سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری اْس وقت خوشیوں میں ڈوب گیا جب بے گھر نوجوان باکسر محمد یاسر نے ازبکستان میں منعقدہ ایشین باکسنگ چمپئن شپ جیت کر تاریخ رقم کی۔ یاسر کی تاریخی کامیابی کی خبر ملتے ہی پورے شہر میں جشن کا ماحول بن گیا، ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا گیا، پٹاخے پھوڑے گئے اور مٹھائیاں تقسیم کر کے نوجوان باکسر کی کامیابی کا جشن منایا گیا۔لوگوں کی بڑی تعداد یاسر کے خاندان کی عارضی رہائش گاہ، کھیورہ علاقے، پہنچی جہاں مبارک باد دینے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ سماجی کارکنان، نوجوانوں اور مقامی باشندوں نے محمد یاسر کو راجوری کا فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں اولمپکس میں بھی ملک کے لیے گولڈ میڈل جیتیں گے تاہم جشن کے اس ماحول کے درمیان یاسر کے خاندان کی حالت نے بہت سے لوگوں کو جذباتی کر دیا۔ محمد یاسر کی والدہ نے آنسوؤں کے ساتھ اْن مشکل دنوں کو یاد کیا جب اْن کے پاس بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ شوہر کی وفات کے بعد خاندان نے شدید غربت، بھوک اور بے گھری کا سامنا کیا۔خاندان کے مطابق 2018 میں بیلا کالونی میں واقع اْن کا مکان انسداد تجاوزات مہم کے دوران منہدم کر دیا گیا تھا، جس کے بعد پورا خاندان بے گھر ہوگیا۔ بعد ازاں انہیں کھیورہ میں ایک خستہ حال سرکاری عمارت میں منتقل کیا گیا جو آج بھی غیر محفوظ اور خستہ حالت میں موجود ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ عمارت کسی بھی وقت منہدم ہو سکتی ہے اور خاندان کئی برسوں سے خوف اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہا ہے۔لوگوں نے بتایا کہ شدید مالی مشکلات کے باعث محمد یاسر کو کم عمری میں ہی تعلیم چھوڑنی پڑی۔ انہوں نے مختلف گھروں میں کام کر کے اپنے خاندان کی کفالت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کھانا پکانے، برتن دھونے اور کپڑے صاف کرنے جیسے کام انجام دیتے تھے تاکہ اپنی والدہ اور چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کر سکیں۔مقامی باشندوں نے کہا کہ محمد یاسر کی کامیابی صرف ایک کھیل کی فتح نہیں بلکہ یہ غربت، مشکلات اور نامساعد حالات کے خلاف جدوجہد، قربانی اور حوصلے کی ایک عظیم مثال ہے۔ لوگوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ایشین چمپئن بننے کے باوجود یاسر اور اْن کا خاندان آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔علاقے کے لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محمد یاسر اور اْن کے خاندان کو فوری طور پر محفوظ رہائش، مالی امداد اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ یہ باصلاحیت نوجوان مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کر سکے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ’جس بچے نے غربت میں رہ کر پورے ملک کا نام روشن کیا، اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اْس کے ساتھ کھڑی ہو‘۔