مرحوم محمد مبارک شاہ کا تعلق پیر محلہ،نگری کپوارہ سے تھا ۔آپ محکمہ تعلیم سے بطورِ زونل ایجوکیشن اافیسر سبکدوش ہوئے تھے اور آپ نے ماضی قریب میں ہی اس دنیائےفانی سے انتقال کیا ہے۔میں ذاتی طور پر بھی مرحوم سے دورانِ ملازمت متعارف ہوا تھا اور اُن کی صوفیانہ طبیعت سے متاثر ہوا تھا لیکن سرِدست مجھے اُن کی بے ریا اُردو دوستی کے حوالے سے ہی کچھ بتانا ہے۔کہتے ہیں نا کہ ’’جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا ‘‘۔مرحوم شاہ صاحب کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح کا رہا ہے۔جہاں ہم لوگ آئے دن سرکاری یا نیم سرکاری ادبی تقاریب میں کئی ایسے حضرات کو بار بار دیکھتے ہیں جو درحقیقت شاعر و ادیب ہی کیا ادبِ ذوق بھی نہیں ہوتے یا جہاں سوشل میڈیا کی بدولت شعر گوئی کی صلاحیت سے عارضی خواتین و حضرات کی غزلیں اور نظمیں دیکھتے رہتے ہیں، وہیں بے شماربا صلاحیت قلمکار خود نمائی سے بچتے ہوئے’’پرورش ِ لوح و قلم‘‘کرتے رہتے ہیں ۔شاہ صاحب بھی اُن ہی سچے قلمکاروں اور بے ریّا محبانِ اُردو میں شمار کئے جانے کا جائز استحقاق رکھتے ہیں۔
شاہ صاحب اپنی سرکاری ملازمت کے دوران صرف سکولی بچوں کو ہی نہیںبلکہ معلمین کو بھی اُردو پڑھانے کا تجربہ رکھتے تھے،نیز آپ کو تصوف کے ساتھ بھی گہری دل چسپی رہی تھی جس کی وجہ سے بھی اُردو کی علمی و ادبی کتابوں کا زبر دست مطالعہ کیا تھا ۔اس وسیع مطالعے اور مشاہدے کے باعث آپ کے لکھے ہوئے مضامین میں بھی ایک زبردست سنجیدگی اور مقصدیت نظر آتی ہے۔آپ کے لکھے ہوئے مضامین میں بھی ایک زبردست سنجیدگی اور مقصدیت نظر آتی ہے۔آپ کے لکھے ہوئے مختلف موضوعات پر مشتمل علمی و ادبی مضامین 2016میں ’’منِ الظلمٰتِ الّی النُور‘‘ کےعنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوچکے ہیںاور کشمیر کے سنجیدہ علمی حلقوں میں اُن کی اچھی خاصی پزیرائی بھی ہوئی ہے،جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ اس کتاب کو دوسری بار بھی 2019میں شائع کیا گیا ہے۔اب آیئے اُنہی مضامین پر اختصار کے ساتھ کچھ روشنی ڈالتے چلیں۔
’’منِ الظلمٰت ِ الی النور‘‘کو سید السادات سالارِ عجم حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ کے نام انتساب کیاگیا ہے۔جس سے اس کتاب کے تعمیری و مقصدی ادب کے ضمن میں ہونے کا اشارہ ملتا ہے ۔کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔بابِ اول میں ’’علم کی فضیلت‘اصل کائنات ،عالم بے عمل ،اہل باطن کا علم،علم و عمل ،امر بالمعروف و نہی المنکر اور اقبال کے بارے میں مہاتما گاندھی کا ایک خظ وغیرہ‘‘ متعدد مگر بے حد خوب صورت نثر پارے درج کئے گئے ہیں۔باب دوئم میں ’’اُردو صحافت کے دو سو سال،اُردو کی بقا ،مولانا آزاد اُردو یونیور سٹی کی ویب سائٹ ،آزادی ٔ ہند میں اُردو کا قائدانہ کردار ،وغیرہ مضامین شامل کئے گئے ہیں۔اورتیسرے باب میں خطبۂ علی گڑھ کے نورِ محمدیؐ ،ہمہ اوست و ہمہ دراُوست،مہر انگشتری ٔ رسول ؐ میں ناموں کی ترتیب جیسے علمی و صوفیانہ موضوعات پر منفرد قسم کے مضامین سموئے ہوئے ہیں۔کتاب کےمندرجات کی تاثیر اور علمی و ادبی معیار کا اندازہ لگانے کے لئے درج ِ ذیل اقتباسات ملاخطہ فرمائیں :
