ساٹھ سال پہلے کی ہے ۔ پینے کے صاف پانی کے لئے اگر چہ سرکار کروڑوں خرچنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن زمینی سطح پر بُرا حال ہے ۔ کئی جگہوں پر لوگوں کو چوبیس گھنٹے پانی فراہم کیا گیا ہے اور یہ پانی دن بھر ضائع ہوتا ہے اس پانی کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے بھی یہاں پر بڑی بڑی سیاسی پہنچ ہونی چاہئے محکمہ یہاں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا ہے ۔ جہاں پر چوبیس گھنٹے پانی ہوتا ہے ۔اگر اس کو تقسیم کیاجاتا تو مزید دوگنا زیادہ گھروں کو یہی پانی جاتا لیکن محکمہ ایسا کرنے سے قاصر ہے ،محکمہ صحت عامہ کی نیت یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو بہتر پانی سپلائی کرے اور جہاں زیادہ پانی ہو وہاں اُس کو تقسیم کرے اور مزید گھروں کو پانی کی قلت سے نجات دلائے بلکہ محکمہ کے آفیسران کو وہاں کی فکر لگی رہتی ہے ۔ سب ضلع ہسپتال گول کے نزدیک ایک بور ویل سے پانی حاصل کرنے کے لئے محکمہ نے پائپیں تو لگائیں لیکن یہاں پر پمپ کی قلت ہے جس کے لئے سرکار کے پاس رقوم نہیں ہے اور ان رقوم کو لانے کے لئے کوئی قدم اٹھایا نہیں جا رہا ہے اور ایک سال سے آج کل آج کل کیا جاتا ہے کہ یہاں پر پمپ لایا جائے گا لیکن ابھی تک پمپ نہیں آیا اور لوگ پانی کی قلت سے نڈھال ہو رہے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ کو نیک نیتی سے کام کرنا چاہئے اور انتظامیہ کو لوگوں کے مسائل دور کرنے کے لئے اپنے فرائض نبھانا چاہئے ۔
ریاسی میں ایس بی ایم پر ورکشاپ کا اہتمام
زاہد ملک
ریاسی//ضلع انتظامیہ کی جانب سے ریاسی میں سوچھ بھارت مشن پر ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ۔ورکشاپ کاانعقاد ضلع انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو سوچھ بھارت مشن کے بارے میں جانکاری دینا تھا جس میں بی ڈی اوز، وی ایل ڈبلیوز، جی آرز، اور محکمہ صحت کی آشائوں نے شرکت کی۔اے ڈی سی رمیش چندر ،اے سی ڈی ایم وائی ملک، ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ ،ڈی پی او ریاسی پرویندر کور اور آشائوں کی ایک بڑی تعداد نے اجلاس میں شرکت کی۔اے ڈی ڈی سی نے فیلڈ عملہ پر زور دیا کہ وہ ضلع کو کھلے میں پاخانہ سے پاک قرار دینے کے لئے کام کریں۔اے سی ڈی نے اپنے خطاب میںآشائوں سے کہا کہ وہ لو گوں میں بیداری پھیلانے میں ایک اہم رول نبھائیں اور لوگوں کو گھروں میں ٹائیلٹ کی تعمیر کی ترغیب دیں تاکہ ضلع کھلے میں پاخانہ سے پاک قرار دیا جا سکے۔ڈی پی او ریاسی نے آشائوں کے رول کی اہمیت اجا گر کی۔پروگرام کے اختتام پر شرکا نے ضلع کو کھلے میں پاخانہ سے پاک رکھنے کی حلف لی۔
ریاست بحرانی صورتِ حال سے دوچار :کانگریس
مخلوط سرکار کی ناکامی نے بد ترین حالات پیدا کر دئے
محمد اسحٰق عارف
ڈوڈہ//ریاست جموں کشمیرکی موجودہ صورت حال آزادی کے بعد کی سب سے بدترین صورت حال ہے ۔ریاستی مخلوط سرکار کی مکمل ناکامی نے ریاست کے طول و عرض میں بحرانی حالات پیدا کر دئیے ہیں اور بنیادی سہولیتوں کا فقدان ہے ۔ان باتوں کا اظہار کانگرس جماعت کے کارگزار نائب صدر ڈوڈہ نے کیا۔ اْنہوں نے بتایا کہ ریاست اس وقت بحرانی صورتِ حال سے دوچار ہے ہر طرف احتجاجوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ بھی جاری ہے ، مختلف محکمہ جات سے وابستہ ملازمین نے سرکار کی غیر سنجیدہ پالیسیوں سے تنگ آکر دفاتر اسکول چھوڑ کر سڑکوں پر آ نا شروع کر دیا ہے جو ناانصافی کی ایک بڑی مثال ہے ۔