ہر قربانی کا ایک طے شدہ مقصد ہوتا ہے۔ اللہ نے جب حضرت ابراہیم علیہ سلام سے اپنے ہی فرزندِ ارجمند کی قربانی طلب کی تو اس کا مقصدیہ تھا کہ انسانوں کو بلی چڑھانے کی قدیم روایت کوتوڑ کر ایثار و احسان کی انسان دوست روایت قائم کی جائے۔ کسی بھی ملت نے جب بھی قربانی دی ہے تو وہ انسانیت کے اعلیٰ و ارفع درجات کو حاصل کرنے کے لئے دی ہے۔ قومیں بھی قربانیاں دیتی ہیں۔ ان قربانیوں کا مقصد بھی فلاح انسانیت ہوتا ہے، کیونکہ یہ قربانیاں انسان پر انسان کا جبری غلبہ ختم کرنے کے لئے دی جاتی ہیں۔ لیکن قومی تحاریک کے دوران جب سفر طویل ہوجاتا ہے اور منزل بہت دُور ہوتی ہے، تو ان قربانیوں کا آڈِٹ لازمی بن جاتا ہے، کیونکہ قربانیوں کا پلڑا جس قدر بھاری ہوجائے اُسی قدر متبادل راستوں کا تعین یا حکمت عملی میں تغیر مشکل بن جاتا ہے۔
1947سے کشمیر میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ کے صفحات پر رقم ہے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد مقبوضہ اقوام نے جو تحریکیں چھیڑیں اُن میں بھی اس نوعیت کی قربانیاں نہیں دی گئیں۔ جانیں گئیں، عصمتیں لُٹیں، گھروندے خاک ہوئے، نونہال یتیم ہوگئے، کم سنوں کی لاشیں مزاروں کی زینت بنیں۔اب اجتماعی طور دل آزردہ ہیں اور وادی خوف کی فضا میں لپٹی ہوئی ہے۔ مزاحمتی قیادت کو قید کیا جائے یا ان کے خلاف دلی والے کوئی مقدمہ درج کریں تو کشمیری ہڑتال کرتے ہیں۔ کاروبار کو بند کرنا اور ایک دن کی کمائی تحریک کے لئے تج دینا آج کے جدید دور میں واقعی بہت بڑی قربانی ہے۔ یہاں کے دکاندار اور تاجر کو معلوم ہے کہ جبراور ظلم کی چکی میں کس ڈھٹائی کے ساتھ کم سنوں کو پیسا جاتا ہے،اور اُسے یہ بھی معلوم ہے کہ مزاحمتی قیادت اس قوم کو اس تاریکی سے باہر نکالنے کا وعدہ کرچکی ہے، لہذا ذاتی کوتاہیوں کے باوجود قائدین کی آواز پر لبیک کہا جاتا ہے۔
وزارت داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق 2016سے اب تک 700عسکریت پسند مارے گئے۔کمانڈر برہان کی ہلاکت کے بعد صرف چھہ ماہ کے اندر 130نوجوانوں نے برہان کی تقلید میںبندوق تھام لی، 2017یں 153جبکہ 2018میں 141نوجوانوں نے اپنی جوانیاں مقتل کے سپرد کردیں۔اس سال صرف پونے تین ماہ کے دوران 10نوجوان روپوش ہوکر بندوق تھام چکے ہیں۔یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے اور فوج کا آپریشن آل آوٹ مزید شدت کے ساتھ جاری ہے۔ فوجی کارروائیوں میں کشمیریوں کو تہہ تیغ کرنے کا عمل گزشتہ تین سال سے باقاعدہ سیاسی عمل کے طور پر جاری ہے۔ ملک کو یہ بتایا جارہا ہے کہ دیکھو ہم کشمیریوں سے کس طرح انتقام لے رہے ہیں۔ مختصر عرصے میں ایک ہزار سے زیادہ افراد کی جانی قربانی، بیس ہزار لوگوں کو لگے زخم، سینکڑوں کی آنکھوں سے چھینی گئی روشنی، والدین کو اولاد کا جنازہ دیکھنے کا کربناک کلچر۔ ان قربانیوں کا حساب کون دے گا؟
