سرینگر//جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں ایک مرتبہ پھر گھر میں نظر بند رکھ کر پلوامہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میںلکھا ’’ انہیں خانہ نظر بند کر دیا گیا ہے‘‘۔ محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میںلکھا ’’مجھے اطہر مشتاق کے اہلخانہ سے ملنے سے روکنے کیلئے خانہ نظر بند کر دیا گیا ہے‘‘۔ انہوںنے لکھا کہ ’’مجھے اطہر مشتاق، جنہیں ایک مبینہ فرضی جھڑپ میں مارا گیا،کے اہلخانہ سے ملنے سے باز رکھنے کیلئے حسب معمول خانہ نظر بند رکھا گیا‘‘۔ اطہر کے والد پر اپنے بیٹے کی لاش مانگنے پر غیر قانونی سرگرمیوں کے دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے، یہی وہ نارملسی ہے جو حکومت ہند کشمیر کا دورہ کرنے والی یورپی یونین کے وفد کو دکھانا چاہتی ہے‘‘۔انہوں نے اس معاملے کی ایک ویڈیو بھی اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر شیئر کی ، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ محبوبہ مفتی گھر کے باہر موجود پولیس و انتظامیہ کے افسران سے بات کرکے پوچھتی ہے کہ انہیں کیوں گھر میںنظر بند رکھا گیا ہے ، میں کیا کوئی مجرم ہوں جو مجھے نظر بند رکھا گیا ہے اور باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جبکہ میرے گھر کے باہر اتنی سیکورٹی لگا دی گئی ہے، میں سیکورٹی کے بغیر جا سکتی ہوں اور مجھے جانے کی اجازت دی جائے نہ کہ بار بار روکا جائے ۔