وادی کشمیر علم ادب کا گہوارہ ہے۔ یہاں کی سر زمین اگر چہ اس لحاظ سے بہت زرخیز ثابت ہوئی مگر قصبہ حاجن کو اس پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ حاجن علاقے سے علم وادب کےایسے نامور قلمکار معرضِ وجود میں آئے، جنہوں نے ادب خاص کر کشمیری ادب کو بام عروج تک پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ۔اس مٹی نے پروفیسر حاجنی کو جنم دے کر کشمیری ادب پر ایک بہت بڑا احسان کیا ہےاور پھر ڈاکٹر عبدالعزیز حاجنی جیسے قداوار شخصیت کی ولادت سے ادب میں رہی سہی کسر کو پورا کردیا۔
مرحوم ڈاکٹر عبدلعزیز حاجنی کا جنم ۱۹۵۷ میں حاجن میں ہوا اور ابتدائی تعلیم اپنے ہی گاوں میں حاصل کی۔ گورنمنٹ ڈگری کالج بمنہ سے بی اے کرنے کے بعد کشمیر یونیورسٹی سے کشمیر میں ایم اے کی ڈگری امتیازی پوزیشن میں حاصل کی۔ ڈاکٹر صاحب کی ناقابل داد قابلیت کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ وہ کشمیر یونیورسٹی سےکشمیری سبجکٹ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے پہلے طالبعلم تھے ۔اس کے بعد کچھ عرصے کےلئے نجی سکول میں پڑھانے کا کام شروع کیا پھر گورنمنٹ اسکول میں بحیثیت استاد تعینات کئے گئے، پھر کشمیری لیکچر ر تعینات ہوئے۔ ڈاریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں کشمیری کلچرل ونگ کے قیام کا سہرا بھی مرحوم ڈاکٹر حاجنی کے سر جاتا ہے اور تعلیم کو کلچر کے ساتھ جوڑنے کےلئے انتھک کوشش کی اور اسمیں کامیا ب بھی ہوئے۔ طلبا کو بیرون وادی تعلیمی دوروں پر بھیجنا، اساتذہ کو بہترین کارکردگی پر اسناد عطا کروانا، شاعروں اور ادیبوں کی تصنیفات کی خریداری وغیر،ہ یہ سب ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ہی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔
حاجنی صاحب نے ڈاریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں رہ کر کشمیری زبان وادب کو نہ صرف پروان چڑھایا بلکہ دن و رات کام کرتے ہوئے اسے بام عروج تک لے جانے میں کوئی دقیقہ فروگداشت نہ کیا۔ اول سے لے کر بارہویں جماعت تک کی کتابوں کا ریویو کرانے کا م بھی ڈاکٹر حاجنی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کشمیر یونیورسٹی کے شیخ العالم چیر میں بطورِ ایسوسیٹ پروفیسر تعینات ہوئے، وہاں پر اپنے ہم خیال ساتھی ڈاکٹر بشر بشیر کے ساتھ مل کر چیر کو آسمان کی بلندیو ں پر پہنچایا۔ڈاکٹر حاجنی کا سفر یہی نہیں رُکا بلکہ انکی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر انہیں ریاست کی سرچ کمیٹی نے انہیں ۲۰۱۵ میں ریاستی کلچرل اکیڈمی کے سیکریٹری کے عہدے کےلئے منتخب کیا۔ یہاں پر کام کرتے ہوئے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئیے جنکی نظیر ملنا کلچرل اکیڈمی کی تاریخ میں محال ہے۔ ڈاکٹر صاحب ساہیتیہ اکیڈمی نئی دہلی کے کنوینیر بھی رہ چکے ہیں، شاعروں اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں وقتاً فوقتاً مالی معاونت کرانا اور بزرگ شاعروں، ادیبوں اور آرٹسٹوں کوماہانہ وظیفہ منظور کرانے کی کوشش میں بھی ڈاکٹر حاجنی صاحب کا کافی ہاتھ ہے ۔
ڈاکٹر عزیز حاجنی ادبی مرکز کمراز کے روح رواں ہونے کے علاوہ دور حاضر کے ایک منجھے ہوئے شاعر ادیب اور نقاد تھے۔ حاجنی صاحب کی بیس سے زائد کتابیں چھپ چکی ہیں، جن میں سے دو کتابوں کو نیشنل ایوارڑ بھی ملا ہے، جن میں دو شعری مجموعے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے اردو اور کشمیری دونوں زبانوں میں شعر کہے ہیں ۔ انکی اردو غزل سے چند اشعار تبرکا ً پیش خدمت ہیں:
وہ دن کی دہشتیں شب میں اگل جائے تو کیا کیجئے
کوئی عفریت خوابوں میں نگل جائے تو کیا کیجئے
قدم نمناک راہوں میں سنبھل کر ہی تو رکھتا ہوں
میرا پھر بھی کہیں پاؤں پھسل جائے تو کیا کیجئے
برائی کی سزا کیا ہے مجھے معلوم ہے اے رب
کھلونا دیکھ کر بچہ مچل جائے تو کیا کیجئے
برف یخ بستہ وادی سے سرد سینے پہ لایا تھا
تیری پرجوش باہوں میں پگھل جائے تو کیا کیجئے
حاجنی صاحب کی شاعری پڑھ کر اسکی علمی بصیرت اور گہرے مطالعے کا اندازہ ہوتا ہے۔ حاجنی صاحب انسان دوست اور ملنسار تھے، وہ ادب کے ساتھ شغف رکھنے والوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے اور نوآموز قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور انہیں ہاتھ پکڑ کر سکھانے اورسمجھانے میں فخر محسوس کرتے۔ جس سے انکی منکسر المزاجی کا پتہ چلتا ہے۔ راقم الحروف نے اگر چہ ڈاکٹر صاحب سے صرف دو تین بار ملاقات کی مگر واللہ انکی انسانیت اور الفت ومحبت نے مجھے انکا اتنا گرویدہ بنا لیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی ایک جھلک کے لئے میرا دل ہمیشہ بے چین رہتا تھا اور میں وقتاً فوقتاً ڈاکٹر صاحب کو فون کرکے اپنے مضطرب دل کو بہلاتا تھا اور ڈاکٹر صاحب کا یہ مقولہ کہ جو مزہ اور سکون آپکو آرٹ اور لٹریچر کے ساتھ جڑ کر ملتا ہے، وہ آپ کو کسی اور فیلڈ کے ساتھ جڑ کر کبھی بھی نہیں مل سکتا، ایک تلخ حقیقت ہے۔
الغرض ڈاکٹر حاجنی صاحب کی وفات سے ادبی دنیا خاص کر کشمیری ادب میں جو خلا پیدا ہو ا ہے اسکی برپائی کرناکافی مشکل ہے کیونکہ بقول شاعر ؎
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
میرے خیال میں حاجنی صاحب جیسے دیدہ و ر تو صدیوں میں ہی پیدا ہوتے ہیں ،حاجنی صاحب کی وفات نے ادبی حلقوں سوگوار کردیا، خاص کرکشمیری زبان و ادب یتیم ہوگئی۔
بہرحال اللہ تعالی کی مرضی کے سامنے تمام انسان بے بس ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحو عبدالعزیز حاجنی صاحب کے درجات بلند کرے، انکے سہَو وخطا معاف کرے، انہیں اعلی علیین میں جگہ دے اور انکے لواحقین کو یہ صدمہ بر داشت کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین