عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے نیشنل گرین ٹریبونل کو مطلع کیا ہے کہ اس نے سرینگرمیں ماحولیاتی حساس زبرون پہاڑی سلسلے میں بٹالین کے ایک نئے کیمپ کی تعمیر کے اپنے مجوزہ منصوبے کو چھوڑ دیا ہے۔یہ مجوزہ مقام داچھی گام نیشنل پارک کے قریب زبرون پہاڑیوں میں آتا ہے، یہ ایک محفوظ علاقہ ہے جو اپنے نازک ماحولیاتی نظام اور شدید خطرے سے دوچار کشمیری ہانگل کے قدرتی مسکن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ یہ منصوبہ ماحولیاتی انحطاط اور شہر کے برین علاقے میں مقامی باشندوں کی نقل مکانی کا باعث بنے گا۔برین کے رہائشیوں کے ایک گروپ نے پچھلے سال ٹربیونل سے رجوع کیا تھا، اس تجویز کو چیلنج کیا تھا اور ماحولیاتی نقصان اور نقل مکانی کو روکنے کے لیے مداخلت کی کوشش کی تھی۔
سی آر پی ایف ڈائریکٹوریٹ جنرل اور 79 ویں بٹالین کے کمانڈنٹ 16 فروری کو ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے، ایڈوکیٹ گیگی سی جارج اور گیان چند مینا نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ہدایات موصول ہوئی ہیں کہ اس پروجیکٹ کو ” روک دیاگیا ہے”۔ رپورٹ کے مطابق، عدالت کو بتایا گیا کہ ہدایات سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل آف پولیس(ہیڈ کوارٹر) کے انچارج (قانون) ونود ساونت نے دی تھیں۔این جی ٹی نے کیس کو مثبت طریقے سے بند کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا”اس پیش رفت کے بعداصل درخواست میں کچھ بھی نہیں بچا، جس کے مطابق اسے نمٹا دیا جاتا ہے‘‘۔درخواست گزاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ سوربھ شرما نے کہا کہ ٹربیونل نے قبل ازیں 25 ستمبر 2025 کو جموں و کشمیر کے حکام اور 16 فروری کو سی آر پی ایف حکام کو نوٹس جاری کیے تھے۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سائٹ اب اچھوتی رہے گی اور اپنے ماحولیاتی کردار کو برقرار رکھے گی۔