شوپیان//گذشتہ 30برسوں میں پہلی بارفوج اور جموں کشمیر پولیس کی جانب سے اپنی نوعیت کی منفرد پہل کے تحت شوپیان میں جنوبی کشمیر میں سرگرم جنگجوئوں کے اہل خانہ کیساتھ روبرو بات چیت کی گئی اور انہیں تاکید کی کہ وہ اپنے بچوں کو تشدد کا راستہ ترک کرنے کی اپیل کریں۔ 15ویںکور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے اور آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے دیگر پولیس و فوجی افسران کے ہمراہ منگل کو شوپیان کا دورہ کیا جہاں انہوںنے بٹہ پورہ سٹیڈیم میں ’کھیل فیسٹول 2021‘ مقابلوں کی ایک تقریب میںحصہ لینے کے بعد ایک الگ پروگرام میںضلع شوپیان کے تمام علاقوں میں سرگرم، جنگجو ئوںکے والدین اور رشتہ داروں سے بات کی ، جنہیں وہاں پر مدعو کیا گیا تھا۔ جنگجوئوں کے کچھ اہل خانہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع میں سرگرم 19جنگجوئوں کے اہل خانہ کو مدعو کیا گیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ قریب 40افراد موجود تھے، جنکا تعاون طلب کیا گیا ۔اس موقعہ پر مقامی میڈیا کو اجازت نہیں دی گئی۔ جی او سی پانڈے نے جنگجوئوں کے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو گھر واپس لانے میں اپنا رول ادا کریں۔ اس موقعہ پر دونوں افسران نے عسکریت پسندوں کے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں سے تشدد کا راستہ ترک کرنے اور مین اسٹریم میں شامل ہونے کی اپیل کریں اور پولیس وفوج بندوق اٹھانے والے نوجوانوں کی آسان گھر واپسی میں سہولت فراہم کرے گی۔ جی او سی نے کہا’’میں آپ سب سے درخواست کروں گا کہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے بچوں کو باہر نکالئے اگر آپ کو لگتا ہے کہ ملی ٹنٹ ان کو ماریں گے تو آپ کوئی اعلان کئے بغیر ان کو کسی بھی فوجی کیمپ یا پولیس، جس پر آپ کو بھروسہ ہوگا، کے پاس رکھیں، وہاں دو چار برس رہنے کے بعد وہ واپس آ کر اپنے سماج کے ساتھ ملیں گے‘‘۔ لیفٹیننٹ جنرل نے کہا کہ آپریشنز کے دوران بھی سرنڈر کرنے والے جنگجوؤں کو کسی بھی حال میں بچایا جائے گا ہم خود زخمی ہوں گے، گولیاں کھائیں گے لیکن ان کو بچائیں گے یہ میرا وعدہ ہے’۔ انہوںنے کہا کہ فوج کی یہ کوششیں آگے بھی جاری رہے گی اور ہتھیار اٹھانے والے نوجوانوں کو مین اسٹرہم میں خیر مقدم کیا جائے گا ۔