عاصف بٹ
کشتواڑ//عیدالاضحیٰ کی آمد قریب ہونے کے باوجود قصبہ کشتواڑ کے مرکزی بازاروں میں غیر معمولی سناٹا دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں عام طور پر اس موقع پر خریداروں کا ہجوم ہوتا تھا، وہیں اس سال بازار سنسان نظر آ رہے ہیں اور تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی تاجروں کے مطابق گزشتہ برسوں کے برعکس اس مرتبہ خریداری کا رجحان انتہائی کم ہے۔ کپڑوں، جوتوں، قصابوں کے سامان اور دیگر عید سے متعلق اشیاء کی دکانوں پر گاہک نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کئی دکاندار دن بھر دکانیں کھولے بیٹھے رہتے ہیں مگر فروخت نہ ہونے کے باعث مایوسی کا شکار ہیں۔بازار میں موجود ایک تاجر نے بتایا کہ عید میں محض ایک دن رہ گیا ہے لیکن ابھی تک ویسی رونق نظر نہیں آ رہی، اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ معاشی ماہرین اور مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ اس صورتحال کی بڑی وجہ ہے۔ اشیائے خورد و نوش سے لے کر کپڑوں اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں بڑھنے سے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث لوگ غیر ضروری خریداری سے گریز کر رہے ہیں۔ اسی طرح دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی عوام قیمتوں میں کمی کے انتظار میں خریداری مؤخر کر رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ آخری دنوں میں خریداری کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ ممکنہ طور پر قیمتیں کم ہو سکیں۔ اس رجحان نے بھی بازاروں کی رونق کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب مویشی منڈیوں میں بھی خریداروں کی تعداد توقع سے کم بتائی جا رہی ہے، جس سے قربانی کے جانوروں کے بیوپاری بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ تاجروں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ بازاروں کی رونق بحال ہو سکے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف تاجروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ عیدالاضحیٰ کی روایتی گہما گہمی بھی ماند پڑنے کا خدشہ ہے۔