موجودہ سرکار نے عام آدمی سے لے کر ملازم تک کا جینا حرام کر دیا ہے تنخواہوں کی واگزاری کو لے سرکاری اْساتذہ سڑکوں پر آکر تنخواہ مانگ رہے ہیں جو کہ اْن کا بنیادی حق ہے مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے جب معمار قوم بھی سلامت نہ رہے ۔انہوں نے بتایا کہ آج شہر و گام میں تقریباً اسّی فیصدی سکول تالا بند ہیں جس کی وجہ اْساتذہ کی تنخواہوں کی عدم فراہمی ہے اگر ایسا چلتا رہا تو وہ دِن دور نہیں جب ملازمین دفاتر میں کم اور اپنے حقوق کی لڑائی کے لئے سرکار سے آر پار کرنے کے لئے سڑکوں پر ہوں گے ۔سرکاری ناکامی کی وجہ سے تعلیمی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے سرکار کو چاہیے کہ اْساتذہ کو جلد از جلد ساتواں پے کمیشن کے زمرے میں لایا جائے اور گزشتہ چار ماہ سے بند پڑی تنخواہ کو واگزار کیا جائے چونکہ اِن کے احتجاج سے بچّوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے اگر چھ ماہ احتجاج میں نکل جائیں گے تو ہمارے بچّوں کا مستقبل برباد ہو جائے گا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ ڈوڈہ میں دیہی ترقی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے غریب دہاڑی دار مزدران فاقہ کشی کا شکار ہیں مگر بدقسمتی سے سرکار کی آنکھیں نہ جانے کب کھلیں گی غریب اپنے بچّوں کے لئے مہنگائی کے اس قہر میں کیسے روز مرّہ کی ضروریات کو پورا کریں گے۔اگر چہ نریگامیں کبھی کبھار اجرت کی واگزاری کی بھی جاتی ہے تو سرکار کے منظور نظر لوگوں کو ہی فائدہ پہنچایا جاتا ہے جبکہ مستحق جاب کارڈ ہولڈر کا حق اْس سے چھینا جا رہا ہے۔اس کے بعد سب سے بڑا مسئلہ پٹواریوں کا ہے جو گزشتہ بائیس روز سے مسلسل احتجاجی دھرنے پر ہیں بدیں وجہ محکمہ مال کا تمام کام کاج درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے ۔لوگوں کے کام احتجاج کی نظر ہو گئے ہیں لیکن سرکار ہمیشہ کی طرح بہانہ بازی پر تْلی ہے اس سرکار نے عوام کو ہر محاذ پر مشکلات کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے اور سرکار کی لاپرواہی کی چکّی میں عام آدمی کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے۔اْنہوں نے کہا کہ پوری کانگرس جماعت پٹواریوں ،رہبر تعلیم اْساتذہ و محکمہ دیہی ترقی کے متاثرین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ضرورت پڑنے پر اْن کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے تیار ہے اس لئے سرکار کو خبر دار کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ مسائل کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے تاکہ عوام کومزید مشکلات سے دوچار نہ ہونے پڑے ۔انہوں نے بتایا کہ کانگرس دور میں شعبہ تعلیم میں اس قدر احتجاج سکول بند ،پٹواریوں کا کام چھوڑ ہڑتال والا سلسلہ کبھی پیش نہ آیا اور جو مسائل اجاگر ہوتے بھی تھے اْن کا بروقت ازالہ کیا جاتا تھا مگر ناجانے کس سوچ کو لے کر پی۔ڈی۔پی ،بی۔جے۔پی سرکار نے مسائل کا ازالہ نہ کرنے کی ٹھان لی ہے اور دعویٰ ترقی کے کئے جاتے ہیں جو زمینی سطح پر دور دور تک دکھائی نہ دیتے ہیں بلکہ ریاست کے اطراف و اکناف میں عوام کے ساتھ ناانصافی کی گونج سْنائی دیتی ہے ۔اگر سرکار نے عوام کو راحت پہنچانے کے لئے مواثر اقدامات نہ کئے تو بہت جلد کانگرس جماعت ڈوڈہ کے عوام کے ساتھ سڑکوں پر آکر احتجاج کریں گے جس کے بعد کی صورت حال کے لئے سرکار خود ذمہ دار ہو گی۔