۱۔’’راقم نے اپنی بساط کے مطابق اس کتاب کے دوسرے حصے میں ثابت کیاہے کہ اُردو زبان میں دینی اور دنیاوی علوم عالم انسانیت کے لئے مشعلِ راہ کی حیثیت میں جگہ پاگئے ہیں ۔جہاں ان تعلیمات پر عمل درآمد ہوا ہے وہاں انسان حیوانیت اور درندگی سے نکل کر نہ صرف اپنی ذات کے لئے بلکہ معاشرہ کے لئے بھی ہر لحاظ سے کارآمد ،فائدہ مند اور اعلیٰ کردار کا مالک بن کر سامنے آیا ہے‘‘۔(صفحہ۔۱۶،سے ماخوذ)
۲۔’’اگر عالم اپنے علم پر عمل نہ کرے تو وہ عالم نہیں ہے،لہٰذا اس کی چرب زبانی ،طویل بیانی،مہارت ِ فن اور قوت ِ مناظرہ و مجادلہ کے فریب میں نہیں آنا چاہئے کیونکہ وہ جاہل ہےبجز اس کے کہ اللہ اُس کی توبہ قبول کرے۔۔۔۔علم فرض بھی ہے اور فضیلت بھی ۔فرض وہ علم ہے جس کا جاننا ضرورت سے زاید ہو اور اُس سے انسان کو فضیلت حاصل ہو۔۔۔۔مگر وہ علم جو کتاب و سنت کے مطابق نہ ہو اور اس سے استفادہ نہ کیا جائے ۔۔۔۔رذیلت اور بُرائی کا مجموعہ ہے۔‘‘(صفحہ ۳۲ سے ماخوذ)
۳۔ ’’مہجورؔ کی شہرت عرفِ عام میں کشمیری زبان کے شاعر ِ اعظم کے بطور ہے،لیکن انہوں نے فارسی کے بعد جموں و کشمیر میں اُردو غزل کے فروغ و ارتقامیں وہی کردار ادا کیا جو ولی دکنی (گجراتی) نے دکن اور شمالی ہند میں اُردو غزل کو عروج پر پہنچانے کے لئے کیا تھا ۔‘‘(صفحہ ۶۸،سے ماخوذ)
امید ہے کہ ہمارے پُر خلوص اور محنتی تزکرہ نگار حضرات اور ناقدین ِ کرام مرحوم محمد مبارک شاہ اور اُن یسے سچے اور قابل قدر محبان ِ اُردو کی نگار شات کو اپنی کتابوں میں نہ صرف یہ کہ مناسب جگہ دیں گے بلکہ اُن سے مستفید ہونے کی تحریک بھی دیتے جائیں گے ۔
’’راقم کو برصغیر کے مختلف مکتب ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے قلم کاروں کی آرا کا مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا ۔جہاں تک صحافت کے رول کی اہمیت کا تعلق ہے ،میں بھی اُن کے قدر دانوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں ۔لیکن دو سال سے جاری فاش املائی غلطیوں سے زبان کی شبیہ روز بہ روز بگڑتی جارہی ہے جس کی طرف دہلی سے لے کرکشمیر تک کسی قلم کار،کسی ادیب،کسی دانشور ،کسی ماہر تعلیم یا کسی ذمہ دار شخص نے لب کشائی کی اور نہ اپنے قلم کو جنبش دی۔حالانکہ ہمارے یہاں ماہرین تعلیم اور ماہرین لسانیات کی کمی نہیں۔ظاہر ہے کہ اس طرح کی غفلت شعاری سے دینی اور دنیاوی علوم کی حفاظت ناممکن ہوجائے گی ،جس سے قارئین خاص کر ہر سطح کے طلبہ اور طالبات پر منفی اثر پرنے کا اندیشہ ہے۔‘‘
(بمنہ، سرینگر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