گلابگڑھ میں مویشیوں کی وباء خطرناک صورت اختیار کر گئی
زاہد ملک
مہور//گلابگڑھ علاقہ کے نہوچ،شبراس،اڑبیس،دیول،بدر،برمیدار،برنسال وغیرہ سے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ یہاں بھینسوں اور گائے وغیرہ کی بیماری پھیل چکی ہے جس کے باعث مویشیوں کی اچانک موت ہو جاتی ہے۔اب تک ایک بھینس اور گائے مرنے کی اطلاع ہے اور یہ نقصان شدید صورت کر رہا ہے اور یہ بھی اطلاعات موصول ہورہی ہیں درجنوں مویشی بیمار ہیں لیکن علاقہ میںمحکمہ انیمل ہسبنڈری کا کوئی ملازم موجود نہیں ہے۔اس علاقہ کے لوگ زیادہ تر مال مویشی پر ہی اپنا گزار ہ کرتے ہیں ۔ لوگ گھبرا گئے ہیں کہ بیماری شدت اختیار کر چکی ہے اور ان کے پاس مال مویشی کے بغیر اور کوئی ذرئع معاش نہیں ہے۔اس حوالے سے جب کشمیر اعظمیٰ نے ایڈیشنل انچارج چیف اینیمل ہسبنڈری آفیسر ریاسی ڈاکٹر ڈی ڈی ڈوگرہ سے بات کی انہوں نے کہا ضلع میں 21آسامیاں منظور ہیں جن میں صرف دو کو کٹرہ اور دو کو ریاسی لگایا گیا ہے تاہم مہور گلابگڑھ علاقہ میں فارماسسٹ تعینات ہیں۔انہوں نے مزید بتایا وہ لوگوں کی اس شکایت کے حوالے سے اعلیٰ حکام تک بات پہنچائیں گے۔اسی سلسلہ میں چیف آفیسر انیمل ہسبنڈری ریاسی ڈاکٹرسرفراز نے بتایا محکمہ شیپ ہسبنڈری میں بھی 45فیصد آسامیاں خالی پڑی ہیں۔
مشتبہ نوجوان پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا گیا
پونچھ/ /فوج نے جموں پونچھ شاہراہ سے ایک شخص کو مشکوک پاتے ہوئے گاڑی سے اتار لیا۔ذرائع کے مطابق کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص پونچھ سے جموں جارہی گاڑی پر سفر کررہا تھا جسے فوج نے جڑانوالی گلی کے مقام پر ناکہ لگا کر گاڑی سے اتارتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ذرائع نے بتایا کہ اس شخص کے بارے میں خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں جسے فوج نے گرفتار کرکے بعد میں اسے سرنکوٹ پولیس کے حوالے کیا جہاں اس سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔پولیس کے ایک افسر نے بتایاکہ تحقیقات کی جارہی ہے اور ابتدائی مرحلے پر ہی وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ تاہم انہوں نے بتایاکہ اس شخص کی تحویل سے فوجی ملبوسات برآمد ہوئے ہیں۔
رام بن میں ٹریفک قوانین کی عمل آوری کی مانگ
ایم ایم پرویز
رام بن //ضلع کے عوام نے گورنر انتظامیہ سے ضلع میں پبلک ٹرانسپورٹ پر ٹریفک قوانین کی عمل آوری یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان لوگوں نے مبینہ الزام لگایا ہے کہ پرائیویٹ پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیاں ضلع میں مُختلف روٹوں پرچلانے کے دوران ڈائیور ٹریفک قوانین کی تعمیل نہیں کر رہے ہیں، انکا یہ بھی الزام ہے کہ سرکاری گاڑیاں جو کہ مختلف محکموں کے ساتھ منسلک کی گئی ہیں ،بھی ان قوانین کی پاسداری نہیں کر رہے ہیںاور یہاں تک کہ انکے پاس جائز دستاویزات بھی نہیں ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہت سے سکولوں کی گاڑیوں کا بھی یہی حال ہے۔انہوں نے کہا کہ گاڑیاں بغیر کسی فسٹ ایڈ بُکس کے ہوتی ہیں۔ ان گاڑیوں کی کھڑکیاں بھی ٹھیک نہیں ہوتی ہیں اور نہ ہی آگ بجھانے والاے آلات ان میں لگے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ضلع میں چل رہے میجک آٹووں میں مسافروں کے لئے کافی جگہ نہیں ہوتی ہے اور طے کرایہ سے زیادہ کرایہ وصول کرنا ان کا ایک اصول بن گیا ہے۔لوگوں نے ضؒع میں ٹریفک پولیس کی اکرکردگی میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے، تاکہ قیمتی جانوں کا بچایا جاسکے ا ور ٹریفک قوانین کو سڑک پر لاگو کیا جا سکے۔
کانگریس کا بڈیال کے انتقال پر اظہار دُکھ
