لندن// گزشتہ برس فلسطینی شہریوں کے پْر امن احتجاج کے دوران اسرائیلی جارحیت سے جاں بحق ہونے والوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے غزہ پٹی پر اسرائیلی سرحد کے نزدیک ایک مرتبہ پھر لاکھوں افراد جمع ہوگئے۔ گریٹ مارچ ریٹرنز کے نام سے ہونے والے اس مظاہرے میں لاکھوں کی تعداد میں افراد شریک تھے، تاہم غزہ کے شعبہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک اس مظاہرے میں بھی 4 فلسطینی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے ایک شخص سرحد کے نزید علی الصبح شہید ہوا، جبکہ دوسرا 17 سالہ نوجوان دوپہر کے وقت اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنا۔ تاہم فلسطینی شہریوں نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے اسرائیل کے مسلح فوجیوں پر پتھر پھینکنے کی کوشش کی۔ مظاہرین اسرائیل کی جانب سے لگائی گئی سیکیورٹی پابندی اٹھانے اور انہیں ان کے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔ خیال رہے کہ فلسطینی عوام 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد سے اب تک اپنی زمین پر قبضے اور وہاں سے زبردستی نکالے جانے پر احتجاج کرتے رہے ہیں جبکہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی زمین واپس کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ اسرائیلی فورسز نے اعتراف کیا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ سرحدی علاقے میں جمع ہوئے لیکن زیادہ تر سرحد سے دور ہی تھے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ شدید بارش کے باوجود فلسطینیوں کی تعداد معمول کے مظاہروں سے بہت زیادہ تھی۔ فلسطینی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ 17 افراد اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے۔