جموں// جموں کشمیر پیپلز مومنٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میںجاری حقِ خود ارادیت کی تحریک کو کچلنے کی خاطر آئے روز نت نئی سازشیں اور حربے اختیار کئے جارہے ہیں۔یہاں جاری ایک پریس بیان کے مطابق جموں میں پیپلز مومنٹ کی جانب سے منعقدایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینئر حریت رہنما اور پیپلز مومنٹ کے چیرمین میر شاہد سلیم نے کہا کہ نئی دہلی میں قائم آر ایس ایس کی پشت پناہی والی سرکار آئے دن جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کیساتھ چھیڑ خانی کر نے کی خاطر نت نئے حربے اور ہتھکنڈے اپنا رہی ہے اور اس سلسلے میں کبھی 35-A،تو کبھی 370ہٹائے جانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں تو کبھی ریاست کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ جموں کشمیر کی اکثریتی آبادی کو سیاسی اور اقتصادی طور زیادہ سے زیادہ کمزور اور معذور بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہ ریاست کی 2%آبادی پر مشتمل لداخ خطہ کو صوبائی درجہ دیا جانا بھی اس سازش کا ایک حصہ ہے۔ سابق ممبر پارلیمان اور نامور سیاست دان شیخ عبدالرحمن جنہوں نے اس محفلِ مذاکرہ کی صدارت کی، نے کہا کہ نئی دہلی میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار پورے بھارت میں سخت گیر ہندتو کا ایجنڈا عملا رہی ہے جس کے نتیجے میں اقلیتوں کو شدید آلام و مصائب کا شکار بنایا جا رہے ۔انہوں نے کہا ریاستی گورنر بی جے پی اور آر ایس ایس کی ایما پر ایسے فیصلے لے رہے ہیں جن کو ان کے پاس قطعی منڈیٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی گورنر جموں کشمیر کے حصے بخرے کر کے ریاست کی سالمیت کو شدید نقصان پہنچانا چاہتا ہے جس کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی۔محفل مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے نامور سیاسی و سماجی کارکن آئی ڈی کھجوریہ نے کہا کہ آر ایس ایس کی پشت پناہی والی بی جے پی حکومت اگر ریاست کے کسی بھی حصے کو با اختیار بنانے میں سنجیدہ ہوتی تو انہوں نے اس مقصد کی خاطر ایک مناسب طریقہ کار اختیار کیا ہوتا تا کہ پیر پنچال اور چناب خطے جیسے مستحق خطہ جات کو بھی اختیارات تفویض کئے جاتے۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ ہوناابھی باقی ہے اور بھارت کو چاہےے کہ نت نئے حربے اختیار کر کے ریاست کی بندر بانٹ کرنے کے بجائے مسئلہ کشمیر کو سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اختیار کئے جا رہے یہ سارے ہتھکنڈے کسی بھی طور جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ سمینار سے عبدالحمید خان، چوہدری محمد شریف، عبدالجبار، نذیر احمد، نور حسین ، شریف احمد کھانڈے اور شبیر احمد گنائی نے بھی خطاب کیا۔