نئی دہلی // لوک سبھا میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکین نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سرکار نے وہاں کے لوگوں کو جو خواب دکھایا تھا وہ شرمندہ تعبیر نہیں ہوا اور لوگوں کو جو چیلنج درپیش تھے، ان میں کوئی بہتری نہیں ہوئی ہے ۔کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری نے ‘جموں کشمیر تنظیم نو (ترمیم) ایکٹ 2021’ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سرکار یہ آرڈیننس جموں و کشمیر کیڈر میں افسروں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے لائی ہے ، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہاں آرٹیکل 370 منسوخ کرنے سے قبل کوئی تیاری نہیں کی گئی تھی ۔ اب کیڈر کو پورا کرنا اور افسران کی کمی کو دور کرنے کے لئے دوسرے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے افسران کو وہاں تعینات کرنے کے لئے تیاری کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد وہاں کوئی ترقیاتی سرگرمی شروع نہیں ہوئی ہے ۔ کئی لوگ ابھی بھی جیلوں میں ہیں ، مواصلاتی نظام اب بھی سہل نہیں ہوا ہے اور 4 جی نہیں چل رہا ہے ۔ وہاں سرکار نے یہ دفعہ منسوخ کرنے سے قبل لوگوں کو جیل میں ڈالا ، مواصلاتی نظام ٹھپ کردیا ، بھاری تعداد میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا، لیڈروں کو نظربند کردیا گیا لیکن وہاں ابھی صورتحال معمول پر نہیں لوٹی ہے ۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کو واپس لانے کی بات سرکار کر رہی تھی لیکن ابھی تک اس سمت میں کوئی کام نہیں ہوا ہے ۔ سرکار وہاں بے گھر ہوئے پنڈتوں کو دو سے تین سو ایکڑ اراضی نہیں دے پا رہی ہے جبکہ صنعتکاروں کو زمین الاٹ کی جارہی ہے ۔