اسلامی ریاست کی ضرورت کے متعلق مولانامودودی کااستدلال یہ ہے کہ قرآن مجیدنے زندگی گزارنے کاجواسلامی تصوردیاہے،وہ یہ ہے کہ انسان کواپنی پوری زندگی اللہ کی رضااورمنشاکے حصول کے لئے صرف کردینی چاہئے۔قرآن صرف اخلاقیات کے اصول ہی بیان نہیںکرتابلکہ زندگی کے دیگرشعبوںکے لئے بھی ہدایات دیتاہے۔وہ بعض جرائم کی سزائیں بھی تجویزکرتاہے اورمالیاتی معاملات کے اصول بھی طے کردیتاہے۔جب تک کوئی ریاست ان کونافذکرنے کے لئے موجودنہ ہو،یہ سارے اصول اورضابطے عمل میںنہیںلائے جاسکتے اوراسی سے اسلامی ریاست کی ضرورت سامنے آتی ہے ۔ مولانا نے سورۃ النساء کی آیت59سے اسلامی ریاست کے حسب ذیل اصول اخذکئے:
۱۔ اللہ،مقتدراوربالادست قانون عطاکرنے والاہے اوربلاچون وچرااُس کی اطاعت لازمی ہے۔
۲۔ محمدالرّسول اللہﷺکی غیرمشروط اطاعت وفرماںبرداری لازم ہے۔
۳۔ تمام دوسرے صاحبانِ اختیارکی اطاعت اس امرسے مشروط ہے کہ وہ اللہ اوراس کے رسولﷺکی اطاعت سے باہرنہ نکلیں۔
۴۔ اللہ کے احکامات اوررسول اللہ ﷺکے فیصلوںکے بارے میںحیص بیص ممکن نہیں۔جبکہ دوسرے تمام اولی الامرسے تکرارہوسکتی ہے۔حکومت اورعوام دوفریق ہیں۔بفرضِ محال اگران دونوںکے درمیان کوئی تنازع پیداہوجائے تومعاملہ اللہ اوراس کے رسولﷺ کی طرف لوٹا یا جانا لازم ہے۔(تفہیم القرآن،جلداول۔ص363۔365)
سیدمودودی کاایک بڑاکارنامہ اسلامی ریاست کے قیام کے لئے رائے عامہ کی ہمواری اوراس کی فکری وفلسفیانہ بنیادوںکی تشریح وتوضیح ہے۔ مولانانے پورے عزم وایقان کے ساتھ قدیم کے حوالے سے ہراحساسِ کہتری اورجدیدکے بارے میںہرمرعوبیت سے بالاترہوکر،اسلامی ریاست کے تصور،اس کے فلسفے،نظامِ کاراوراصولِ حکمرانی کی شرح وبسط کے ساتھ وضاحت کی ہے۔اس عمل میںقدم قدم پراُن کے تفقہ فی الدّین،سیاسی واجتہادی بصیرت،عصری آگہی اورجدیداسلوب میںاُن کاانتہائی موثراندازبیان ،استدلال اورمتکلمانہ لب ولہجہ نمایاںہے۔یہ اُن کاوہ کارنامہ ہے جس میںگزشتہ تقریبََاتین صدیوںسے عرب وعجم میںکوئی ان کاثانی نہیں۔(ابوالاعلیٰ مودودی:علمی وفکری مطالعہ ۔ص347،مرتبین رفیع الدین ہاشمی،سلیم منصورخالد)
عہدحاضرمیںاسلامی ریاست کی تشکیل کاعمل اوراس کامخصوص منہج یاطریقہ کاروہ موضوع ہے،جس کی تفہیم وعملی تفسیرمیںمولانامودودی کودوسرے مفکرین پرسبقت اورامتیازحاصل ہے۔ریاست کی تنظیم کیسے ہو،اس کی تشکیل وطریقہ کاراورمنہج کیساہوکہ اس میںعصری ضرورتوںکی تکمیل بھی ہوسکے اورقرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات اوررہنمااقداراورخلافتِ راشدہ کے تاریخی تعامل سے سرِموانحراف بھی نہ ہو،اس موضوع پرعلماء میںسے صرف مولانا مودودی نے دلچسپی لی۔اسلامی حکومت کے قیام کی صحیح ترتیب مولاناکے نزدیک یہ ہیکہ پہلے ایک تمدنی‘اجتماعی اوراخلاقی انقلاب پیداکیاجائے کیونکہ اسلام کے احکام وقوانین صرف اوپرسے ہی مسلط نہیںکئے جاسکتے بلکہ اندرسے اُن کے اتباع کادلی جذبہ پیداکیاجاناضروری ہے۔(اسلامی ریاست،ص56)
اسلامی حکومت کسی معجزے کی صورت میں صادرنہیں ہوتی۔اس کے پیداہونے کے لئے ناگزیرہے کہ ابتدامیںایک ایسی تحریک اٹھے جس کی بنیاد میں وہ نظریہ حیات،وہ مقصدِزندگی،وہ معیارِاخلاق،وہ سیرت وکردارہوجواسلام کے مزاج سے مناسبت رکھتاہو۔اس کے لیڈراورکارکن صرف وہی لوگ ہوں،جواس خاص طرزکی انسانیت کے سانچے میںڈھلنے کے لئے مستعدہوں۔پھروہ اپنی جدوجہدسے سوسائٹی میںاُسی ذہنیت اوراُسی اخلاقی روح کو پھیلانے کی کوشش کریں۔