اللہ کی کتاب قرآن مجید کا لفظ لفظ حق ہے اور اس پر یقین رکھنا ایمان کا جز ہے جیسا کہ قرآن کی ابتدائی آیتوں میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’زالک الکتابْ لا ریب فیہ‘‘یعنی یہ وہ اْم الکتاب ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ہر دور میں بہت سے فرعون آئے جنہوں نے قرآن کی عظمت کو زک پہچانے کی ہر ممکن کوشش کی ،لیکن نہ تو وہ تب کامیاب ہوئے اور نہ ہی آگے ہونگے کیونکہ یہ اللہ کا فرمان ہے’’اے حبیب! بے شک ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے اور ہم خود تحریف ، تبدیلی ، زیادتی اور کمی سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں‘‘۔
آسمانی کتاب قرآن کریم تمام اصول و فروع دین کی جامع کتاب اور عالم بشریت کا بلند ترین جواب ہے۔ ایک تقدیر ساز کتاب ہے، ایک مکمل قانون ہے،قرآن شفابخش نسخہ ہے، روشن رہنما ہے، دقیق میزان، قوی واعظ، آگاہ اور با بصیرت رہبر، ظلمت شگاف نور، قوی ناطق اور سخنور ہے اور عالمین پر ایک رحمت اور حق کو باطل سے جدا کرنے والی کتاب ہے۔ نیز تاریخی، سیاسی، نظامی، تربیتی، فقہی، اخلاقی، اعتقادی، فطری، حفظان صحت کا خیال رکھنے والی، صنعتی، فلسفی، ادبی، ریاضی اور دیگر علوم اور موضوعات مشتمل ایک مجموعہ ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اگر کسی نے قرآن کے نور کوبجھانے ، اس میں کمی زیادتی ،تحریف اور تبدیلی کرنے یا اس کے حروف میں شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش بھی کی تو وہ کامیاب نہ ہوا، نہ ہو سکے گا۔ گمراہ لوگ سینکڑوں سال تک اپنے تمام تر مکر ،دھوکے اور قوتیں صرف کرنے کے باوجود قرآن کے نور کو تھوڑا سا بھی بجھانے پر قادر نہ ہو سکے ، اور نہ کبھی ہونگے ۔قرآن مجید کو جمع کرنے والا سب سے پہلے اللہ تعالی خود ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا’’بے شک اسے (آپ کے سینہ میں) جمع کرنا اور اسے (آپ کی زبان سے) پڑھانا ہمارے ذِمّہ ہے‘‘۔(القیامۃ 17) ۔دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے’’ پھر جب ہم اسے (زبانِ جبریل سے) پڑھ چکیں تو آپ اس پڑھے ہوئے کی پیروی کیا کریں‘‘۔(القیامۃ 18)
حضورؐ دوسرے جامع القرآن ہیں، آپؐ نے مختلف اشیاء پر قرآن مجید کو لکھوا کر جمع کیا۔ سارا قرآن مختلف اشیاء پر لکھا ہوا تھا۔تیسرے جامع القرآن حضرت ابوبکر صدیقؓ۔ جنگ یمامہ میں جب کثیر تعداد میں حفاظ وقراء صحابہ کرام شہید ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کے مشورے سے قرآن مجید کو مختلف اشیا ء سے کتابی شکل میں جمع کیا۔ تو اس طرح سب سے پہلے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے قرآن مجید کو کتابی شکل میں مدون کروایا۔حضرت عثمان غنی ؓ چوتھے جامع القرآن ہیں۔آپ کے زمانہ خلافت میں جب فتوحات بہت زیادہ ہو گئیں اور مختلف زبانیں بولنے والے جب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو انہوں نے قرآن مجید کی مختلف قرائتیں شروع کر دیں۔ تو اس وقت امت مسلمہ سے اختلاف کو ختم کرنے کے لئے اور ایک قرات پر جمع کرنے کے لئے آپ رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کو ایک قرات پر جمع کیا۔ قرآن مجید کے ساتھ جو تفسیر لکھی گئی تھی، اس تفسیر کو بھی ختم کروایا۔ لہٰذا آپ ؓنے اصل قرآن مجید کو تفسیروں سے الگ کر کے جمع کیا، اس وجہ سے آپؓ کو جامع القرآن کہا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن)
تدوین کا طریق ِ کار
جمعِ قرآن کے سلسلہ میں حضرت زید بن ثابتؓ کے طریقہ کار کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ زید خود حافظ قرآن تھے لہٰذا وہ اپنی یادداشت سے پورا قرآن لکھ سکتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی سینکڑوں حفاظ اس وقت موجود تھے ۔ان کی ایک جماعت بناکربھی قرآن کریم لکھا جاسکتا تھا۔نیز قرآن کریم کے جو مکمل نسخہ آنحضرتؐ کے زمانہ میں لکھ لئے گئے تھے حضرت زیدؓ ان سے بھی قرآن کریم نقل فرماسکتے تھے لیکن انھوں نے احتیاط کے پیش ِ نظر ان میں سے صرف کسی ایک طریقہ پر اکتفا نہیں فرمایابلکہ ان تمام ذرائع سے بیک وقت کام لیکر اس وقت تک کوئی آیت اپنے صحیفوں میں درج نہیں کی جب تک اس کے متواتر ہونے کی تحریری اور زبانی شہادتیں نہیں مل گئیں۔ اس کے علاوہ آنحضرتؐنے قرآن کریم کی جو آیات اپنی نگرانی میں لکھوائی تھیں ،وہ مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس محفوظ تھیں ،حضرت زیدؓنے انھیں یکجا فرمایا تاکہ نیا نسخہ ان سے ہی نقل کیا جائے۔ چنانچہ یہ اعلان عام کردیا گیا کہ جس شخص کے پاس قرآن کریم کی کچھ بھی آیات لکھی ہوئی ہو ں وہ حضرت زید کے پاس لے آئے (فتح الباری، علوم القرآن)
اس کام کی حضرت صدیق اکبرؓ خود نگرانی فرماتے رہے اور انھیں اپنے مفید مشوروں سے نوازتے رہے۔چنانچہ روایات سے ثابت ہے کہ انھوں نے حضرت عمرؓ کو بھی بطورِ معاون کے حضرت زیدؓ کے ساتھ اس کام میں لگادیا تھا اور ساتھ ہی حضرت عمرؓاور زیدؓ کو یہ حکم بھی فرمادیا تھاکہ’’ مسجد کے دروازے کے پاس بیٹھ جائو، پھرجوشخص بھی تمہارے پاس قرآن کریم کے نسخے گواہ کے ساتھ لے آئے، اُسے قلمبند کرو‘‘۔الغرض جو جو شخص بھی حضرت زیدؓ کے پاس قرآن مجید کی آیتیں لے کر آتا، حضرت زیدؓ چارطریقوں سے اس کی تصدیق کرتے تھے؛
(۱)سب سے پہلے اپنے حافظہ سے اس کی تصدیق کرتے تھے۔
(۲)پھر جیسا کہ اوپر تحریر کیا جاچکاکہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی اس کام میں ان کا معاون بنادیا تھا، اس لیے حضرت عمرؓ بھی اپنے حافظہ سے اس کی جانچ کرتے تھے۔
(۳)کوئی لکھی ہوئی آیت اس وقت تک قبول نہ کی جاتی تھی جب تک کہ دوقابل اعتبارگواہوں نے اس بات کی گواہی نہ دیدی ہو کہ یہ تحریر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی ہے۔
(۴)اس کے بعد ان لکھی ہوئی آیتوں کا ان مجموعوں کے ساتھ مقابلہ کیا جاتا تھا، جو مختلف صحابہؓ نے تیار کررکھے تھے۔ امام ابوشامہ فرماتے ہیں’’ اس طریقِ کار کا مقصد یہ تھا کہ قرآن کریم کی کتابت میں زیادہ سے زیادہ احتیاط سے کام لیا جائے اور صرف حافظہ پر اکتفا کرنے کے بجائے بعینہ ان تحریرات سے نقل کیا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی تھی‘‘۔
