عظمیٰ نیوزسروس
جموں//اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے مرکز سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی اس بامعنی بات چیت کے بعد ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے جموں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا وعدہ کیا ہے، اس لیے اس وعدے کو مزید تاخیر کے بغیر پورا کیا جانا چاہئے ۔وہ جموں میں پارٹی کے ایک پروگرام کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ پارٹی ایونٹ میں گول ریاسی کے ایک ممتاز سیاسی اور سماجی کارکن سید ذولفقار ایوب عرف باجی صاحب نے اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ سید محمد الطاف بخاری، صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ اور دیگر لیڈران نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے پر اُن کا والہانہ استقبال کیا۔سید محمد الطاف بخاری نے حال ہی میں جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے صحافی عرفاز ڈینگ کے گھر کو مسمار کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ حکومت اس بلاجواز اقدام کی ذمہ داری لینے کو بھی تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’’منتخب حکومت کا دعویٰ ہے کہ اسے انہدام کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، اور ایل جی انتظامیہ بھی یہی کہتی ہے، کیا پھر ہم اقوام متحدہ (یو این) سے پوچھیں کہ یہ مسماری کس کی ہدایت پر کی گئی؟ لوگوں نے حکمران جماعت کو مینڈیٹ دیا ہے، اب یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو واضح کرے‘‘۔تاہم، سید محمد الطاف بخاری نے متاثرہ صحافی کے ہندو پڑوسی، کلدیپ شرما، جو جموں کے نروال کے رہائشی ہیں، کی جانب سے انہیں ایک زمین کا ٹکڑا فراہم کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا، ’’شرما جی نے سماج میں فرقہ پرست عناصر کو ایک واضح پیغام بھیجا ہے۔ یہی جموں و کشمیر کی اصل روح ہے۔ اس سرزمین کے لوگ فرقہ پرست نہیں ہیں‘‘۔وشنو دیوی میڈیکل کالج میں مسلم طلباء کے داخلے کے معاملے پر پیدا شدہ بحران پر اپنی پارٹی صدر نے کہا ’’شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی چیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس (SMVDIME) میں مسلم طلباء کے داخلے پر اعتراض کرنے والوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ داخلے خالصتاً NEET کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر کیے گئے تھے۔اگر اس ادارے میں صرف ایک مذہب کے ساتھ وابستہ طلبہ کو ہی داخلہ دینا مطلوب تھا تو اسے قایم کرتے وقت اس ادارے کو اقلیتی درجہ دیا جانا چاہیے تھا‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخلہ ہمیشہ میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ مذہبی شناخت پر، جس دن ہم طلبہ کو ان کے مذہب کی بنیاد پر چُننا شروع کر دیں گے، ہمارا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔‘‘انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ وہ ’’بی جے پی لیڈروں کو کنٹرول کریں جو بعض معاملات کو فرقہ وارانہ رنگت دینے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کے کچھ ممبران مناسب حد سے باہر کام کر رہے ہیں۔ میں وزیر اعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ قوم کے وسیع تر مفادات کے لیے اس پر توجہ دیں‘‘۔سید محمد الطاف بخاری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت کا انتخابی منشور عوام کو دھوکہ دینے کے لیے تھا، اس میں کیے گئے نعرے اور وعدے گمراہ کن اور جھوٹے ثابت ہوئے۔ ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود عوام کونہ 200یونٹ مفت بجلی ملی اور نہ ہی 12گیس سلنڈر ۔نہ ہی پچاس ہزار ملازمتیں ملیں اور نہ ہی ڈیلی ویجروں کا مسئلہ حل ہوا۔ حکومت ہر محاذ ہر ناکام ہوچکی ہے۔ڈومیسائل کے لیے رہائش کی شرط کو موجودہ 15سال سے بڑھا کر 50سال یا کم از کم 35سال کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے صدر نے کہا کہ اگر حکومت تین ماہ کے اندر اس ضمن میں کوئی اقدام کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اپنی پارٹی یک ایجی ٹیشن شروع کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ پہلگام حملے کے حوالے سے سیکورٹی میں کوتاہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے نہ تو ذمہ داری کا تعین کیا گیا اور نہ ہی کسی کوتاہی کی سزا دی گئی۔