ملاڑمیں نل سازی کی تربیت کا اہتمام
کشتواڑ//انڈین آرمی نے ضلع کے ملاڑ خطہ میںنوجوانوں کے مستقبل کے تئیں مشبت رول نبھانے کے لئے ملاڑ میں نل سازی کی تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ان تربیتی کلاسوں کا مقصد مقامی لوگوں کو تربیت یافتہ اور پیشہ وارانہ انسٹرکٹروں سے نل سازی کے بنیادی ہنر کی تربیت فراہم کرنا تھا۔اس تربیت سے ضلع کے دور افتادہ علاقہ کے نوجوانوں کو تربیت فراہم کرکے اور انہیںہنر مند بنا کر روزگار کے قابل بنانیسے انہیں مالی طور سے خود مختار اور مستحکم بنا کر انہیں قومی دائرہ میں لانے کی ایک کوشش ہے۔کمزور طبقہ سے وابستہ نوجوانوں کو اس تربیت کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔فوج کی جانب سے اس تربیت کا مقصد ان نوجوانوں کو اپنے روزگار کے لئے خود کفیل بنانا ہے۔تربیت حاصل کرنے والے ایک نوجوان نے کہا کہ اس ترنبیت سے علاقہ کے نوجوان مالی طور سے خود کفیل ہونگے۔ مقامی لوگوں نے فوج کی اس پہل کی ستائش کی اور فوج کی جانب سے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنے پر انکا شکریہ ادا کیا۔
مہور میں راشن کی قلت
دو دن کے اندر راشن مہیا کیا جائے گا ،ٹی ایس او مہور کی یقین دہانی
زاہد ملک
مہور//مہور کے الگ الگ مقامات سے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں دو تین ماہ کی راشن ہی نہیں ملا۔لوگوں کا کہنا ہے رمضان کا مہینہ چل رہا ہے اور لوگوں کو راشن کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرکار نے رمضان کے مہینے میں اضافی ایک ایک کلو کھانڈ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن لوگوں کو وہ بھی نہیں ملا۔ان حالات میں عوام نالاں ہے کہ اس متبرک مہینے میں محکمہ لاپرواہی سے کام کررہا ہے ۔ستم زریفی تو یہ ہے کہ لوگوں کو سٹوروں سے اٹھا کر راشن اپنے گھروں پر پہنچانا پڑتا ہے۔یہاں ساڑھ پنچایت کے ڈاکہ برنی کے ایک ڈیلر نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا اگرچہ بگا سے برنی ان کو محکمہ کی جانب سے 195 روپے فی کونٹل ملتا ہے اور مزدور انہیں 300روپے فی کونٹل لیتا ہے جس سے ڈیلروں کا نقصان ہوتا ہے۔برمیدار، چسوت ، نہوچ اور ارناس، درماڑی، چسانہ کے کئی ایک مقامات سے لوگوں نے شکایت کی ہے انہیں راشن نہیں ملا۔لوگوں نے سرکار سے مانگ کی ہے فوری طور راشن کا انتظام کیا جائے کیوں کہ علاقہ میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور چند دنوں میں عید الفطر بھی آرہی ہے ان دس دنوں میں بڑی مشکل سے راشن پہنچایا جائے گا کیوں کہ یہ علاقہ دور دراز ہے اور اس موسم میں لوگ پہاڑوں پر رہائش پزیر ہے۔اس حوالے سے جب کشمیر عظمیٰ نے تحصیل سپلائی آفیسر مہور نظیر احمد سے بات کی انہوں نے تسلیم کیا کہ راشن کی سپلائی کی کمی تھی اور ایک دو دن کے اندر وہ راشن ڈیلروں کو سپلائی کرے گے ۔انہوں نے یقین دلایا کہ ایک کلو اضافی کھانڈ بھی لوگوں کو فراہم کریں گے اور 12 جون سے قبل گلابگڑھ کے ہر کونے میں راشن پہنچایا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ڈیلروں کے کیریج کے حوالے سے انہوں نے محکمہ کے اعلیٰ افسران سے بات کی ہے۔