نئی دلی سے حساب مانگئے تو وہ اسے پاکستان کا پراکسی وار اور دہشت گردی قرار دے کر پلو جھاڑ دیتی ہے۔ اسلام آباد سے حساب مانگئے تو وہ بھارت کی بربریت کہہ کر نکل جاتا ہے، قیادت سے حساب مانگئے تو یہ کہہ کر نکل لے گی کہ اب کی بار ’’کرو یا مرو‘‘ کا مرحلہ ہے اور منزل قریب ہے۔
مزاحمتی تحریکیں ایک حیاتیاتی عنصر (Organism) کی طرح ہوتی ہیں۔ ان کی نشوونما کے مختلف مراحل ہوتے ہیں،اور مقصد کی تکمیل کے بعد یہ تحریکیں قومی تعمیر کی سرگرمیوں میں بدل جاتی ہیں۔ کشمیر کی تحریک گزشتہ ستر سال سے کئی مراحل سے گزری ہے۔ جب جب دلی والوں کو لگتا ہے کہ یہ تحریک بڑھاپے میں ہے تو کوئی نہ کوئی واقعہ تحریک میں جان ڈال دیتا ہے۔ لیکن پھر بات وہیں پہنچ جاتی ہے، اب آگے کیا؟ ایسے سوال کرنا کسی معذرت خواہانہ (Apologetic)رویہ کا مظہر نہیں ہے۔ جب قربانیاں بے حساب دی جائیں تو حساس حلقے یہ سوچنے میں حق بجانب ہوتے ہیں کہ کہیں ہم قربانیوں کا تقدس پامال تو نہیں کررہے ۔ ایک زمانہ تھا شہداء کی برسیاں منائی جاتی تھیں۔ اب آپ کتنے شہیدوں کی برسیاں منائیں گے، کتنے ہڑتال کریں گے۔ جس رفتار سے ہلاکتیں ہورہی ہیں، سال کا ہر دن ایک برسی ہے۔ کشمیری عوام نے بلاشبہ بھارت پر اخلاقی برتری حاصل کرلی ہے، لیکن محض اخلاقی برتری سے کیا ہوگا؟ کیا عدالتوں میں ہزاروں لڑکوں کے خلاف پڑے مقدمے خارج ہونگے؟ کیا جیلوں میں سڑرہے قیدی رہاہونگے؟ کیا بستیوں میں دنددناتی فوجیں واپس جائیں گی؟ کیا انتظامیہ کے نام پر ہر آن کشمیری مسلمانوں کے مفادات کی بیخ کنی کا عمل رُک جائے گا؟ یکطرفہ اور کسی وِژن کے بغیر دی جانے والی ہر قربانی ایسا خام مال ہے جسے نئی دلی کے مستردشدہ بچولیئے انتخابی منڈی میں بے شرمی کے ساتھ بیچ کھاتے ہیں۔ جو لوگ قربانی دیتے ہیں انہیں اس کا ثمرہ کیوں نہ ملے، کیوں مظفربیگ، فاروق عبداللہ اور اکبر لون جیسے سیاست کے سڑے انڈے قومی جذبات کا استحصال کریں؟
مزاحمتی قیادت اور پاکستان کو غور کرنا چاہیے کہ کشمیر محض انسانی حقوق کا نہیں بلکہ انسانوں کا بھی مسلہ ہے۔ تجزیوں اور تبصروں میں نئی دلی کو مخاطب نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ وہاں ایک مسودہ طے ہے، اس میں کردار بھی متعین ہیں اور ٹائم لائن بھی۔ یہاں کے عوام کو یہ سوچنا ہے کہ جو کچھ بھی ہونے والا ہے اُس میں اب تک دی گئی بے شمار قربانیوں کو کیسے محفوظ کیا جائے۔ نوجوان قوم کا سرمایہ ہے، دیکھنا یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہوگا اس میں اس سرمایہ کی لوٹ کو کیسے روکا جائے۔ سچ کوئی نہیں بولتا ، سب لوگ بے مطلب محاوروں میں بات کرتے۔ قوم کو یہ کہنا کہ یہ ’’کرو یا مرو‘‘ کی صورتحال ہے، کوئی دُوراندیشی نہیں ہے، اس فقرے سے قوم میں انتشار اور تخریب کے جرثومے پیدا ہوتے ہیں ،اور اغیار ان جرثوموں کو عوام کے خلاف استعمال کرتے ہیں:ـَ
یا رب وہ نہ سمجھے ہیں، نہ سمجھیں گے میری بات
دے اوردل اُن کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور
……………………………
ہفت روزہ ’’ نوائے جہلم ‘‘ سری نگر
�������