پھراسی بنیادپرتعلیم وتربیت کاایک نیانظام اٹھے،جواُس مخصوص ٹائپ کے آدمی تیارکرے،جودنیاکے ناخداشناس ائمہ فکرکے مقابلے میںاپنی عقلی وذہنی قیادت کاسکّہ بٹھادیںاورہربھٹی میںتَپ کرہرآزمائش میںسرخروہوکراپنے قول وفعل سے،اپنی انفرادی واجتماعی کردارسے اسلام کی شہادت دیںتاکہ صالح عناصراُن کی طرف کھینچتے چلے آئیںاورپست ذہنیت اورپست سیرت افراددبتے چلے جائیںاورعوام کی ذہنیت میںایک انقلاب رونماہوجائے اوروہ نظامِ زندگی عملاًقائم ہوجائے جس کے لئے زمین تیارہوچکی ہے۔اسلامی حکومت کے قیام کایہی تدریجی طریقہ ہی فطری طریقہ ہے اوریہ انقلاب اُسی صورت میںرونماہوگا،جب ایک عمومی تحریک قرآنی نظریات وتصورات اورمحمدی سیرت وکردارکی بنیادپراٹھے اوراجتماری زندگی کی ساری ذہنی،اخلاقی،نفسیاتی اورتہذیبی بنیادوںکوطاقتورجدوجہدسے بدل دالے۔(ایضاً ص695)
سیدمودودی اس زمانے کی پیداوارہے جب چہارطرف مغربی افکار،سائینس وٹیکنالوجی کادبدبہ تھا۔مشرق زیرِعتاب بھی تھااورمرعوب بھی۔عوام وخواص معذرتانہ رویہ اختیارکئے ہوئے تھے۔اس ماحول میںمولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی جیسابطلِ جلیل مشرق کی گودسے اٹھتاہے اورمغرب کی آنکھ میںآنکھ ڈال کراُن کے فسادِفکرونظرکی قلعی دلائل وبراہین سے کھولتاہے۔مولاناکایہ سب سے بڑاکارنامہ ہے۔’حکومتِ الٰہیہ‘کانظریہ سیدمودودی کی سیاسی فکر کاہمیشہ مرکزی نکتہ رہاہے۔فکرِسیاسی میںیہ استقلال،پامردی اوراستحکام وہ عمل ہے،جوفکروعمل کی تاریخ میںسیدمودودی کوبہت ممتازبنادیتاہے:
’’دین اللہ بھی صرف اُسی چیزکانام نہیںہے جومسجدوںاورنمازروزے تک محدودہوبلکہ اس سے مُرادبھی اُس پوری شریعت کی پابندی ہے،جواللہ کی رضاسے ماخوذ اور اس کی حاکمیت پرمبنی ہواوراجتماعی زندگی کے تمام پہلوئوںکواپنی گرفت میںلے لے۔‘‘(ایضاًص68)
مولانامودودیؒکے ساتھ ایک المیہ یہ ہوا ہے کہ اُن کے بعدان کی فکرکوکچھ عناصرنے غلط فہمی کی بناپر’شدّت پسندی‘کابیانیہ بناڈالا۔عہدِحاضرمیں دنیاکے بیشترممالک میںجنگ کاسمابندھاہواہے۔کلیساکے پیروہوںیاتسبیح کے’ محافظ‘،کہیںنہ کہیں،کسی نہ کسی طریقے سے دہشت گردی کوختم کرنے کی آڑمیںخوداس صف میںکھڑے نظرآتے ہیںاور’دانشور طبقہ‘وتجزیہ نگاروںکاایک گروہ اس کے تانے بانے مولاناسیدمودودی کی فکرونظرکے ساتھ نُتھی کرنے پرمُصرہیں۔اُن کی اس غلط فہمی اورموجودہ شدّت پسندی کے بیانئے کے کسی حدتک ’تحریکی حلقہ‘خودذمہ دارہے۔حالانکہ مولاناکی فکر،طریقہ کارواضح ہے۔انہوںنے دعوتِ دین یا اسلامی حکومت کے قیام کے لئے زیرِ زمین سرگرمیوں،خفیہ کاروائیوں،مسلح جدوجہداورغیرآئینی طریقِ کارکوہمیشہ تنقیدکانشانہ بنایا۔اس طرح کے تمام طریقوںکووہ حکمت عملی کے خلاف،نارواںاورغیرموزوںتصورکرتے تھے۔مولاناؒکی بعض تحریروںکوسیاق وسباق سے کاٹ کرخائنوںنے فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کی۔نومبر1969ء میںاسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے اجتماع میںایک سوال کے جواب میںمولانانے نونہالوں کونصیحت کرتے ہوئے کہا:
’’ہماراکام خفیہ تحریک چلانانہیںبلکہ کھلم کھلااپنے نظریات کوپھیلاناہے۔۔۔خفیہ تحریک اس طریقے سے چلتی ہے کہ اگرکسی شخص کے بارے میںیہ شبہہ بھی ہوجائے کہ وہ پارٹی کاوفادارنہیںہے تواسے بلاتکلف قتل کردیاجاتاہے اوریہ قتل وغارتگری اس تحریک کاعام مزاج بن جاتاہے۔۔۔۔خفیہ طریقے سے کوئی مسلح انقلاب برپاکرنااسلام کے مزاج کے بھی خلاف ہے اورانجام کے لحاظ سے خطرناک بھی۔‘‘(تصریحات ص149۔150)
(مضمون جاری ہے )
رابطہ۔مرکزبرائے تحقیق وپالیسی مطالعات،بارہمولہ کشمیر