فیاض بخاری
بارہمولہ //ایک نجی تشخیصی لیبارٹری کی جانب سے مبینہ طور پر غلط رپورٹ جاری کرنے کے واقعہ نے عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ شہریوں، سماجی کارکنوں اور مریضوں کے اہل خانہ نے محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں قائم تمام نجی ڈائیگوناسٹک لیبارٹریوں کا فوری اور جامع آڈٹ کرایا جائے تاکہ عوام کی صحت سے جڑے معاملات میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طبی تشخیص کسی بھی بیماری کے علاج کا بنیادی مرحلہ ہوتا ہے اور اگر لیبارٹری رپورٹ میں غلطی ہو جائے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق مریض کی غلط تشخیص، غیر ضروری ادویات کا استعمال، علاج میں تاخیر، صحت کی مزید خرابی اور مالی نقصان ایسے خطرات ہیں جن کا سامنا مریضوں کو کرنا پڑ سکتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق لیبارٹری تحقیقات جدید طبی نظام کا اہم ستون ہے اور ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز کردہ علاج کا انحصار بڑی حد تک انہی رپورٹس پر ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی تشخیصی مرکز میں معیار کے مطابق سہولیات موجود نہ ہوں یا غیر تربیت یافتہ عملہ کام کر رہا ہو تو اس کے نتائج نہ صرف مریض بلکہ پورے صحت نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔لوگوں نے محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں قائم نجی لیبارٹریوں کی رجسٹریشن، لائسنس، آلات، تکنیکی عملے کی اہلیت اور دیگر قانونی تقاضوں کی مکمل جانچ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو مراکز مقررہ ضوابط پر پورا نہیں اترتے یا جن کے خلاف شکایات موصول ہو رہی ہیں، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔لوگوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ صحت اور متعلقہ حکام اچانک معائنوں کا سلسلہ شروع کریں تاکہ غیر معیاری لیبارٹریوں کی نشاندہی ہو سکے اور عوام کو بہتر طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف کاغذی کارروائی کافی نہیں بلکہ زمینی سطح پر نگرانی کے موثر نظام کی ضرورت ہے۔