جاوید اقبال
مینڈھر//جے کے بی اے ڈی سی نے جموں و کشمیر میں غیر تسلیم شدہ اسپورٹس باڈیز کی سرگرمیوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی تنظیمیں نوجوان کھلاڑیوں اور اسپورٹس پرسنز کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ تنظیم نے متعلقہ حکام سے اس معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔جے کے بی اے ڈی سی کے چیئرمین اور سابق وائس چانسلرڈاکٹر شہزاد ملک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر میں کئی اسپورٹس ایسوسی ایشنز بغیر انتخابات کروائے اور بغیرجموں وکشمیر سپورٹس کونسل سے باضابطہ منظوری حاصل کئے سرگرم عمل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ادارے سلیکشن ٹرائلز منعقد کر رہے ہیں، سرٹیفکیٹس جاری کر رہے ہیں اور کھلاڑیوں کو ریاستی، بین الریاستی اور قومی سطح کے مقابلوں میں بھیج رہے ہیں، جس سے نوجوان کھلاڑیوں کے کیریئر کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ڈاکٹر شہزاد احمد ملک نے کہا کہ غیر تسلیم شدہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹس اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک انہیں جے اینڈ کے اسپورٹس کونسل کی منظوری حاصل نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے والدین اور کھلاڑی لاعلمی میں ایسے اداروں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعد میں انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے جموں و کشمیر کی ایک سوئمنگ ایسوسی ایشن کا ذکر کیا اور کہا کہ مذکورہ ایسوسی ایشن یا تو اس وقت اسپورٹس کونسل سے تسلیم شدہ نہیں ہے یا پھر اس کی منظوری معطل کی جا چکی ہے، اس کے باوجود وہ کھلاڑیوں کے ٹرائلز لے رہی ہے اور تیراکوں کو قومی سطح کے مقابلوں میں بھیج رہی ہے۔بی اے ڈی سی چیئرمین نے کہا کہ اس معاملے پر جموں وکشمیر سپورٹس کونسل اور سیکریٹری اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کو فوری کارروائی کرنی چاہیے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے والدین اور کھلاڑیوں سے اپیل کی کہ کسی بھی اسپورٹس ادارے میں شامل ہونے یا فیس جمع کروانے سے قبل اس بات کی مکمل تصدیق ضرور کریں کہ متعلقہ ادارہ سرکاری طور پر تسلیم شدہ ہے یا نہیں۔