نئی دہلی/ست شرما ، صدر جموں و کشمیر بی جے پی اور رکن پارلیمنٹ (راجیہ سبھا)، نے جموں۔سری نگر قومی شاہراہ کی اپ گریڈیشن سے متعلق ایک اہم مسئلہ راجیہ سبھا میں غیر ستارہ سوال کے ذریعے اٹھایا۔ست شرما نے وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں سے وضاحت طلب کرتے ہوئے بھارت مالا فیز-اول کے تحت 336کلومیٹر طویل جموں۔سری نگر قومی شاہراہ پر ہونے والی پیش رفت، سفری کارکردگی اور لاجسٹکس کی نقل و حرکت میں بہتری کا جائزہ، اور اس راہداری پر سڑک کی حفاظت اور ٹریفک مینجمنٹ کے اقدامات کے بارے میں معلومات مانگیں۔
مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں، نتن جے رام گڈکری نے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ جموں۔سری نگر قومی شاہراہ، جو تقریباً 244کلومیٹر طویل ہے، کو چار لین شاہراہ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ کے تقریباً 230 کلومیٹر حصے پر کام مکمل ہو چکا ہے، جس میں جموں۔رامبن اور بانہال۔سری نگر کے اہم حصے شامل ہیں، نیز 20سرنگوں اور 9بائی پاسز کی تعمیر بھی شامل ہے۔ باقی 14 کلومیٹر کا رام بن۔بانہال سیکشن اس وقت زیرِ تعمیر ہے اور جون 2027 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔وزیر نے مزید بتایا کہ اس منصوبے سے جموں اور سری نگر کے درمیان رابطے میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں سفر کا فاصلہ تقریباً 295 کلومیٹر سے کم ہو کر 244کلومیٹر رہ گیا ہے اور سفر کا وقت 8سے9گھنٹے سے کم ہو کر تقریباً 5گھنٹے ہو گیا ہے۔ اس سے ایندھن کی کھپت میں نمایاں کمی اور خطے میں لاجسٹکس کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔حفاظت اور نگرانی کے حوالے سے گڈکری نے کہا کہ شاہراہ کی تعمیر بھارتی روڈز کانگریس (آئی آر سی) کے معیارات کے مطابق کی جا رہی ہے، جس میں سڑک کی حفاظتی جانچ، سائن بورڈز کی تنصیب، کریش بیریئرز، سڑک کی مارکنگ اور اہم مقامات پر روشنی کے انتظامات شامل ہیں۔ نیٹ ورک سروے وہیکلز (این ایس وی) اور فیلڈ معائنوں کے ذریعے مسلسل نگرانی بھی کی جا رہی ہے، جبکہ بروقت دیکھ بھال اور ٹریفک مینجمنٹ سسٹمز کی تعیناتی کے ذریعے محفوظ، قابلِ اعتماد اور ہر موسم میں رابطہ یقینی بنایا جا رہا ہے۔اس موقع پر ست شرما نے نریندر مودی کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھارت کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً جموں و کشمیر میں، انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ ہند کی جانب سے سڑکوں کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے پر غیر معمولی توجہ نے خطے میں مجموعی ترقی کو تیز کیا ہے اور عوام کی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