جب اجتماعی تصدیق کے ساتھ ’’قرآن مجید‘‘ کی جمع و تدوین کا کام مکمل ہو گیا، تو صحابہ کرامؓ نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کو کیا نام دیا جائے؟ چنانچہ بعض صحابہ کرامؓ نے اس کا نام ’’سِفر‘‘ رکھالیکن یہ نام یہودیوں کی مشابہت کی وجہ سے پاس نہیں ہوا۔ اخیر میں ’’ مصحف‘‘ نام پر سارے صحابہ کرامؓ کا اتفاق ہو گیا۔ (الاتقان1/77)
قرآن کے حق ہونے کی دلیل خود اللہ تعالیٰ قرآن میں یوں بیان کرتے ہے آگر تم لوگ قرآن کی نسبت شکوک و شبہات میں ہو، تو اس کی جیسا ایک سورہ ہی لے آؤ، یا فرمایاکہ اگر جن و انس سب مل کر ایک دوسرے کی مدد کریں اور قرآن کی مثل پیش کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے۔
عظمت قرآن بہ زبان قرآن
قرآن کریم کا تعارف جتنا عمدہ خود قرآن سے ہوسکتا ہے اور اس کی عظمت شناسی خود اس کے ذریعے جتنے بہتر طریقے سے ہوسکتی ہے ، کسی اور ذریعہ سے نہیں ہوسکتی کیوں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔آئیے ذرا قدرے تفصیل سے اس بات کا جائزہ لیں کہ قرآن کریم بذاتِ خود اپنا تعارف کس انداز سے پیش کرتا ہے۔ چنانچہ سورۃ ھود میں خود باری تعالی فرماتے ہیں ’’(یہ) وہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم ہیں ، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں ، بڑے حکمت والے ،بہت خبر رکھنے والے (اللہ) کی طرف سے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ (قرآن ) پروردگار عالم کا نازل فرمایا ہوا ہے، اسے امانت دار فرشتے نے (اے محمد ) تمہارے دل پر اتارا ہے تاکہ (تم لوگوں کو عذابِ آخرت) سے خبردار کرنے والے بنو، صاف ستھری عربی زبان میں)۔
رمضان کا مکمل مہینہ قرآن مجید کی نعمت سے منسوب کردیا گیا ، چنانچہ ارشاد ربّانی ہے ’’شَہرْ رَمَضَانَ الذِی اْنزِلَ فِیہِ القْرآنَ‘‘۔ محترم خرم مراد صاحب مرحوم اس کی دل نشیں تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’قرآن مجید سے زیادہ بڑی کوئی نعمت ایسی نہیں ہے ، جو خوشی و مسرت اور جشن کی مستحق ہو ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہماری خوشی کے سب سے بڑے دن کو قرآن مجید کے ساتھ وابستہ کردیا ہے ‘‘۔
قرآن کریم کی عظمت و جامعیت کو سورئہ مائدہ میں بڑے ہی بلیغ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے جس کو سن کر ایک یہودی نے امیرالمومنین حضرت عمر ؓسے کہا تھا کہ تمہاری کتاب میں ایک آیت ایسی نازل ہوئی ہے ، اگر یہ آیت ہمارے یہاں نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن یوم عید اور جشن کا دن بنالیتے۔ اس پر حضرت عمر ؓنے اس سے اس آیت کے متعلق دریافت فرمایا، وہ کون سی آیت ہے؟ اس یہودی نے جواب دیا سورہ مائدۃکی درج ذیل آیت’’ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین پسند کیا‘‘۔
