غلام قادر کامران
شعور کی منازل طے کرتے ہوئے، میں اکثر اپنے والدین کی عائد کردہ پابندیوں کا موازنہ اپنے بچپن کے ایک دوست پر نچھاور کی جانے والی اندھی محبت سے کیا کرتا تھا۔ وہ ایک ایسی زندگی کے مزے لوٹ رہا تھا جہاں جوابدہی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ان کے والدین بے پناہ محبت کے زیرِ اثر اس کی ہر جائز و ناجائز فرمائش پوری کرتے تھے دوسری جانب، میرے والدین میری خواہشات کو ایک خاص دائرے تک محدود رکھتے اور مجھ پر سخت حدود نافذ کرتے تھے۔ ان کے اس رویے کے باعث میں کبھی کبھار احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتا اور نادانی میں اسے محبت کا فقدان سمجھ بیٹھتا تھا ان کے تربیت کے طریقے گاہے بگاہے سخت ضرور ہوتے تھے، لیکن وہ ہر حال میں اصولوں کی پاسداری پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ اپنے دوست کی اس بے لگام آزادی کو دیکھ کر، میں اکثر خود کو اصولوں کی قید میں محسوس کرتا تھا۔تاہم، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، پرورش کے ان دو متضاد رویوں کے نتائج پوری طرح آشکار ہو گئے۔ میرا دوست، جسے ہمیشہ اس کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کے فطری نتائج سے بچا کر رکھا گیا تھا، رفتہ رفتہ تباہ کن رویوں کا شکار ہونے لگا۔ اس کی شخصیت میں احساسِ ذمہ داری اور جوابدہی کا مکمل فقدان تھا۔ وہ بغیر کسی مقصد کے بے سمت بھٹکتا رہا اور ایک باشعور، نظم و ضبط کے پابند بالغ انسان کے طور پر پروان چڑھنے میں بری طرح ناکام رہا۔ کاہلی اور سگریٹ نوشی جیسی عادات نے اسے جکڑ لیا۔ نتیجتاً آج وہ ایک بے ربط اور غیر مستحکم زندگی گزار رہا ہے،اور استحکام کی تلاش میں مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔
اس کے بالکل برعکس، میرے والدین کی جانب سے مقرر کردہ حدود، طے کردہ اصول اور مجھ سے وابستہ اعلیٰ توقعات، وہ روشن مینار ثابت ہوئے جنہوں نے میری کامیابی کا راستہ ہموار کیا۔ بچپن میں مجھے اپنے والدین سے جو خوف محسوس ہوتا تھا، درحقیقت وہ حدود و ضوابط کے لیے ایک صحت مند احترام تھا۔ میرے والدین کا وہ متوازن انداز، جس میں غیر ضروری خواہشات پر حقیقی ضرورتوں کو ترجیح دی گئی، نے میری شخصیت میں نظم و ضبط، جوابدہی اور مقصدیت جیسی خوبیاں پیدا کر دیں۔ والدین کی وہ بظاہر چبھنے والی سختی بالآخر رنگ لائی اور مجھے ایک متوازن اور کامیاب زندگی کی طرف رہنمائی مل گئی۔
اصولوں کے دائرے میں جینے اور حدود کی پاسداری پر مبنی اس تجربے نے مجھے ایک عظیم سبق سکھایا کہ مؤثر پرورش محبت اور نظم و ضبط میں سے کسی ایک کے انتخاب کا نام نہیں، بلکہ ان دونوں کے ایک حسین اور متوازن امتزاج کا نام ہے۔ اگر والدین کی محبت تمام حدیں پار کر جائے اور اس پر کوئی روک ٹوک نہ ہو، تو یہ بچے کی شخصیت کو سنوارنے کے بجائے بگاڑ کر رکھ دیتی ہے۔ دوسری جانب، اگر پرورش میں مقصدیت کے بغیر محض سختی اور زیادتی سے کام لیا جائے، تو یہ کردار سازی نہیں کرتی، بلکہ بچے کی روح کو کچل کر اس کی عزتِ نفس کو بری طرح مجروح کر دیتی ہے۔ اس متوازن تربیت کی بہترین مثال چائے کی ایک پیالی جیسی ہے۔ اگر ہم چائے میں حد سے زیادہ چینی ڈال دیں، تو وہ شدید مٹھاس کے باعث پینے کے قابل نہیں رہتی، بالکل اسی طرح بے جا اور غیر مشروط لاڈ پیار بچے کو بے قابو اور ضدی بنا دیتا ہے۔ اور اگر چائے میں چینی سرے سے موجود ہی نہ ہو، تو اس کا ذائقہ اور لطافت ختم ہو جاتی ہے۔ ٹھیک ویسے ہی، محبت اور شفقت سے خالی پرورش بچے کو سرد مہری کا شکار کر دیتی ہے، جس سے وہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہو کر اندر سے مکمل طور پر ٹوٹ جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے کے بیشتر گھرانوں میں یہ معمول بن چکا ہے کہ بچے کے رونے یا ضد کرنے پر فوراً اس کی ہر خواہش پوری کر دی جاتی ہے۔ مؤثر پرورش کے باب میں شاید یہ پہلی اور سب سے بڑی غلطی ہے۔ جب بچہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کی ہر بے جا ضد اور مطالبہ محض شور مچانے یا رونے دھونے سے سے پورا ہو جاتا ہے، تو وہ ذہن میں یہ غلط اصول بٹھا لیتا ہے کہ پوری دنیا اس کی فوری خواہشات کے گرد گھومتی ہے۔ تاہم، عملی زندگی کی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقی دنیا میں کامیابی، ضد، غصے، نخروں یا شور شرابے سے نہیں ملتی، بلکہ یہ ان کا مقدر بنتی ہے جو صبر، استقامت، حکمتِ عملی اور اپنے جذبات پر قابو پانے کا ہنر جانتے ہیں۔ لہٰذا، بچوں سے بے پناہ محبت کے باوجود انہیں کبھی اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ غلط رویے اپنا کر یا جوڑ توڑ کے ذریعے اپنی شرائط منوائیں۔ اس واضح انکار سے بچے میں جذباتی لچک پروان چڑھتی ہے، اور وہ سماجی اقدار اور ذاتی جوابدہی سیکھتا ہے جو اسے حقیقی دنیا کی کٹھن مشکلات کا دلیری سے سامنا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
بہت سے گھروں میں قواعد مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ روزانہ نئے ضوابط طے کرنا، اچانک بلاوجہ چھوٹ دے دینا اور حد سے زیادہ لچک دکھانا وہ سنگین کمزوریاں ہیں جو والدین کے اختیار اور ان کی رہنمائی کے اثر کو زائل کر دیتی ہیں۔ اگر والدین ہر دو دن بعد اپنے ہی بنائے ہوئے اصول بدل دیں، تو بچہ بہت جلد بھانپ لیتا ہے کہ یہ حدود انتہائی کمزور، عارضی اور توڑنے میں آسان ہیں۔ روزانہ بدلنے والے اصولوں کی ایک طویل فہرست کے بجائے، مستقل مزاجی پر مبنی چند بنیادی اور ‘ناقابلِ سمجھوتہ’ اصول ہی بچوں کی بہترین نشوونما اور ان کے رویوں کو سنوارنے کے لیے کافی ہیں۔
بچوں کی خامیوں پر غصہ کرنا یا جسمانی سزا کا سہارا لینا دراصل والدین کی اپنی کمزوری اور مایوسی کا عکاس ہے۔ تربیت کی اصل طاقت صبر اور مقصدیت میں پوشیدہ ہے۔ تاہم، محبت کی آڑ میں بچوں کی غلطیوں سے چشم پوشی کرنا بھی اتنا ہی تباہ کن ہے۔ جب بچہ کوئی غلطی کرے، تو والدین کا فرض اس پر اپنا غصہ اتارنا نہیں، بلکہ انتہائی سکون مگر سنجیدگی کے ساتھ اسے یہ احساس دلانا ہے کہ اس کے عمل سے دوسروں پر کیا منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اصلاح کا بہترین اور مؤثر طریقہ مار پیٹ نہیں، بلکہ ذمہ داری کا بوجھ فوراً بچے کے کاندھوں پر ڈالنا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر بچہ کوئی چیز بکھیرتا یا گند پھیلاتا ہے، تو اسے پیٹنے کے بجائے اسکے لیے یہ لازمی بنایا جائے کہ وہ بکھرائی ہوئی چیزیں خود سمیٹے، ذمہ داری کا یہ چھوٹا سا عمل اسے جوابدہی کا سب سے کٹھن سبق سکھاتا ہےکہ اپنے کیے گئے نقصان کی بھرپائی خود کرنی ہو گی۔
جذباتی تربیت، مؤثر پرورش کا ایک اور مضبوط ستون ہے۔ غصہ یا خوف محسوس کرنا ایک فطری امر ہے، لیکن اپنی بات منوانے کے لیے رونے کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ایک انتہائی غیر صحت مند رویہ ہے۔ اسی طرح خوف کے زیرِ اثر جھوٹ کا سہارا لینا ایک تباہ کن خصلت ہے جو رشتوں سے اعتماد کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ یاد رکھیں، بچے محض زبانی نصیحتوں کے بجائے والدین کے عمل اور مشاہدے سے کہیں زیادہ سیکھتے ہیں۔ لہٰذا، بچوں کی مؤثر رہنمائی کے لیے والدین کو سب سے پہلے اپنے جذبات پر قابو پانے کا عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا۔جب والدین کی محبت بے لگام ہو کر تمام حدیں پار کر جاتی ہے تو بچہ کبھی بھی احترام، جوابدہی اور ضوابط کی پاسداری نہیں سیکھ پاتا یہ بےجا لاڈ پیار درحقیقت اس کے مستقبل کو اپاہج کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر نظم و ضبط اتنا سرد اور سخت ہو کہ اس میں ہمدردی اور شفقت کی کوئی آمیزش باقی نہ رہے، تو یہ بچے کی روح کو کچل دیتا ہے اور والدین کے ساتھ اس کے جذباتی رشتے کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیتا ہے اس پوری پیچیدگی کا واحد حل ایک کٹھن مگر انتہائی ثمر آور توازن میں پوشیدہ ہے’’دل میں محبت اور ہاتھ میں اصول۔‘‘ متوازن رہنمائی کا یہ سفر ہرگز آسان نہیں، لیکن کامیابی کی حتمی ضمانت صرف اسی راستے میں ہے۔ یہی وہ لائحہ عمل ہے جو بچے کو ایک غیر متزلزل کردار، مضبوط قوتِ فیصلہ اور سچے احترام کے زیور سے آراستہ کرتا ہے۔ آج والدین تربیت کی کٹھن راہ میں جو صعوبتیں برداشت کرتے ہیں، جس صبر اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ ہرگز رائیگاں نہیں جاتے۔ درحقیقت، یہی وہ مضبوط بنیادیں ہیں جو کل بچے کی کامیابی، استقامت اور ایک بہترین انسان بننے کی صورت میں حقیقت بن کر سامنے آتی ہیں۔