معراج وانی
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ علماءِ دین ، انبیائے کرامؑ کے وارث ہیں۔ جیسا کہ حدیثِ نبویؐ میں آتا ہے،’’علماء انبیاء کے وارث ہیں ۔‘‘لہٰذا ان کے اوپر اس امت کی بہت سی عظیم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جنہیں وہ روزِ اول سے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ادا کرتے آئے ہیں۔ مگر عصرِ حاضر جو کہ سائنسی ترقی، تیز رفتار زندگی اور فکری انتشار کا دور ہے، اس میں علماء کرام کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ علماء کرام قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ کی صحیح تعلیمات کو عام کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا،اپنے ربّ کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ ۔لہٰذا علماء کو چاہیے کہ وہ حکمت، بردباری اور حسنِ اخلاق کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی کریں۔
عصر حاضر میں معاشرہ مختلف سماجی برائیوں کا شکار ہے، جیسے جھوٹ، دھوکہ، بدعنوانی، بے حیائی اور ناانصافی۔ اِن برائیوں کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ منبر و محراب کے ذریعے عوام الناس کو ان برائیوں کے نقصانات سے آگاہ کریں اور اصلاحِ معاشرہ کی بھرپور کوشش کریں۔اسی طرح اسلام میں صرف حقوقُ اللہ ہی نہیں بلکہ حقوق العباد کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ایک شخص عبادت گزار ہونے کے باوجود اگر لوگوں کے حقوق پامال کرتا ہے تو وہ نقصان میں ہے۔ اس لیے علماء کرام کو چاہیے کہ وہ عوام میں حقوق العباد کی ادائیگی کا شعور بیدار کریں تاکہ معاشرہ عدل و انصاف کا گہوارہ بن سکے۔
سود (ربا) ایک ایسی لعنت ہے جس نے آج کے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے سود کے بارے میں سخت وعید سنائی ہ ہے،
’’اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ ۔‘‘لہٰذا علماء کرام پر لازم ہے کہ وہ اس سنگین گناہ سے لوگوں کو آگاہ کریں اور انہیں حلال روزی اختیار کرنے کی ترغیب دیں،مزید موجودہ دور میں مسلکی اختلافات نے امت کو کمزور کر دیا ہے۔ علماء کرام کو چاہیے کہ وہ ان اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحادِ امت کے لیے کام کریں۔
اسی طرح علماء کو ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے اور محبت و اخوت کا پیغام عام کرنا چاہیے۔نوجوان نسل کی رہنمائی بھی علماء کرام کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ نوجوانوں میں اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ سائنسی اور عصری علوم سیکھنے کا شوق پیدا کریں تاکہ وہ دین اور دنیا دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔ ایک متوازن تعلیم ہی ایک مضبوط اور باوقار امت کی بنیاد رکھ سکتی ہے، علماء کرام کے ہاتھ میں معاشرے کی اصلاح کی باگ ڈور ہے۔ اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کو اخلاص، حکمت اور دور اندیشی کے ساتھ ادا کریں تو نہ صرف امت کی دنیا سنور سکتی ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر علماء کرام اپنی ان ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیں اور امت کو نیکی، دیانت داری، اتحاد اور باہمی احترام کی تعلیم دیں تو اس کے مثبت اثرات صرف امت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہمارے ملک کی ترقی اور خوشحالی پر بھی نمایاں طور پر ظاہر ہوں گے۔