اشفاق سعید
کرناہ// شمالی کشمیر کے سرحدی سب علاقہ کرناہ کو قدرت نے بے شمار آبی وسائل سے نواز ا ہے۔ برف پوش پہاڑ، گھنے جنگلات، قدرتی چشمے، ندی نالے اور دریا اس علاقے کی قدرتی شناخت رہے ہیں۔ ماضی میں یہاں کے بیشتر دیہات پانی کی ضروریات کو انہی قدرتی چشموں سے پورا کرتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ یہ قدرتی دولت تیزی سے سکڑتی جا رہی ہے۔ نتیجتاً آج کرناہ کے کئی علاقوں میں گرمیوں کے موسم میں پینے کے پانی کا شدید بحران ہے۔ کرناہ کے نالہ قاضی ناگ بتہ موجی کو گندگی کے ڈھیر میں تبدیل کیا گیا ہے ۔کرناہ کا سلمان گائوں ایک زمانے میں قدرتی چشموں کی کثرت کے باعث پورے خطے میں مشہور تھا۔ مقامی بزرگوں کے مطابق یہاں تین سو سے زائد قدرتی چشمے موجود تھے، جن سے نہ صرف سلمان بلکہ آس پاس کے متعدد دیہات بھی مستفید ہوتے تھے۔ صاف، ٹھنڈا اور میٹھا پانی ان چشموں کی پہچان تھا۔تاہم گزشتہ کئی برسوں کے دوران جنگلات کی بے دریغ کٹائی، چشموں کے دائیں بائیں تجاوزات، آلودگی، مناسب دیکھ بھال کا فقدان اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یہ قدرتی ذخائر تقریباً ختم ہوچکے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق آج صرف پچاس چشمے ہی باقی رہ گئے ہیں، جبکہ ان میں سے بھی کئی خشک ہونے کے قریب ہیں یا ان کے پانی کی مقدار میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرناہ میں اصل مسئلہ پانی کی قلت نہیں بلکہ دستیاب وسائل کا غیر موثر انتظام ہے۔ اگر قدرتی چشموں، ندی نالوں اور دیگر آبی ذرائع کا سائنسی بنیادوں پر تحفظ کیا جائے اور ان سے بہتر انداز میں استفادہ کیا جائے تو پورے علاقے کی ضروریات آسانی سے پوری کی جا سکتی ہیں۔ان کے مطابق گزشتہ برسوں میں حکومت نے متعدد واٹر سپلائی اسکیمیں شروع کیں اور جل جیون مشن کے تحت بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچہ بھی تیار کیا، لیکن پانی کے ذرائع میں کمی، ناقص منصوبہ بندی اور مناسب نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے کئی منصوبے مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے۔مرکزی حکومت کے فلیگ شپ پروگرام جل جیون مشن (JJM)کے تحت کرناہ سب ڈویژن میں نئی پانی فراہمی اسکیمیں، اوور ہیڈ ٹینک، ریزروائرز، فلٹریشن یونٹس اور پائپ لائنیں تعمیر کی گئیں جبکہ کئی پرانی اسکیموں کو بھی اپ گریڈ کیا گیا تاکہ ہر دیہی گھر تک نل کے ذریعے صاف پانی پہنچایا جا سکے۔تاہم زمینی صورتحال اس دعویٰ سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ متعدد دیہات میں گھروں تک نل کے کنکشن تو پہنچ گئے ہیں، لیکن ان نلوں میں پانی نہیں آتا ہے یا پھر کئی کئی دن بعد محدود مقدار میں سپلائی ہوتی ہے۔ بعض علاقوں میں پانی کا دبائو انتہائی کم رہتا ہے، جس سے بالائی علاقوں کے مکین سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مقامی آبادی کے مطابق بٹ پورہ خصوصا وارڈ نمبر 2، دھنی سیدپور چنی پورہ، ٹنگڈار کے کئی علاقے، ناچیاں سیماری اور چھمکوٹ اور دیگر بالائی دیہات ہر سال گرمیوں میں شدید پانی کی قلت کا سامنا کرتے ہیں۔ کئی خاندان آج بھی چشموں، ندی نالوں یا دور دراز ذرائع سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔دھنی سدپورہ کی صورتحال نسبتا مختلف ہے، جہاں زرعی ضروریات کا انحصار ایک نہر پر ہے۔جو سرحد کے اس پار سے آتی ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق جب نہر میں خرابی پیدا ہوتی ہے یا پانی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو پورے گائوں میں بحران پیدا ہو جاتا ہے اور لوگوں کو کئی کلومیٹر دور سے پانی لانا پڑتا ہے۔قدرتی ذرائع صرف خشک ہی نہیں ہو رہے بلکہ آلودگی کا بھی شکار ہیں۔ مقامی سماجی کارکنوں اور ماحولیاتی ماہرین کے مطابق ناچیاں سے ٹیٹوال تک کئی مقامات پر گھریلو کچرا، پلاسٹک اور دیگر فضلہ ندی نالوں اور چشموں میں پھینکا جا رہا ہے، جس سے پانی کے قدرتی ذخائر آلودہ ہو رہے ہیں۔ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں پینے کے صاف پانی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ برف باری اور بارشوں کے انداز میں نمایاں تبدیلی آنے سے قدرتی چشموں کا ریچارج متاثر ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو چشمے پہلے سال بھر بہتے تھے، وہ اب گرمیوں میں خشک ہونے لگے ہیں یا ان میں پانی کی مقدار بہت کم رہ جاتی ہے۔اے ای ای جل شکتی کرناہ بشیر احمد شاہ کے مطابق کرناہ میں پانی ذخیرہ کرنے کا موثر نظام موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں قدرتی طور پر پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے جبکہ اسی دوران زرعی مقاصد کے لیے پانی کا استعمال بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ جل شکتی مسلسل عوام کو پانی فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جہاں بھی سپلائی متاثر ہوتی ہے وہاں فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پانی سے متعلق کسی بھی شکایت کی صورت میں متعلقہ محکمہ سے فوری رابطہ کریں تاکہ بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف نئی پائپ لائنیں بچھانا کافی نہیں بلکہ موجودہ اسکیموں کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے، خراب پائپ لائنوں کی مرمت کی جائے، پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور ہر علاقے تک باقاعدہ سپلائی بحال کی جائے۔ان کا کہنا ہے کہ جہاں کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں وہاں عوام کو عملی فائدہ بھی ملنا چاہیے تاکہ جل جیون مشن اپنے اصل مقصد کے مطابق ہر گھر تک صاف اور محفوظ پانی پہنچانے میں کامیاب ہو سکے۔