جموں//عوام تک پہنچنے کے پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے لفٹینٹ گورنر منوج سنہا سابق وزراء ، سابق ارکانِ قانون سازیہ ، آل انڈیا کنفڈریشن آف ایس ٹی ، ایس سی ، او بی سی آرگنائیزیشن کے وفد جے اینڈ کے پہاڑی کلچر اور ویلفئیر فورم کے وفد اور آئی آئی ایم کے بانی ڈائریکٹر پروفیسر بی ایس سہائے سے راج بھون میں ملے ۔ سابق وزراء سکھنندن چودھری اور چودھری لال سنگھ ، سابق ایم ایل سی وکرم رندھاوا ، سریندر چودھری اور سریندر امباردار کے علاوہ سابق ایم ایل اے بلونت سنگھ منکوٹیہ لفٹینٹ گورنر سے ملے اور انہیں عوامی اہمیت کے حامل معاملات سے آگاہ کیا ۔ چیمبر آف ٹریڈرز فیڈریشن ، جموں کشمیر کے علماء اور اوقافِ اسلامیہ ڈوڈہ کے سابق منتظم عاصف جہاں گٹوکی قیادت میں لفٹینٹ گورنر سے ملے ۔ سابق ایم ایل سی وکرم رندھاوا نے سیلف ہیلپ گروپوں کو برخاست کرنے ، رہبرِ کھیل اور این آئی ایس ملازمین کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانے سے متعلق معاملات اٹھائے ۔ ایک اور سابق ایم ایل سی سریندر چودھری نے نوشہرہ اور سندر بنی علاقوں سے متعلق معاملات اٹھائے جن میں سرحد پار سے گولہ باری سے لوگوں کی جانوں کو محفوظ رکھنے کیلئے انفرادی سرحدی بنکر تعمیر کرنے ، گورنمنٹ ڈگری کالج پر جاری کام میں سرعت لانے اور بجلی اور تعمیراتِ عامہ شعبوں کو مستحکم بنانے سے متعلق معاملات اٹھائے ۔ انہوں نے لفٹینٹ گورنر کو علاقے میں تعمیر کئے گئے بنکروں کی غیر معیاری کوالٹی کی جانب توجہ دلائی جس کے جواب میں لفٹینٹ گورنر نے انہیں یقین دلایا کہ اس سلسلے میں لازمی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ سابق وزیر سکھنندن چودھری نے کسان طبقے کی فلاح و بہبود اور نوجوانوں کیلئے روز گار کی فراہمی سے متعلق مانگیں پیش کیں ۔ سابق ایم ایل سی سریندر امباردار نے کشمیری پنڈتوں سے متعلق مسائل پیش کئے جن میں کشمیر میں اُن کی آبائی زمینوں پر ناجائیز قبضہ اور وزیر اعظم پیکج کے تحت اُن کیلئے روز گار کی فراہمی شامل تھے ۔ چودھری لال سنگھ نے کانکنی سرگرمیوں پر پابندی ، انجینئروں کے سیلف ہیلپ گروپوں کی تنسیخ ، جموں کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور مہاراجہ گلاب سنگھ کے مجسمے کی تنصیب کی مانگیں پیش کیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے سابق وزراء اور سابق ارکانِ قانون سازیہ کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت جموں کشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود اور یکساں ترقی کیلئے پُر عزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پانچ اصولوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جن میں انتظامیہ میں شفافیت ، بنیادی جمہوری اداروں کی بااختیاری ، عوام کی فلاح و بہبود ، تیز رفتار ترقی اور روز گار کے مواقعے پیدا کرنا شامل ہے تا کہ جموں کشمیر میں ترقی و خوشحالی کا ایک نیا دور شروع کیا جا سکے ۔دریں اثنا آل انڈیا کنفڈریشن آف ایس سی ، ایس ٹی ، او بی سی آرگنائیزیشن کے ایک وفد نے مسٹر آر کے کلسوترہ کی قیادت میں لفٹینٹ گورنر سے ملاقات کی اور مانگوں کی یاداشت پیش کی جن میں درجہ فہرست ذاتوں ، قبائل اور پسماندہ طبقہ جات سے وابستہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے معاملات بشمول ترقیوں میں نشستیں مخصوص رکھنے کے عمل کو لاگو کرنے ، درجہ فہرست ذاتوں اور دیگر طبقہ جات کیلئے آئینی اداروں، کمیشن ، بورڈوں اور عدلیہ میں معقول نمائندگی دینے ، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر بھون کی تعمیر ، موجودہ او ایس سی سند کی جگہ او بی سی سند جاری کرنے سے متعلق مانگیں شامل تھیں ۔ سابق وائس چئیر مین، پہاڑی زبان بولنے والوں کی ترقی کیلئے جموں کشمیر مشاورتی بورڈ کا وفد کلدیپ راج گپتا کی قیادت میں لفٹینٹ گورنر سے ملا اور انہیں پہاڑی زبان بولنے والے لوگوں کی فلاح و بہبود سے متعلق مسائل پیش کئے اور جموں کشمیر کے پہاڑی بولنے والوں کو درجہ فہرست قبیلے کا درجہ دینے کی مانگ کی ۔چیمبر آف ٹریڈرز کے ایک وفد نے نیرج آنند کی قیادت میں تاجروں کو درپیش مسائل کی فہرست پیش کی ۔ سابق منتظم اوقاف اسلامیہ ڈوڈہ عاصف جہاں گٹو لفٹینٹ گورنر سے ملے اور انہیں وقف جائیداد پر ناجائیز تجاوزات پر روک لگانے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی مانگ کی ۔جموں کشمیر کے مختلف علماء کے ایک وفد نے بھی کئی مانگیں پیش کیں جن میں یو ٹی میں مدرسہ بورڈ تشکیل دینے ، وقف بورڈ کو مستحکم بنانے ، وقف جائیداد کے تحفظ اور مساجد کے مولویوں کیلئے مشاہرہ ادا کرنے کی مانگیں پیش کیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے تمام معاملات و مسائل کو بغور سُنا اور انہیں یقین دلایا کہ اُن کی جائیز مانگوں کو مقررہ مدت کے اندر پورا کیا جائے گا ۔ آئی آئی ایم کے بانی ڈائریکٹر پروفیسر بی ایس سہائے لفٹینٹ گورنر منوج سنہا سے ملے اور انہیں آئی آئی ایم جموں میں جاری منیجمنٹ اور تحقیقی پروگراموں کے بارے میں تفصیل دی ۔ لفٹینٹ گورنر نے پروفیسر سہائے کو آئی آئی ایم کو ایک معیاری تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کیلئے اختراعی و اصلاحی اقدامات اختیار کرنے کیلئے کہا ۔