قیصر محمود عراقی
تین حرفوں کا مجموعہ لفظ ’’ ماں ‘‘ جس کی اولاد کے لئے محبت ، ایثار ، ہمدردی ، وفاداری ، چاہت ، دعائیں مبالغہ آرائی اور ریاکاری سے قطعی مبرّا ہے ۔ صبح ازل سے اگر دنیا کی عظیم مائوں کا ذکر کیا جا ئے تو حضرتِ اما ں حوا ؑ ، حضرت مریم ؑ اُم عیسیٰ ؑ ، حضرتِ ہاجرہ اُم اسماعیل ؑ ، حضرت سارہ ؑ اُم اسحاق ؑ ، حضرت فاطمہ ؓ اُم حسینین ؓ اور سب سے بڑھ کر محترم ، مقدس اور لائق ِ تکریم ہستی حضرت آمنہ اُم حضر ت محمدؐ ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک ماں کے شاندار عین فطرت کر دار کو سلامی ہے جو دنیا کے بڑے بڑے سربراہانِ مملکت سمیت بڑے بڑے ذی وقار بشر ایک ماں حضرت ہاجرہ ؑ کی تقلید میں سعی صفا و مروہ کے درمیان دوڑ لگاتے ہیں اور اس کے بغیر مناسک حج مکمل نہیں ، جنت کو ماں کے قدموں تلے قرار دیکر عزت ، احترام اور تقدس کا ہالہ ماں کے گرد کھینچ دیا گیا ۔ خدا کی بندگی اور رسولؐ کی اطاعت کے بعد فرما نبر داری اور اطاعت گزاری کا درجہ اور حکم اسلام کسی کو دیتا ہے تو والدین خصوصاً جنت کی سفیر ماں کو دیا ہے ۔ ماں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں ایک نعمت غیر مترقبہ ہے ، جس کی اولاد کے لئے دعائیں قبولیت کا ایک تیر بہد ف نسخہ ہے ۔ دنیا کی نظروں میں جو شخص سب سے زیادہ جھوٹا اور گناہوں سے اَٹا ہے ماں کی نظروں میں وہ اتنا ہی سچا اور متقی ہے ، گویا اللہ نے مخلوق سے اپنے انس و محبت اور رحم کو ماں کے روپ میں ڈھال کر روئے زمین کی بساط پر پھیلا دیا ۔ اللہ تعالیٰ ماں کے وجود کو ان گنت ستودہ صفات و خصوصیات ، مجاہدات و ریا ضات کی خوشبوئوں ، پیار ، ایثار کے خمیر سے تخلیقی وجود میں لا یا ، اولاد کو ذرا سی تکلیف ماں کے لئے درماندگی اور کرب میں مبتلا کر نے کے لئے کافی ہے۔ یہ ماں کے پیار کا اعتراف ہے کہ دار الفنا ء عارضی زندگی میں اولاد باپ کے نام سے پکاری جا تی ہے جبکہ دار البقا ء دائمی زندگی میں ماں کے نام سے منسوب ہو گی ۔
یہ فطری قانون ہے کہ دنیا اور نظام حیات میں تہذیب و تمدن ، رسم و رواج ، بود باش میں تغیر ا ت اور عروج و زوال آتے رہے اور آتے رہیںگے ، ہزاروں انقلاب بر پا ہو ئے مگر ماں جیسی ہستی کے لا جوال محبت میں کوئی کمی آئی نہ تبدیلی ۔ ماں کا وجود ایک ناقابلِ تسخیر محبت کی دیوی اور زمین پر خدا کی محبت کے روپ کا نام ہے ، مامتا کا وصف متاع عزیز ، بے پایاں مروت کو کبھی تولا جا سکتا ہے نہ ماپا۔ دنیا کے تمام مسالک ، تہذیب ، مذاہب ، کوئی تر قی پذیر ہو یا تر قی یافتہ ، امیر ہو یا غریب ، نوجوان ہو یا بوڑھا ، خوبصورت ہو یا بد صورت ، انسان ہو یا جا نور ، چرند ہو پر ند ہر جاندار کے لئے قدرت نے اس کی ماں کے دل میں ان کے لئے محبت ، پیار کے جذبہ کو جا گزیں و ودیعت کو بد رجہ اُتم کوٹ کوٹ کر بھر دیا ۔ پیار ، محبت ، اخوت ، خوشی ، مسرت ، قربانی اور بے لوث دعائوں کے نا ختم ہو نے والے سلسلے کے خوبصورت رنگوں کو ایک ساتھ یکجا ں کر نے سے جو قوس و قزح کا حسین منظر دکھائی دیتا ہے ، اسے ماں کہتے ہیں ۔ دکھ درد کی اذیت کو ہنستے مسکراتے اپنے دامن میں چھپانے والے جذبات و احساسات کی خوشبوں سے معطر ہو نے والی فضا ’’ ماں ‘‘ کہلاتی ہے ، ماں ایک رشتے کا نام نہیں بلکہ ایک لطیف جذبے کا نام ہے ، ایک عقیدت کا نام ہے ۔ یخ ٹھنڈی ہوائیں بھی اس مقام پر معذوری ظاہر کر دیتی ہیں جہاں ماں کی ایک شفقت بھری نگاہ پڑتی ہے ۔ ماں وہ ایک عظیم رشتہ ہے جس کے قدموں تلے خدائے بزرگ ، بر تر کی طرف سے جنت بچھا دی گئی ۔ محبت کے پیکر اس رشتے کی فضیلت و عظمت بیان کر نے کے لئے ذخیرہ الفاظ کم پڑ جا تا ہے ، اس بے لوث ہستی کے مقام بلند کو حروف میں بیان کر نا کسی انسان کے بس میں نہیں ہے کیونکہ ماں کی محبت اس سایہ شجر کی مانند ہے جس کی بدولت ٹھنڈک و سکون اور راحت و مسرت کا انمول خزانہ ملتا ہے ، ماں کی ایک نظر کرم سے انسان اپنے سارے دکھ درد اور غم سب بھول جا تا ہے ، ماں محبت کا وہ عظیم منار ہے جسے خود خدا نے اپنی محبت قرار دیا ہے ۔کیونکہ دنیا میں واحد رشتہ ماں ہے جو کسی غرض ، مقصد یا مطلب کے بغیر اپنی اولاد پر عقیدت و محبت نچھاور کر تی ہے ۔ ان کی مشکلات کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے ، ماں کا رشتہ دنیا کے تمام رشتوں سے مقدس اور افضل رشتہ ہے ۔
حضرت نبی کریمؐ نے فرمایا: جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے اس لئے اگر جنت حاصل کر نا چاہتے ہو تو ماں کی خدمت کرو ، وہ لوگ یقیناً جنتی اور خوش قسمت ہیں جنہوں نے ماں باپ کی خدمت کی اور ارشاد خدا وندی کے مطابق انہیں ذرہ بھی تکلیف نہ دی ۔ یاد رکھو ! اولاد کی تر قی ماں کی دعا میں پو شیدہ ہے ، جس کسی کی ماں اس کے لئے دعا گو ہو ،اس کو کامیابی و کامرانی حاصل کر نے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ جس کی پشت پر ماں جیسی عظیم ہستی کی دعا ہو، منزل اس کے قدم چومتی ہے۔ اس لئے ہر اولاد کو ماں کی عظمت کا تقدس اور اعتراف و پاسداری ہر گھڑی ، ہر ساعت لازم ہے۔ یہ گوہر نایاب یعنی ماں بار بار نہیں ملتا ہے ، یہ جنت کی کنجیاں ہیں ، یہ نظر انداز کر نے والی ہستی نہیں ہے کیونکہ سمندر کی گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے مگر ماں کا پیار کا نہیں ۔ ماں کائنات کی وہ حسین اور پاکیزہ لفظ ہے، جس میں محبت ، قربانی اور ایثار کے تمام رنگ سمائے ہو ئے ہیں۔ ماں صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ شفقت کا سمندر ہے ۔ ماں اپنے بچوں کی پر ورش کے لئے اپنی صحت اور زندگی دائو پر لگا دیتی ہے ، وہ خود بھوکی سو سکتی ہے لیکن اپنے بچوں کو بھوکا نہیں دیکھ سکتی ہے ، ماں خدا کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے ۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ماں کا احترام کریں ، اُن کے ساتھ حسن سلوک کریں اور اُن کی خدمت کر کے اللہ کی رضا حاصل کریں ۔
رابطہ۔6291697668
�������������������