بلال فرقانی
سرینگر//عیدالفطر سے قبل ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں ہی وادی کشمیر میں قصابوں نے گوشت کی قیمتوں میں ازخود اضافہ کردیا ہے آل کشمیر بْچر یونین صدر خضر محمد ریگو نے بتایا کہ موجودہ صورتحال مدنظر رکھتے ہوئے تازہ ریٹ لسٹ جاری کی گئی ہے جس کے تحت ڈریسڈ مٹن کی نئی قیمت 740 روپے فی کلو بغیر اجڑی جبکہ 700 روپے فی کلو 100 گرام اجڑی کے ساتھ مقرر کی گئی ہے۔سرینگر شہر میں رمضان کے آغاز سے قبل ہی قصابوں نے یہ ریٹ از کود مقرر کر کے گوشت کی فروخت شروع کردی تھی۔قصاب یونین کے اس فیصلے پر صارفین نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عیدالفطر قریب ہے اور گوشت کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔واضح رہے کہ سال 2023 میں حکومت نے جموں کشمیر مٹن( لائنسنس اینڈ کنٹرول) آرڈر 1973 کو منسوخ کر دیا تھا، جو کہ 12 دسمبر 1973 کوایس آر او 646 کے تحت نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون کے خاتمے کے بعد گوشت کی قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کر دیا گیا جس کے بعد نرخوں کا تعین زیادہ تر بازار کی صورتحال اور قصاب یونین کے فیصلوں پر منحصر ہو گیا ہے۔اس سلسلے میں جب ہول سیل مٹن ڈیلرس ایسوسی ایشن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے نئی قیمتوں کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے کہا کہ جب سے حکومت نے گوشت کی قیمتوں کو ڈی کنٹرول کیا ہے، ہول سیل ڈیلروں کا قیمتوں پر کوئی اختیار نہیں رہا اور نہ ہی قیمتوں میں اضافہ کرتے وقت ان سے کوئی مشورہ کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی قیمتوں کے معاملے پر تنازعات سامنے آئے تھے۔ مٹن ایکٹ کے خاتمے کے بعد 2023 میں قصابوں نے ازخود گوشت کی قیمت میں تقریباً 115 روپے اضافہ کرتے ہوئے اسے 650 روپے فی کلو تک پہنچا دیا تھا۔ بعد ازاں اس میں مزید 50 روپے اضافہ کیا گیا اور قیمت 700 روپے فی کلو مقرر کی گئی۔ اب ایک سال بعد دوبارہ 40 روپے کا اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت 740 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈارنے کہا کہ سال 2021 میں اتحاد نے اس معاملے میں مداخلت کر کے قیمتوں کو قابو میں لانے کی کوشش کی تھی، تاہم قیمتوں کے ڈی کنٹرول ہونے کے بعد قصاب یونین نے تاجر تنظیموں کو بھی اعتماد میں لینا بند کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کم از کم ہول سیل مٹن ڈیلروں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا، مگر یکطرفہ طور پر قیمتیں مقرر کرنا صارفین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ فاروق احمد ڈار نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مٹن ایکٹ کو دوبارہ نافذ کیا جائے تاکہ صارفین کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وادی میں فروخت ہونے والے گوشت کا معیار بھی تسلی بخش نہیں ہے اور فوڈ سیفٹی محکمہ کو اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے۔