غلام قادر بیدار
چرارشریف//علمداربستی چرارشریف کاراشن گھاٹ خستہ ہونے کی وجہ سے کبھی بھی منہدم ہوسکتاہے۔اس راشن گھاٹ سے علمداربستی کے سیکٹراول ودوم ،روضہ بل،اقبال آباد اورملک موڈ کی1400کنبوں پرمشتمل آبادی کواناج فراہم کیاجاتا ہے۔یہ راشن گھاٹ 1985میں اس وقت کے گورنرجگموہن نے یہاں نئی بستی تعمیر کرانے کے وقت قائم کیاتھا۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ انہوں نے متعددمرتبہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرفوڈایندسپلائزچرارشریف کوآگاہ کیا کہ راشن گھاٹ کی عمارت خستہ ہوچکی ہے اوریہ کبھی بھی کسی حادثے کاموجب بن سکتی ہے لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی کارروائی نہیں کی۔محمدقاسم ایک مقامی شہری نے بتایاکہ اس عمارت کی گزشتہ چالیس سال کے دوران کبھی مرمت نہیں گئی۔انہوں نے کہا کہ اس عمارت میں اب چوہوں کی کثرت ہوگئی ہے جو چاول کابڑاحصہ کھاجاتے ہیں۔محمداشرف ایک مقامی صارف نے محکمہ کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ علمدارکالونی کے راشن گھاٹ کیلئے نئی عمارت تعمیرکرائی جائے ۔