کپوارہ//مارسری چوکی بل کپوارہ کے لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ محکمہ بجلی کے اہلکار چوکی بل کے مقام پرمارسری کی بجلی سپلائی کو کاٹ دیتے ہے،جس کی وجہ سے مارسری کی آبادی کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہیں۔کپوارہ سے27کلومیٹر دور مارسری چوکی بل ایک خوب صورت علاقہ ہے اور یہاں سے وادی بنگس کو سڑک جاتی ہے اوربنگس جانے والے سیلانی پہلے یہاں رُک جاتے ہیں اور قدرت کے نظاروں سے مطف اندوزہوتے ہیں ۔ایک مقامی شہری عبدالرشیدخان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ بجلی نے جو کٹوتی کا شیڈول مرتب کیا ہے ،اس شیڈول سے ہٹ کرمارسری علاقہ کیلئے ایک خفیہ الگ شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔مقامی لوگوں نے الزام عاید کیا کہ ایک روزکے بعد چوکی بل کے مقام پرمحکمہ کے اہلکار مارسری کیلئے بجلی سپلائی کی لائن منقطع کردیتے ہے اور اگلے روزبجلی سپلائی کو بحال کیا جاتا ہے۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ اگر وہ ہر ماہ بجلی فیس با قاعدگی سے ادا کرتے ہیں ،تو پھر کیا جواز ہے کہ مارسری علاقہ کی بجلی سپلائی کو چوکی بل کے مقام پر کا ٹ دی جاتی ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے جہا ں عام لوگو ں کو پریشانی ہے، وہیں زیر تعلیم طلاب کو بھی طرح طرح کے مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔ا س دوران علاقہ کے لوگو ں کو کہنا ہے کہ یہا ں پر محکمہ صحت نے ایک طبی مرکز قائم کیا ہے لیکن اس میں طبی سہولیات میسر نہیں ہے جبکہ اس طبی مرکز میں کسی بھی ڈاکٹر کو تعینات نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے علاقہ کے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران بھاری برف باری کی وجہ سے سڑک بند رہنے کے نتیجے میں مریضوں کو چار پائی پر لاد کر اسپتال تک لے جانا پڑا ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ مارسری کے طبی مرکز میں ایک ڈاکٹر کو تعینات کیا جائے تاکہ اس دور دراز علاقہ کے لوگو ں کو طبی سہولیات کیلئے در در کی ٹھوکریں نہیں کھانا پڑیں ۔