کشتواڑ//کانگریس کمیٹی کشتواڑ اور اندروال حلقہ کے یوتھ کانگریس اور سیوا دل کے کارکنوں نے کشتواڑ علاقہ کے ایک کانگریسی کارکن سرجیت سنگھ بڈیال کے والد کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ان تنظیمو ںنے مر حوم چونی لعل بڈیال کو ایک سرگرم سماجی کارکن قرار دیا جو ہمیشہ سے ہی غریبوں ، محتاجوں اور کمزور طبقہ کی بھلائی کے لئے پیش پیش رہتے تھے۔کانگریس کے لیڈروں نے غم زدہ کنبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے اور اللہ سے پسماندگان کو یہ صدمہ بردزشت کرنے کی توفیق عطا کرنے کی دعا کی۔ تعزیت کرنے والوں میں مہندر سنگھ پریہار، روی شان ، نور حُسین،کیلاش چندر، ایڈوکیٹ سمن بھنڈاری، رندیپ بھنڈاری، سبھاش چندر، وصیم مکڑ، محمد یونس کین، بابی بھنڈاری ،کشوری کمار، ہمل ،جتن منہاس، ستیش کمار، فرید احمد ،فاروق ٹپل، ایاز حمال و دیگران بھی شمال تھے۔
بانہال کے بیشتر علاقہ جات میں بجلی گُل، لوگ مشکلات سے درچار
نمائندہ عظمیٰ
رام بن//تحصیل بانہال کے بیشتر علاقہ جات میں رہنے والے لوگ پچھلے دو روز سے بجلی سے محروم ہے اور لوگ گھپ اندھیرے میں رہ رہے ہیں جس کی وجہ سے علاقہ کے لوگوں کو پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑ رہاہے بانہال کے چملواس ، زنچوس اور چکنڑ وا کے علاوہ دیگر علاقہ جات میں رہنے والے دور وز سے مسلسل بجلی سپلائی متاثر ہو کر رہ گئی ہے جس کے باعث لوگ دو دنوں سے گھپ اندھیرے میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑ رہاہے اور متعلقہ حکام خاموش تماشاہی بنے ہوئے ہیں جہاں کہ بانہال سے چملواس کو سپلائی دینے والی بجلی کی ترسیلی لائین شاہراہ کے مقامات پر کام کر رہی فور لین کمپنیوں کی لاپرواہی سے بار بار بجلی کی ترسیلی لائینیں کٹ جا نے سے علاقہ جات میں بجلی سپلائی متاثرہو جا تی ہے جس کے باعث پچھلے دو روز سے علاقہ چملواس ، زنچوس اور چکنڑ وا و دیگر علاقہ جات میں بجلی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے لوگ دو روز سے بجلی سے محروم ہو کر گھپ اندھیرے میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں اس سلسلے میں علاقہ جات میں رہنے والے مقامی لوگ جن میں محمد شریف و دیگر لوگوں نے اُڑ ان سے بات کر تے ہوئے کہا کہ علاقہ جات میں پچھلے دور روز سے بجلی نظام متاثر ہو گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ گھپ اندھیرے میں رہ رہے ہیں اور متعلقہ محکمہ کے اہلکار خاموش تماشاہی بنے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ شاہراہ فورلین کا کام کر رہی تعمیراتی کمپنیاں سڑک کے کنار ے پر ملبہ مٹی ڈال کر بجلی کی ترسیلی لائینوں کا نقصان پہنچاتے ہیں جس کی وجہ سے بجلی پول اور تاریں گر جانے سے علاقہ جات میں بجلی نظام کٹ کر رہ گیاہے اور علاقہ کے لوگ بجلی سے محروم ہو کر گھپ اندھیرے میں ہے اور متعلقہ محکمہ کے اہلکار ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی بار متعلقہ محکمہ کے ملازموں کو باخبر کیا تاہم وہ یہ کہہ کر کہ فورلین کمپنیوں نے بجلی کے پول اور تاریں گرا دی ہیں جس کی وجہ سے علاقہ میں بجلی متاثر ہے مقامی لوگو ں کے مطابق علاقہ جات میں پچھلے دو روز سے مسلسل بجلی سپلائی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے اور اس قبل کہ شاہراہ پر فور لین کی تعمیر کر رہی کمپنیوں کی لاپرواہی سے اکثر بجلی کی ترسیلی لائینوں کا شدید نقصان پہنچتاہے جس کی وجہ سے علاقہ میں بجلی سپلائی بند ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ علاقہ چملوا س، زنچوس اور چکنڑ وا میں رہائش پذیر ہزاروں عوام کو گھپ اندھیرے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے انہوں نے ضلع انتظامیہ خاص کر متعلقہ محکمہ کے افسران سے اپیل کی ہے کہ وہ علاقہ کی طر ف توجہ دیکر علاقہ میں بجلی سپلائی کو بحال کریں اور شاہراہ پر فور لین کی تعمیر کر رہی کمپنیوں کے خلاف کاروائی کر کے بجلی کی ترسیلی لائینوں کی مرمت کریںتاکہ لوگوں کو مستقل بجلی سپلائی ہو سکیں ۔
