حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب رسول ؐ نے عرض کیا:یارسولؐ یہ قربانیاں کیسی ہیں ؟ نبی کریمؐنے فرمایا کہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ انہوں نے پھر عرض کیا ہمارے لئے اے اللہ کے رسول ؐان میں کیاہے؟توآپ ؐنے فرمایا ہربال کے عوض نیکی ہے۔ (ابن ماجہ: 3127)
عید قرباں درحقیقت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے جو انہوں نے اپنے رب کے حضور پیش کی تھی۔ انہوں نے بارگاہ الٰہی میں تین بڑی قربانیاں پیش کیں تھی۔پہلی قربانی انہوں نے اپنی جان کی پیش کی جب نمرود نے آپؑ کو آگ میں ڈالا تو بے خوف و خطرآگ کے الاؤ میں کود پڑے۔ دوسرے اہل و عیال کی قربانی کہ انہیں بے آب وگیاہ وادی میں ( جسے قرآن نے غیر ذی ذرع کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے ) چھوڑ آئے اور جب ان سے اس بابت دریافت کیاگیا تو فرمایا کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور یہ بس اسی کی تعمیل ہے۔ تیسری جو سب سے زیادہ سخت تھی وہ بیٹے کو راہ خدامیں قربان کرناتھا جو بڑی تمناؤں اور دعاؤں کے بعد اللہ نے عطافرمایاتھا اوروہ بھی جب شعور کی عمر کو پہنچ چکاہو ،کاموں میں ہاتھ بٹانے اوربوڑھاپے میں سہارا بننے کے قابل ہوگیاہو۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کادل اللہ تعالی کی محبت سے شرسارتھا ، اس میں کسی کے لئے کوئی گنجائش ہی کہاں تھی۔انہوں نے بیٹے کو اس سے باخبر کیا اور اسے جانچنے کی کوشش کی ۔وہ یہ بھی دیکھنا چاہتے تھے کہ انہوں نے اللہ سے صالح اولاد کی جو دعا کی تھی وہ قبول ہو ئی یا نہیں۔ بیٹا بھی آخر نبی کابیٹاتھا جوخود مستقبل میں نبوت کی دولت سے سرفراز ہونے والا تھا، فورا بول اٹھا"ابا جان آپ کوجوحکم ہوا ہے کرگزرئیے ،اللہ چاہے گاتوآپ مجھے صبر کرنے والوں ہی پائیں گے" –
چنانچہ سیدنا ابراہیم علیہ الصلواۃوالسلام نے اپنے چہیتے بیٹے کوزمین پر لٹاکر چھری چلادی مگر اللہ کو بیٹے کی قربانی نہیں بلکہ ایمان کی آزمائش مقصود تھی ، اللہ نے ایک مینڈھابھیج دیا جوحضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی جگہ پرذبح ہوگیا اورقربانی مکمل ہوگئی اورغیب سے یہ نداء آئی کہ تم نے خواب کو سچ کردیکھایا۔ یقیناہم اچھاکام کرنے والوں کو ایسے ہی بدلہ دیتے ہیں۔ "وفدینہ بذح عظیم" کہ ہم نے عظیم قربانی کواس کافدیہ بنادیا۔عید قرباں اسی عظیم قربانی کی یاد گار ہے اور یہ ذبح عظیم اسی قربانی کافدیہ ہے جواللہ تعالی نے مسلمانوں پر لازم وضروری قراردیاہے تاکہ وہ اس عظیم قربانی کوہمیشہ یاد رکھیں اور اس کی قدرشناسی کااظہارکریں۔
احادیث میں قربانی کاتذکرہ
حضرت عبداللہ ا بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ؐمدینہ میں دس سال مقیم رہے اور ہرسال قربانی کرتے تھے۔(ترمذی : 1507)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول ؐنے مجھ کو وصیت فرمائی کہ میں آپ ؐ کی طرف سے قربانی کرتا رہوں، چنانچہ میں آپؐکی طرف سے قربانی کیا کرتا ہوں۔ (ابوداؤد :2790)
نبیؐکے خادم خاص حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضورؐدو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں۔ (بخاری :5553)
وعدہ وعید
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ حضور اکرمؐنے فرمایا؛ قربانی کے دن ابن آدم کا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں کہ وہ خون بہائے کیونکہ یہ قیامت کے روز اپنی سینگوں ،اپنے بالوں اور اپنے کھروںسمیت خدا کے حضور حاضرہوگی۔قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالی کے حضوراعلی مقام پر پہنچ جاتا ہے لہٰذا انہیں اس سے خوشی اور مسرت حاصل ہونی چاہیے۔(ترمذی: 1493)
