اسلام آباد//پاکستان کے معزول وزیر اعظم عمران خان کو پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات تک حفاظتی ضمانت دے دی ہے جس میں ان کے خلاف گزشتہ روز قومی دارالحکومت میں ایک ریلی کے دوران پولیس، عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کو دھمکیاں دینے کے الزام میں دہشت گردی کے ایک مقدمے میں درج کیا گیا تھا۔ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے حکم سنایا۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں ضمانت قبل از وقت گرفتاری کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگاتے ہوئے درخواست کل ہی سماعت کے لیے مقرر کی تھی۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل فیصل چودھری اور بابر اعوان نے عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا ہے کہ عمران خان کو جب بھی طلب کیا جائے گا، وہ عدالت میں پیش ہوں گے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا کوئی جرائم پیشہ ریکارڈ نہیں ہے اور وہ کبھی کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں۔عرضی میں کہا گیا ہے ، ”استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد سے فرار یا نقصان پہنچانے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ جناب عمران خان اپنی ضمانت کے عوض زر ضمانت بھی جمع کرانے کو تیار ہیں۔ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے تین اعتراضات کیے کہ مسٹر عمران خان نے درخواست دائر کرنے سے پہلے بائیو میٹرک تصدیق نہیں کی ہے ، متعلقہ اے ٹی سی عدالت کے بجائے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور انہوں نے دہشت گردی کے مقدمے کی تصدیق شدہ کاپی فراہم نہیں کی ہے ۔معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس بابر ستار نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان کو 25 اگست تک ٹرانزٹ ضمانت دے دی۔
رہائش گاہ کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات
اسلام آباد//یو این آئی//پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیے جانے کے ایک دن بعد ان کی رہائش گاہ کے باہر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ خان کے خلاف مقدمہ درج کئے جانے کے ایک دن بعد ان کی رہائش گاہ کی جانب جانے والی سڑک پر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔مسٹر خان کے خلاف ہفتہ کو ان کی اسلام آباد کی ریلی میں عدلیہ، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں کو دھمکیاں دینے کے الزام میں اتوار کے روز دہشت گردی کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مسٹر خان نے پولیس افسران پر اپنے قریبی ساتھی کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام لگایا جنہیں خود غداری کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے ۔ پاکستان پولیس نے کل مسٹر خان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے ) کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سربراہ نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری اور پولیس افسران اور عدلیہ کو ایک ریلی میں دھمکیاں دیں۔دریں اثنا پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت مسٹر خان کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ اپریل میں اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد مسٹر خان موجودہ شہباز شریف حکومت اور ملک کی فوج کے سخت ناقد رہے ہیں۔