ٹی ای این
سرینگر// ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے یا جنگ بندی کے باوجود پٹرول، اشیائے خورد و نوش اور ہوائی سفر کے کرایوں میں فوری کمی آنے کی توقع نہیں ہے، کیونکہ جنگ کے دوران پیدا ہونے والے معاشی اثرات اور سپلائی چین میں رکاوٹیں طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل، ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اگرچہ حالیہ امن معاہدے اور بحری راستوں کی بحالی کی خبروں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو فوری ریلیف ملنے کا امکان نہیں۔ ماہرین کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عام طور پر تیزی سے بڑھتی ہیں لیکن ان میں کمی کا عمل سست ہوتا ہے، کیونکہ ریفائنریاں پہلے سے خریدے گئے خام تیل کو استعمال کرتی ہیں اور سپلائی کے معمول پر آنے میں وقت لگتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی توانائی کی منڈی کو مکمل استحکام حاصل کرنے میں کئی ہفتوں بلکہ مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے۔
فضائی سفر کے حوالے سے ماہرین نے بتایا کہ ایئر لائن کمپنیاں جنگ کے دوران بڑھائے گئے کرایوں کو فوری طور پر کم نہیں کریں گی۔ ایندھن کی بلند لاگت، نشستوں کی محدود دستیابی اور مضبوط طلب کے باعث فضائی ٹکٹوں کی قیمتیں آئندہ کئی ماہ تک بلند رہ سکتی ہیں۔ بعض بین الاقوامی پروازوں کے کرایوں میں جنگ شروع ہونے کے بعد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ زرعی شعبہ بھی جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ ماہرین کے مطابق کھاد اور ایندھن کی ترسیل متاثر ہونے سے زرعی لاگت میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خوراک کی مہنگائی کے اثرات 2027 تک محسوس کیے جا سکتے ہیں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں فوری کمی کا امکان کم ہے۔معاشی ماہرین نے مزید کہا کہ اگرچہ امن معاہدے کے بعد تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آنا شروع ہوئی ہیں، لیکن عالمی سپلائی چین، شپنگ لاگت اور انشورنس اخراجات میں اضافے کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اسی وجہ سے عام صارفین کو پٹرول پمپوں، بازاروں اور سفری اخراجات میں فوری ریلیف ملنا مشکل نظر آتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات اکثر میدان جنگ کے خاموش ہونے کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں، اور موجودہ صورتحال میں بھی یہی منظرنامہ دکھائی دے رہا ہے۔