سرینگر //کشمیر صوبے میں سنیچر کو6ویں دن بھی کورونا وائرس سے کوئی بھی شخص فوت نہیں ہوا جبکہ جموں صوبے میں ایک شخص وائرس کی وجہ سے اپنی جان گنواچکا ہے۔ کورونا وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 4363تک پہنچ گئی ہے۔اس دوران جموں و کشمیر میں پچھلے 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے61ہزار 88ٹیسٹ کئے گئے جن میں 179افراد کی رپورٹیں مثبت قرار دی گئی ہیں۔ اسطرح متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 19ہزار 755ہوگئی ہے۔گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں 5سفر کرنے والوں سمیت مزید 179افراد کی رپورٹیں مثبت قرار دئے گئے ہیں جن میں 62جموں جبکہ117کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 117افراد میں سے 2بیرون ریاستوں سے واپس لوٹے ہیں جبکہ 115مقامی سطح پر رابطے کی وجہ سے وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر صوبے کے 117متاثرین میں سرینگر میں59، بارہمولہ میں6، بڈگام میں12 ,پلوامہ میں13،کپوارہ میں8، اننت ناگ میں2، بانڈی پورہ میں5،گاندربل میں5،کولگام میں7اور شوپیان0افرادکی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد1لاکھ98ہزار579ہوگئی ہے۔وادی میںجمعہ کشمیر صوبے میں متواتر5ویں دن بھی کورونا وائرس سے کوئی بھی شخص فوت نہیں ہوا ہے۔ اسلئے کشمیر صوبے میں متوفین کی مجموعی تعداد 2231بنی ہوئی ہے۔ جموں صوبے میں62افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں جن میں3بیرون ریاستوں سے سفر کرکے جموں پہنچے ہیں جبکہ۔دیگر59افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ جموں صوبے کے62متاثرین میں جموں میں13، ادھمپور میں1، راجوری میں10، ڈوڈہ میں15، کشتواڑ میں9، پونچھ میں6،رام بن میں,6کٹھوعہ میں1،سانبہ میں0اور ریاسی1 کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ جموں صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ 21ہزار176ہوگئی ہے۔جموں صوبے میںپچھلے 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے ایک شخص فوت ہوا ہے۔ مرنے والا شخص چند دن قبل گورنمنٹ مڈیکل کالج ڈوڈہ میں داخل ہوا تھا لیکن چند دن زیر علاج رہنے کے بعدوہ سنیچر کو فوت ہوگیا ۔ متوفین کی مجموعی تعداد2132ہوگئی ہے۔
کووڈ کے پیش نظر
نماز عید کے اجتماعات سے اجتناب کی تاکید
بلال فرقانی
سرینگر//صوبائی انتظامیہ کشمیر نے کوروناوائرس کے پھیلائو کے اندیشے کے پیش نظر عید الضحیٰ پر جامع اجتماعات سے اجتناب کرنے کی تاکید کی ہے۔ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے کہاگیاہے کہ کوروناکی تیسری لہر کی پیش گوئی کے پیش نظر ، نمازعیدکے اجتماعات میں نمازیوںکی بڑی تعداد نہیں ہوگی اور لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ بڑے اجتماعات سے اجتناب کریں۔حکام نے کہاہے کہ انتظامیہ نے فیصلہ لیاہے کہ نماز عید کے بڑے اجتماعات کی اجازت نہیں ہوگی۔حکام نے مزید کہا کہ لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ اللہ تعالی سے دُعا کریں کہ عالم انسانیت آئندہ کی کسی بھی لہر سے محفوظ رہے۔ صوبائی انتظامیہ نے واضح کیاکہ ہمیں اپنی تمام روز مرہ کی سرگرمیوں میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے ، جس میں نہ صرف اجتماعی نمازوں میں کم لوگوںکی شرکت ہی نہیںبلکہ ماسک کا استعمال اوربازاروں میں بھیڑکی جگہوں سے دوررہنا بھی شامل ہے۔