ایجنسیز
منیلا//فلپائن میں آنے والے ایک طاقتور زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے، متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور ایشیا کے مختلف ممالک میں سونامی کے انتباہات جاری کیے گئے۔امریکی جیولوجیکل سروے مطابق 7.8 شدت کا یہ زلزلہ پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق 7.40 بجے سے کچھ پہلے جزیرہ مینڈاناؤ کے ساحل کے قریب آیا۔فلپائن کے آتش فشانی اور زلزلہ پیما ادارے کے مطابق ابتدائی زلزلے کے بعد ایک گھنٹے سے زائد وقت تک آفٹر شاکس (بعد از زلزلہ جھٹکے) محسوس کیے جاتے رہے۔جنوبی مینڈاناؤ کا شہرجنرل سانتوس، جس کی آبادی تقریباً 7 لاکھ 22 ہزار ہے، سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔فولوکس کے مطابق جنوبی علاقے سوکسکسارگن میں واقع اس شہر میں زلزلے کی شدت ادارے کے داخلی پیمانے پر “انتہائی شدید” ریکارڈ کی گئی۔سوشل میڈیا پر جاری سرکاری ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جولی بی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ پر مشتمل تین منزلہ عمارت ملبے اور گردوغبار کے بادل میں زمین بوس ہو گئی، جس سے موقع پر موجود افراد خوفزدہ ہو گئے۔دیگر تصاویر میں عمارتوں کو پہنچنے والے وسیع نقصان، ٹوٹے ہوئے شیشوں اور منہدم چھتوں کو بھی دکھایا گیا۔پولیس ترجمان رابرٹ ڈاگون نے مقامی ریڈیو کو بتایا کہ شہر کے سینٹ الزبتھ اسپتال کے بعض حصوں کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث مریضوں اور طبی عملے کو عمارت خالی کرکے عارضی طور پر باہر خدمات انجام دینا پڑیں۔جنرل سانتوس میں واقع نوٹرے ڈیم آف ڈاڈیانگاس یونیورسٹی سے وابستہ کیتھولک راہبہ میری این بلانکو روڈی نے بتایا کہ زلزلے کے وقت وہ یونیورسٹی جا رہی تھیں۔
انہوں نے الجزیرہ کو بتایا،’’سڑک پر گاڑیاں بے قابو انداز میں حرکت کر رہی تھیں۔ میں خوش قسمت تھی کہ وہ آپس میں نہیں ٹکرائیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا،’’سڑک کے کنارے درخت بھی شدت سے جھول رہے تھے۔‘‘روڈی کے مطابق یونیورسٹی کی بعض عمارتیں جزوی طور پر منہدم ہو گئی ہیں۔فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے کہا کہ ہنگامی امدادی اداروں کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا ہے، جن میںآفس آف سول ڈیفنس اورنیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ کونسل شامل ہیں۔صدر مارکوس نے متاثرہ علاقوں میں تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔سرکاری خبر رساں ادارے فلپائن نیوز ایجنسی کے مطابق تعلیمی سال کے پہلے روز تقریباً 32 لاکھ طلبہ اور 1 لاکھ 28 ہزار اساتذہ و عملہ اس فیصلے سے متاثر ہوئے۔صدر مارکوس نے کہا،’’”ہمارے بچوں کی سلامتی سب سے اہم ہے۔‘‘زلزلے کے بعد فلپائن، انڈونیشیا اور دیگر ایشیائی ممالک میں سونامی کی وارننگ جاری کی گئی تھی، تاہم بعد میں بیشتر علاقوں کے لیے یہ انتباہ واپس لے لیا گیا۔تاہم جاپان کے جنوبی ساحلی علاقوں اور دور افتادہ جزیروں کے لیے سونامی ایڈوائزری برقرار رکھی گئی، جہاں رہائشیوں کو مزید اطلاع تک دریاؤں کے دہانوں اور ساحلی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