راجوری میں سمگل کئے جارہے 32مویشی بازیاب
سمت بھارگو
راجوری//راجوری پولیس نے تھنہ منڈی اور سندر بنی میں مویشیوں کو سمگل کرنے کی کوششیں ناکام بناتے ہوئے سمگلروں کے چنگل سے مویشیوں کو بازیاب کیا ۔ایس ایچ او پولیس اسٹیشن سندر بنی تلک راج کی قیادت میں پولیس نے ٹھنڈا پانی۔پترارا روڈ پر ایک ناکہ لگایا اور دو گاڑیوں زیر نمبر JK11B 4762 اورJK20 5057 کو روکا ۔ گاڑیوں کی تلاشی کے دوران پولیس نے دونوں گاڑیوں سے 17 مویشیوں کو باز یاب کیا جبکہ مویشی سمگلروں افروز احمد ولد محمد لطیف ساکنہ پالانگر،تھنہ منڈی ،منشی خان ولد حکیم دین ساکنہ کھابلان ،تھنہ منڈی ، محمد قادر ولد محمد ناصر ساکنہ ایٹی راجوری اور شکیل احمد ولد غلام حُسین ساکنہ پراٹ ،سندر بنیکو موقعہ پر ہی پولیس نے گرفتار کرکے معاملہ درج کیا ہے۔دریں اثنا ، پولیس اسٹیشن تھنہ منڈی کے ایس آئی محمد تصویر کی قیادت میں ایک پولیس پارٹی نے زیر نگرانی ایس ایچ او تھنہ منڈی نذیر احمد ڈار شبانہ گشت کی ڈویٹی دے رہے تھے کہ انہیں با وثوق ذرائع سے اطلاع ملی کہ مویشیوں سے لدی ہوئی کئی گاڑیاں مغل روڈ کی جانب رواں ہیں اور تا حال لنک روڈ منگہوٹہ پر ہیں۔اطلاع ملنے پر پولیس پارٹی منگہوٹہ پہنچ گئی اور تین گاڑیوں کے ایک گروپ کو روکا ۔ اگرچہ سمگلروں نے پولیس کو دیکھتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انکو گرفتار کیا ۔ گرفتار شدگا ن مین محمد شبیر ولد محمد بشیر ساکنہ نادیاں ،درہال ،عمران احمد ولد فتح محمد سا کنہ راجدھانی، اور محمد شوکت ولد محمد بشیر ساکنہ کھابلاں شامل ہیں۔ پولیس نے انکے قبضہ سے 15 مویشیوں کو بازیاب کرکے تینوں گاڑیوں کو ضبط کرکے معاملہ درج کیا ہے۔
باپ ،بیٹے نے ایک ہی سیشن میں دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا
اے آئی بٹ
کشتواڑ//آپ یقین کریں یا نہ کریں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ باپ اور بیٹے نے ایک ہی سیشن میں میٹرک کا امتحان پاس کیا ہے۔ضلع کے ایک دور دراز علاقہ سے تعلق رکھنے والے باپ۔ بیٹے نے ایک ہی سیشن میں دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا ہے۔، جس کے نتائج کا اعلان حال ہی میں کیا گیا ہے۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے غلام نبی شیخ ولد دین محمد ساکنہ نالی بونزواہ ،عمر 42 سال نے بتایا کہ میں کئی مرتبہ دسویں کے امتحان میں شامل ہوا تھا لیکن ناکام رہا اور سال رواں میں دوبارہ اس امتحان میں زیر رول نمبر 3632232 امتحانی مرکز ہائر سیکنڈری سکول بنون سے شامل ہوا ۔ اُس نے بتایا کہ اس سال میرا بیٹا محمد یاسین ولد غلام نبی عمر 17 سال بھی دوسری مرتبہ میٹرک کے امتحان میں زیر رول نمبرایچ ایس ایس بھاڈٹ سے شامل ہوا ۔ اُس نے کہا کہ اللہ کے فضل سے میں اور میرا بیٹا دونوں اس امتحان میں کامیاب ہوئے۔ اُس نے کہا کہ میں پہلی مرتبہ1992 میں اس امتحان میں شامل ہواتھا اور دوبارہ دو ،تین مرتبہ کوشش کی لیکن امتحان پاس نہیں ہوا ۔اب گُذشتہ سال میرے بیٹے نے جب میٹرک کے امتحان کیلئے درخواست گُذاری کی،تو میں نے بھی فیصلہ کیا کہ میں بھی اس امتحان میں شامل ہو جائوں گااور بیٹے کے ساتھ ہی میں بھی اس امتحان میں کامیاب ہوا ۔ انہوں نے طلاب کو اپنے مستقبل کی زندگی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے عمر کا کوئی حد نہیں ہوتا ہے۔اور اگر کسی کو چاہت ہو تو اُسے عمر اس میں کوئی روکاوٹ نہیں بن سکتی ہے۔انہوں نے طلاب کو نصیحت کی ہے کہ ہمت نہیں ہارنی چاہیے ۔