سرینگر// نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے لوک سبھا میں 2020-21بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ 5اگست2019کے غیر آئینی فیصلوں نے جموں و کشمیر کو جمہوریت سے غیر نمائندہ افسر شاہی کی طرف دھکیل کر عوام دوست اپروچ کو ختم کر کے نوآبادیاتی ذہنیت کو دوام بخشا ہے۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ ہٹ دھرمی اور انا کی سیاست ترک کرکے زمینی حقائق کو تسلیم کریں کہ 5اگست کا وار ایک بہت بڑی غلطی تھی جس سے تباہی اور بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019کے فیصلے جموں وکشمیر کے لوگوں کو ناقابل قبول ہیں اور اس کا برملا اظہار انہوں نے حالیہ ڈی ڈی سی انتخابات میں کرکے دکھایا، جس میں تمام سرکاری و غیر سرکاری وسائل بروئے کار لانے کے باوجود بھی حکمران جماعت کو کشمیر میں صرف3فیصد سے بھی کم ووٹ ملے اور جموں میں بھی اِن کی کارکردگی خراب ہی رہی۔اس کے علاوہ گذشتہ ڈیڑھ سال کے اعداد و شمار صاف صاف اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جموں وکشمیر کی زمینی صورتحال بد سے بدتر ہوئی ہے۔ ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ جنگجویت کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، نوجوانوں میں جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہونے کا رجحان بڑھ گیا ہے جبکہ سیکورٹی فورسز کے خودکشی کے واقعات میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔حسنین مسعودی نے کہا کہ جموں وکشمیر کا بجٹ عوامی شمولیت اور متعلقین سے مشاورت کے بغیر پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی اسمبلی میں زیر بحث آتا تھا اور عوام کے چنندہ نمائندے لوگوں کے احساسات، مطالبوں اور مانگوں کو اُجاگر کرتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کا بجٹ وہاں کے عوام سے مشاورت کے بغیر ترتیب دیا گیا ہے جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔ مسعودی نے مزدوری، روزگار ، دیہی ترقی اور کوآپریٹو وغیرہ جیسے اہم شعبوں کے لئے کم رقومات مختص کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے شعبہ صحت اور تیسرے درجے کے ہیلتھ سیکٹر کو مضبوط بنانے کی طرف دی گئی توجہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ جموں اور سرینگر کے شہروں کے داخلی مقامات پر نئے زچگی کے ہسپتال قائم کئے جائیں۔ انہوں نے سرینگر کے لئے شمالی اور جنوبی کشمیر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناربل اور پارمپور میں زچگی ہسپتال قائم کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے پہلے سے ہی منظور شدہ نرسنگ کالجوں کے علاوہ کولگام اور شوپیان میں بھی نرسنگ کالجوں کے قیام کا مطالبہ کیا۔ حسنین مسعودی نے بیرونی ممالک سے سیب کی درآمد کو کشمیری سیب کیخلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رجحان فوری طور پر ترک کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے تجارتی پروسیسنگ اور کولڈ اسٹوریج کی سہولت میں اضافے کا مطالبہ کیا تاکہ بار بار شاہرائوں کے بند رہنے کی وجہ سے تازہ پھلوں کے زیاں کو روکا جاسکے۔مسعودی نے اپنے خطاب میں زعفران مشن کی مکمل ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا اور زعفران کی بھاری بھرکم پیداوار کے دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے بیرونی ممالک سے زعفران درآمد کرکے اِ سے کشمیر کے زعفران کے بطور متعارف کرانے کی ایک سازش قرار دیا۔