کیا ڈیجیٹل انڈیا کی رفتار لکھن پور سے آگے سست پڑ گئی ؟
سرینگر // انفارمشین ٹیکنالوجی کے اس دورمیںبھی جموں وکشمیر کے متعدد سرکاری محکمہ جات کی ویب سائٹس اپ ڈیٹ نہیں ہیں جس کے نتیجے میں ان محکمہ جات کے حوالے سے معلومات حاصل نہیں کی جاسکتیں۔ اس وقت پوری دینا ڈیجیٹل ہو چکی ہے جبکہ کئی سال قبل’ ڈیجیٹل انڈیا‘ کا نعرہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی دیا تھا ۔ اب ہاتھ میں نقدی تھمانے کے بجائے موبائل کے ذریعہ کسی اکاونٹ میںمنتقل کی جاتی ہے۔اب تو آن لائن معلومات کیساتھ ساتھ ، آن لائن خریداری عام ہورہی ہے۔ یہاں تک کہ راشن کیلئے بھی اب بائیو میٹرک نظام متعارف کیا گیا ہے۔ جموں کشمیر حکومت نے13فروری کوسرکاری رابطہ گاہوں(وئب سائٹوں) پر متواتر طور پر تازہ ترین معلومات کی دستیابی کیلئے سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سربراہی میں3رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔سرکار نے تمام انتظامی سکریٹریوں،ضلع ترقیاتی کمشنروں اور سرکاری محکموں کے سربرہاں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے محکموں کی رابطہ گاہوں(وئب سائٹوں) کونئی اسکیموں اور رہنما خطوط کے ساتھ (اپ ڈیٹ) کریں۔سرکاری محکموں کی متعدد ویب سائٹس ایسی ہیں، جنہیں برسوں سے ایپ ڈیٹ نہیں کیا گیا ہے اور محکمہ جات کی سکیموں اور دیگر چیزوں کے بارے میں کسی کوکوئی معلومات ہی نہیں ہیں۔ ویب سائٹس پر معلومات کی عدم فراہمی حق اطلاعات قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ لازمی معلومات ہر ادارہ قانون کے تحت اپنی ویب سائٹ پر شائع کرنے کا پابند ہے۔ حکومتی ویب سائٹس پر اطلاعات کی فراہمی نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ اس کے دیگر اور فوائد بھی ہیں۔لیکن یہاں کئی ایک ویب سائٹوں پر جن افسران کے نمبرات ابھی بھی درج ہیں وہ یا تو نوکری سے سبکدوش ہو چکے ہیں یا پھر ان کا تبادلہ ہو چکا ہے ۔ کئی ایک محکمہ جا ت کی تین تین ویب سائٹس ہیں جنہیں کھولنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ جموں وکشمیر محکمہ ٹرانسپورٹ کی ویب سائٹ ایپ ڈیٹ ہی نہیں ہے۔جموں وکشمیر فاریسٹ محکمہ کی ویب سائٹ پر جن افسران کے نا م درج ہیں وہ برسوں پہلے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں ۔محکمہ دہی ترقی کی ویب سائٹ پر کلک کرنے کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کا کنکشن پرائیوٹ نہیں ہے اسی طرح کئی ایک محکموں نے تین سے چار ویب سائٹ بنا کر رکھی ہیں، جن تک عام صارفین کا پہنچنا کافی مشکل ہے ۔ ایسا ہی حال دیگر ویب سائٹوں کا بھی ہے جنہیں ا ب ڈیٹ نہیں کیا جا تا ہے ۔سینئر آرٹی آئی کارکن راجہ مظفر نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کی سرکاری ویب سائٹوں پر اب صرف پٹواریوں اور دیگر ملازمین کے تبادلوں کے حوالے سے ہی جانکاری ملتی ہے جبکہ کئی ایک ویب سائٹ ایسی ہیں جن پر ابھی بھی محبوبہ مفتی کا فوٹو چسپان ہے، یہی نہیں بلکہ کئی ایک پر وزیر تعلیم ابھی بھی الطاف بخاری کو دکھایا گیا ہے ۔راجہ مظفر نے مزید بتایا کہ انہوں نے اس تعلق سے کئی بار آر ٹی آئی کی ،لیکن کوئی بھی محکمہ جواب دینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ 18جنوری کو جموں وکشمیر آر ٹی آئی مومنٹ کا ایک وفد اس تعلق سے ایل جی منوج سنہا سے ملاقی ہوا اور اس بارے میں انہیں آگاہ کیا جس کے بعد ایل جی کی ہدایت پر جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ نے ایک سرکیولر جاری کیا جس میں تمام کمشنر سکریٹریوں، محکموں کے سربراہان اور ضلع ترقیاتی کمشنروں کو نوٹسز جار کی گئیںکہ تمام محکمہ جات ایک ماہ کے اندر اندر اپنی ویب سائٹ کو ایپ ڈیٹ کریں اور آر ٹی آئی کے متعلق جانکاری دستیاب رکھیں ۔انہوں نے کہا کہ آر ٹی آئی کے سیکشن 4 میں لکھا گیا ہے کہ ہر کوئی جانکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہونی چاہیے تاکہ لوگوں کو جانکاری حاصل کرنے کیلئے آر ٹی آئی کرنے کی ضرورت نہ پڑے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کسی کو بھی یہ جانکاری نہیں ہے کہ اندراواس یوجنا کے تحت کس گائوں میں سرکار نے اس سکیم کے تحت کتنے مکان بنائے ہیں اور انہیں کتنا پیسا ملا ہے ، نریگا کا کام کس کس گائوں میں ہو رہا ہے اور اس کی لاگت کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم جی ایس وائی کی کسی بھی جگہ پر کوئی ویب سائٹ ہی دستیاب نہیں ہے جب ہم نے ان کو آر ٹی آئی کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ ہمیں سڑکوں کا ڈی پی آر بتائیں تو وہاں سے 15ہزار روپے فیس کا تقاضا کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ یہاں سرکاری محکمہ جات کی کسی بھی ویب سائٹ پر عوام کیلئے کوئی جانکاری ہی نہیں ہوتی ہے ۔