عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) جموں و کشمیر نے بلاک لولاب/لالپورہ ضلع کپواڑہ میں ترقیاتی فنڈز کی خردبرد کے کیس میں سابق بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر، ایکزیکٹو انجینئر اور پانچ دیگر ملزمان کے خلاف خصوصی اینٹی کرپشن عدالت بارہمولہ میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ یہ کیس 2020 میں درج ایف آئی آر نمبر 02/2020 سے شروع ہوا، جس میں دیہی ترقیاتی محکمے کے تحت کاموں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی شکایت کی گئی تھی۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ “مارگی ڈیوَر (کاریوان) میں سر بند کی تعمیر” اور “دیوَربی میں فشریز تالاب کی تعمیر” جیسے منصوبوں میں جعلی پیمائشیں، غیر موجودہ کاموں کی بلنگ، جنگلاتی زمین پر بغیر اجازت کام اور ناقص معیار کے منصوبے شامل تھے۔ تحقیقات کے مطابق ملزمان نے ٹھیکیدار کے ساتھ ملی بھگت کر کے جعلی ریکارڈ تیار کیے، پیمائشیں بڑھا چڑھا کر دکھائیں اور سرکاری فنڈز کا غلط استعمال کیا۔ اس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا۔ چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں محمد سلطان بٹ(سابق بی ڈی او سوگام/لالپورہ) انجینئر سورندر کمار شرما (سابق ایکزیکٹو انجینئر، آر ای ڈبلیو کپوارہ) محمد شفیع بخاری (سابق اسسٹنٹ ایکزیکٹو انجینئر) تیمور احمد خان (سابق جونیئر انجینئر) نثار احمد خان (سابق جونیئر انجینئر) محمد سلیم ڈار (سابق ویلیج لیول ورکر/سیکریٹری پنچایت) وسیم محمود خان (ٹھیکیدار) شامل ہیں کو عدالت میں پیش کیا گیا اور ذاتی ضمانت پر رہا کیا گیا۔ عدالت نے اگلی سماعت 25 اگست 2026 مقرر کی ہے۔ اے سی بی نے کہا کہ وہ کرپشن کے کیسوں کی غیر جانبدارانہ اور تیز رفتار تحقیقات کے لیے پرعزم ہے تاکہ عوامی وسائل کے غلط استعمال کرنے والوں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