نئی دہلی // وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت اور چین مشرقی لداخ میں پیگانگ جھیل کے جنوب اور شمال میں اپنی فوجیوں کو ہٹانے پر متفق ہوگئے ہیں۔راجیہ سبھا میں لداخ میں فوجیوں میں کمی کرنے کے چین کے بیان کے تناظر میں انہوں نے ایوان کو جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ فوجی کمانڈر سطح کے مذاکرات کے نویں دور کے بعد دونوں ممالک نے اتفاق سے یہ فیصلہ لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے ایوان کو یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہمارے نقطہ نظر اور جاری مذاکرات کے نتیجے میں چین کے ساتھ پیگانگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کنارے پر معاہدہ طے پایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیگانگ جھیل کے علاقے میں چین کے ساتھ پیچھے ہٹنے سے متعلق معاہدے کے مطابق دونوں فریق آگے کی تعیناتی کو مرحلہ وار، مربوط اور تصدیق شدہ طریقے پر عمل کریں گے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ میں اس ایوان کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے اس گفتگو میں کچھ بھی نہیں کھویا ہے،میں ایوان کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ایل اے سی پر تعیناتی اور گشت کے حوالے سے ابھی بھی کچھ امور باقی ہیں، ان پر ہماری توجہ آئندہ کی بات چیت میں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ دوطرفہ معاہدوں اور پروٹوکول کے تحت مکمل طور پر پیچھے ہٹنے کے عمل کو جلد از جلد پورا کیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ چین بھی ملکی خودمختاری کے تحفظ کے ہمارے عزم سے آگاہ ہے،یہ توقع کی جا رہی ہے کہ چین باقی معاملات کو حل کرنے کے لئے ہمارے ساتھ مل کر کام کرے گا۔وزیر دفاع نے کہا کہ میں ایوان کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ بھارت نے چین کو ہمیشہ کہا ہے کہ باہمی رشتہ دونوں فریقوں کی کوششوں سے استوار ہوسکتا ہے، اسی طرح باہمی مسائل بھی بات چیت کے ذریعے ہی حل کئے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال میں نے اس ایوان کو آگاہ کیا تھا کہ ایل اے سی کے آس پاس مشرقی لداخ میں کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے، بھارت کی سلامتی کے ضمن میں ہماری مسلح افواج کی جانب سے بھی مناسب اور موثر جوابی تعیناتی کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی افواج نے مستقل طور پر ان تمام چیلنجوں کا مقابلہ کیا اور انہوں نے پیگانگ تسو کے جنوبی اور شمالی کنارے پر اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج بڑی ڈھٹائی کے ساتھ لداخ کی اونچی پہاڑیوں اور کئی میٹر برف کے درمیان سرحدوں کا دفاع کر رہی ہے اور اسی وجہ سے ہم مضبوط حالت میں ہیں۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہماری افواج نے بھی اس بار یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ بھارت کی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لئے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ بات چیت کے لئے ہماری حکمت عملی اور نقطہ نظر وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر مبنی ہے کہ ہم کسی کو بھی اپنی ایک انچ زمین نہیں لینے دیں گے، یہ ہمارے عزم کا نتیجہ ہے کہ ہم معاہدے کی پوزیشن پر پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان رہنما خطوط کے پیش نظر ستمبر 2020 سے فوجی اور سفارتی دونوں سطح پر دونوں فریق کے درمیان کئی بار بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر کمانڈر سطح کی اب تک9 راؤنڈ کی بات چیت ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہمعاہدے کے مطابق دونوںملکوں کی فوجیں ایک ہفتے سے10دنوں کے اندراندر موجودہ مقامات کو مرحلہ واربنیادوں پر خالی کریں گی ۔ دونوں ملکوں کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کے تحت دونوں اطراف سے فوجیوں کی واپسی کاعمل بدھ کے روز شروع کردیاگیاہے ۔ معاہدے کے مطابق متفقہ مقامات سے فوجیوں کی واپسی کے بعددونوں ملکوں کے فوجی کمانڈروں کے درمیان48گھنٹوں کے اندراگلی میٹنگ ہوگی ،جس میں اس عمل کوآگے بڑھانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیاجائیگا۔ چین اپنی فوج کی موجودگی پیگانگ جھیل کے شمالی کنارے میں’فنگر 8‘کے مشرق میں برقرار رکھے گا،جبکہ ہندوستانی فوجی’’فنگر3‘‘ کے قریب دھن سنگھ تھاپا پوسٹ پر اپنے مستقل اڈے پر موجود رہیں گے۔ جھیل سے مکمل انخلاء ہونے کے بعد باقی کسی بھی مسئلے کو سینئر کمانڈروں کی اگلی میٹنگ کے اندرحل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ جھیل کے شمالی کنارے میں دونوں اطراف کی فوجی سرگرمیوں پر عارضی طور پر تعطل رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے ، جس میں روایتی طور پر دونوں اطراف کے زیر کنٹرول علاقوں میں گشت کرنا بھی شامل ہے۔ جب دونوں فریق کسی معاہدے پر پہنچیں گے تو گشت دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ جھیل کے شمالی اور جنوبی دونوں کناروں میں اپریل 2020 سے دونوں فریقین کے ذریعہ جو بھی ڈھانچے تعمیر کئے گئے تھے وہ ختم کردیئے جائیں گے اور زمینی شکل کو بحال کیا جائے گا۔