وسعت کے باوجود قربانی نہ کرنا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضوراقدس ؐنے فرمایا: جو شخص طاقت رکھتا ہو پھر قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ نہ آئے۔ (ابن ماجہ:2123)
قربانی سے مطلوب ومقصود
قربانی کا یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔قربانی کااصل مقصد اللہ کی اطاعت ومحبت کے سامنے مال ومتاع کی قربانی ، عزت وجاہ کی قربانی اورخواہشات کی قربانی ہے ،اللہ کے نزدیک جذبہ قربانی کی قدر ہے، اس کاگوشت اور خون کوئی معنی نہیں رکھتا۔
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :اللہ رب العزت کو ان کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا ،ہاں اس کو تو تمہارے دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔(الحج ۲۲:۷۳)
آج بعض حضرات قربانی کا جانور خرید نے میں افراط وتفریط سے کام لیتے ہیں ۔کئی لوگ تو اس چکر میں رہتے ہیں کہ بس جیسے تیسے رسم اداکردی جائے اور بعضوں کاحال یہ ہے کہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے اور اشتہار بازی کے چکر میں ایک ایک بکرے پر لاکھوں روپیہ لگا نے کو تیار رہتے ہیں جو کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے بلکہ یہ قربانی کی روح کے منافی ہے۔
لاک ڈاؤن میں قربانی کیسے کریں؟
قربانی شعائر اسلام میں سے ہے اوربالاتفاق امت میں تواتر کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ خودحضوراقدسؐ پابندی سے ساتھ قربانی کیا کرتے تھے۔ بلکہ استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں کے تعلق سے آپؐنے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایاہے۔موجودہ حالات میں کوڈ19 اور لاک ڈاؤن جیسی صورتحال کی وجہ سے قوم تذبذب کاشکار ہے۔ کہیں مکمل لاک ڈاؤ ن کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں تو کہیں بازاروں میں قربانی کے جانورں کے فقدان سے تشویش میں مبتلاہیں۔ اور اس وہم وخوف میں بھی کہ کہیں حکومت کی گائیڈ لائن follow نہ کرنے کو بہانے بناکر تبلیغی جماعت کی طرح ان پر بھی فرضی مقدمات نہ عائد کردئے جائیں ۔ اور پھرسرکاری و غیر سرکاری عناصر کی طرف سے بے جاالزام تراشیوں اور شرور وفتن کاعتاب ان پر ٹوٹ پڑے۔
لہٰذ ا ان حالات میں بہتر طریقہ اورلائحہ عمل یہ ہوگا کہ مسلمانوں کو عید الاضحیٰ کے موقع پر حتی الامکان قربانی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ صدقہ ،خیرات ،رفاہی خدمات یادیگر کوئی نیک عمل اس کابدل نہیں ہوسکتا۔ جن صاحب حیثیت لوگوں پر قربانی واجب ہو، وہ خواہش اور کوشش کے باوجود سرکاری پابندیوں یا دیگر موانع کی وجہ سے قربانی نہ کرسکیں، اگر وہ دوسرے مقام پر کرواسکیں تو اس کی کوشش کریں۔مسلمان قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دین وشریعت پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ قربانی کے سلسلے میں موجودہ وبائی صورت حال کے پیش نظر تمام احتیاطی تدبیریں ملحوظ رکھیں۔ راستوں اورگزرگاہوں پر قربانی نہ کریں اورصفائی ستھرائی کاخاص خیال رکھیں۔ ایسے ہی ہر علاقہ میں عید الاضحی سے چند روز قبل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جوحالات پرنظر رکھے۔ مقامی حکام سے برابر رابطہ رکھے اور امن وقانون کی صورتحال کوبحال رکھنے میں اپناتعاون پیش کرے۔ عید الاضحی کی نماز سماجی فاصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے عید گاہوں اورمسجدوں میں ادا کی جائے۔ جن علاقوں میں کورونا کی وجہ سے حکام نے پابندی عائد کررکھی ہے، وہاں مسلمان اپنے گھروں میں نماز عید اداکریں جیسے عید الفطر کی نماز ادا کی تھی وغیرہ۔