جموں // گورنمنٹ ایس پی ایم آر کالج آف کامرس کے ایکو کلب ، این ایس ایس یونٹس اور کلائمیٹ فرنٹ نے ایک ساتھ مل کر این ایس ایس پروگرام آفیسر پروفیسر عرفان عارف، ایکو کلب کنوینر ڈاکٹر دیپک پٹھانیہ اور اچوتم کھجوریہ کی سربراہی میں مبارک منڈی محل جموں میں واقع باغات میں صفائی ستھرائی کی مہم چلائی جس میں کالج اور کلائمیٹ فرنٹ کے رضاکاروں نے بڑے جوش و جذبے کے ساتھ اس مہم میں حصہ لیا۔ اس صفائی مہم کا مقصد عوام میں بیداری لانا تھا آج ہمارے سماج، ملک ، معاشرے کے ساتھ ساتھ ہمارے خون میں بھی پلاسٹک کا عمل داخل اس حد تک ہو چکا ہے کہ جانوروں کے ساتھ انسانی زندگیوں کو بہت بڑا خطرہ لاحق ہے۔ باغات میں پلاسٹک اور کانچ کی بوتلوں کے علاوہ کوڑا کرکٹ اٹھاکر صفائی کی اور ساتھ ہی وہاں موجود بچوں اور بزرگوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ بھی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ عرفان عارف نے اس موقع پر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2 اکتوبر 2014کو ملک گیر سطح پر صفائی ستھرائی کی مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم کا نام سْوَچھ بھارت اَبِھیان دیا گیا لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم نہ صرف خود کو صاف ستھرا رکھیں بلکہ اپنے آس پاس کے علاقوں میں بھی گندگی نہ پھیلنے دیں۔صفائی ہماری فطرت اور ہماری ثقافت میں ہونی چاہیے۔ اچوتم کھجوریہ نے کہا کہ افسوس کہ محل کے صحن میں جہاں کبھی مہاتما گاندھی کی مورتی رکھی ہوئی تھی وہاں آج گندگی کا ڈھیر جمع ہے۔ یاد رہے کہ یہ محل ڈوگرہ خاندان سے تعلق رکھنے والے جموں و کشمیر کے مہاراجہ کی شاہی رہائش گاہ تھی۔اور 1925 تک ان کی مرکزی نشست تھی جب مہاراجہ ہری سنگھ جموں کے شمالی حصے میں واقع ہری نواس محل میں چلے گئے۔ محل اس انداز میں بنایا گیا ہے جو راجستھانی اور مغل فن تعمیر دونوں سے ملتا جلتا ہے۔ تمام رضاکاروں نے صفائی کے بعد مبارک منڈی میں موجود پنک ہال میں ڈوگرہ آرٹ میوزیم کا بھی دورہ کیا۔ جس میں کانگڑا، جموں اور باشولی کے مختلف پہاڑی اسکولوں کی چھوٹی پینٹنگز ہیں۔ اس میں مغل شہنشاہوں مہاراجوں کی تصویریں، اوزاروں ، سکوں، برتنوں ملبوسات اور جنگی ساز و سامان بندوق، کمان اور تیر، مخطوطات وغیرہ کی نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