عظمت ِ قرآن بہ زبان صاحب قرآن
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں تو قرآن کے فضائل اور اس کی اہمیت کو مختلف پیرائے میں بیان کیا ہے۔ آپ ؐکا ارشاد ہے کہ قرآن کی تلاوت اور اس کا مذاکرہ نزول سکینت ، رحمت کا باعث بنتا ہے۔
مسلمانوں کے زوال کے وجوہات
حضرت علی ؓ کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی جاتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس امت کے لئے سب سے عمدہ دوا قرآن مجید ہے۔آج اس امت کی مثال اس پیاسے کی سی ہوگئی ہے جس کے پڑوس میں میٹھا چشمہ بہہ رہا ہو مگر وہ اس چشمے سے سیراب ہونے کے بجائے گندے پانی سے اپنا پیٹ بھرنا چاہتا ہے۔ اگر تاریخ سے سوال پوچھا جائے کہ قرآن مجید جیسی عظیم نعمت کے ہوتے ہوئے یہ امت کیوں رو بہ زوال ہے ؟ تو تاریخ ہمیں اس کا جواب دے گی کہ’’اللہ تعالی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب کہ وہ خود( اپنے ارادے و اختیار سے )اپنے حالات و نفسیات نہ بدل لیں ‘‘۔
واقعی اگر قرآن پر کسی درجہ میں عمل کیا جاتا تو یہ خانہ جنگی یہاں تک نہ پہنچتی ۔آج سے چند سال پہلے مسلم محلوں سے گزرنے والا یہ لازماً محسوس کرلیتاتھا کہ یہ مسلم محلہ ہے اور اس علاقے اور محلے میں قرآن کی برکت سے الگ ہی قسم کی رونق ہوا کرتی تھی۔ میں نے اپنے شفیق والدین سے سْنا ہے کہ آج سے تیس چالیس سال پہلے مسلمانوں کے محلوں میں گذرتے ہوئے ہر گھر سے قرآن پڑھنے کی آواز تو آتی تھی یہ الگ بات ہے کہ لوگ اسے ٹھیک سے سمجھتے نہیں تھے، لیکن تلاوت تو بہرحال ہوتی تھی۔ اب تو تلاوت بھی نہیں ہوتی ، غور و فکر اور تدبر کا تو سوال ہی نہیں۔ کون سیکھے اور کون پڑھے ؟ عربی سے ہمارا کوئی دنیوی مفاد وابستہ ہو تو ہم سیکھیں، ہم انگریزی پڑھیں گے اور ایسی پڑھیں گے کہ انگریزوں کو پڑھادیں لیکن عربی سیکھنے کے لئے کوئی بھی وقت نکالنے کے لئے تیار نہیں۔
اگر تم مسلمان زندگی گزارنا چاہتے ہو تو قرآن کریم کو زندگی کا حصہ بنائے بغیر ایسا ممکن نہیں۔قرآن کی تعلیمات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اس طرح کے حالات ہمارا مقدر بن چکے ہیں ،لہٰذا سچے دل سے ہمیں پھر قرآن کے دامن میں پناہ ڈھونڈنی چاہئے۔ اس کے بغیر اور کوئی علاج کارگر نہیں ہوسکتا۔ امام مالک جیسے بیدار مغز محدث و فقیہ نے اس بیمار ملت کا علاج یہی قرار دیا تھا۔
’’ان حالات میں اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن حکیم کی طرف رجوع کیا جائے۔ہماری تقدیر اس وقت تک نہیں بدلے گی اور ہم عزت وسربلندی حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اس قرآن کا حق ادا نہیں کریں گے۔ہمارے عروج و بلندی کیلئے اگر کوئی زینہ ہے تو قرآن ہے۔ ہماری قسمت اسی کتاب کے ساتھ وابستہ ہے۔ اگر کوئی راستہ کھلے گا تو اسی کے ذریعے کھلے گا۔‘‘
پتہ۔ پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی
فون نمبر۔ 9205000010
ای میل ۔[email protected]
����������