۔21روز میں 190گاڑیاں ضبط ،28لاکھ جرمانہ وصول،28ایف آئی آر درج
سرینگر //محکمہ جیالجی اینڈ مائننگ نیند سے بیدار ہو گیا ہے اور ندی نالوں سے غیر قانونی طور ریت اور بجری نکالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اب ایسے کسی بھی شہری کو بخشا نہیں جائے گا جو اس کی غیر قانونی خرید وفروخت کرتے ہوئے پایا جائے گا۔محکمہ جیالجی اینڈ مائننگ نے کہاہے کہ گذشتہ ماہ کے 21دنوں کے دوران مختلف چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 190 ٹپر ٹریکٹر ، اور دیگرگاڑیوں کو ضبط کیا گیا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 28لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا گیا ۔ کولگام ضلع میں 19، شوپیاں میں 2،پلوامہ میں 23،سرینگر میں 22،بڈگام میں 14،بانڈی پورہ میں12،بارہمولہ میں 34اور کپوارہ میں 19گاڑیاںضبط کی گئیں ۔محکمہ کے ذرائع نے مزید بتایا کہ کولگام میں 15ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں جبکہ شوپیاں میں 1،بڈگام میں 2،گاندربل میں 5،بانڈی پورہ میں 2،بارہمولہ میں 1اور کپوارہ میں 2ایف آئی آر شامل ہیں۔محکمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نثار احمد خواجہ نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کی جانب سے کارروائی آگے بھی جاری رہے گی اور کسی بھی شخص کو قانون کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ صرف اپریل کے مہینے میں ہی محکمہ نے 28لاکھ روپے جرمانہ بھی ایسے لوگوں سے وصول کیا ہے جو قانونیکی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر کا تحفظ ہمارا اولین فرض ہے اور کسی کو بھی غیر قانونی طور پر ریت اور بجری نکالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔واضح رہے کہ انتظامیہ نے حال ہی میں دریاؤں اور نالوں سے از خود ریت یا بجری نکالنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور اس کام کیلئے باضابطہ کنٹریکٹ نظام کا قیام عمل میں لانے کی ہدایات دی ہے جس کے پیش نظر آزادانہ طور پر ریت اور بجری نکالنے کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔جبکہ اس سے قبل کی حکومتوں نے بھی اس کام کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور اس پر پابندی عائد تھی ۔