کسی بھی قوم یاملک کی سب سے بڑی دولت اس کے نوجوان اور بچے ہوتے ہیں۔ یہی مستقبل معمار ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں نوجوانوں اور بچوں میں بھی ترقی کے منازل طے کرنے کی خواہش ہے، لیکن اْنہیں یہ سفر طے کرنے میں ہزارہا دشواریوں کا سامنا ہے۔ ضرورت اس وقت نوجوان پود میں خوداعتمادی پیدا کرنے کی ہے۔
وقت پوری دْنیا کے حالات ابتر ہیں، لیکن ہماری ریاست میں جہاں ایک طرف کورنا وائرس ہے اور دوسری طرف حالات کے جبر کا وائرس۔ نوجوانوں کے جوش اور اْن کی نئی اْمنگوں کو نتیجہ خیزبنانے کے لئے حساس شہریوں کو کردار نبھانا ہوتا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ارضِ کشمیر حضرت شیخ نورالدین نورانی جیسے عظیم ریشیوں کا مسکن اور بڈشاہ جیسے سلاطین کا پایہ تخت رہی ہے۔
مگر اْنیسویں صدی سے ہی اس قوم کی قدر و قیمت جانوروں سے بھی بدتر رہی۔ یہ جسور و غیور قم انگریزوں نے پچہتر لاکھ نانک شاہی سکّوں کے عوض نیلام کردی تو ایک صدی تک وطنِ مظلوم ڈوگرہ شاہی کا کی ذاتی جاگیر بن گیا۔ چپے چپے پر ظلم و جْور کا دور دورہ تھا، غلامی کی زنجیریں تھیں، غربت تھی، ناخواندگی تھی، بیماری تھی، بھوک تھی۔ کشمیر کی جدید تاریخ کا یہ دردناک باب ہے۔
فی الوقت نوجوانوں کی جابجا تعداد بے روزگاری کے سبب دربدر پھر رہی ہے۔
جنتِ بداماں وادیٔ کشمیر کے برف پوش پہاڑ ، سرسبز مرغزار، ہنستے گاتے ندی نالے، جھیل جھرنے، آبشار، ہرے بھرے کھلیان اور دلاویز گلستان اسی سرزمین کی میراث ہیں۔
یہ خطہ ذہانت و متانت اور خداد داد صلاحیتوں کے مالک کاریگروں اور ہنرمندوں کی سرزمین ہے۔ زمانہ قدیم سے دْنیا بھر کے لوگ یہاں سیاحت کے لئے آتے رہے ہیں اور اولیائے کرام نے بھی اشاعت دین کے لئے اسی سرزمین کو چْنا۔ ان میں سے بیشتر اسی جنت نظیر کی کشش اور جاذبیت میں محو ہوکر یہیں کی مہکتی مٹی میں آسودہ بھی ہوئے۔
رشکِ آدم کہلانے والی اس سرزمین نے ہر ایک کو گلے لگایا ، مگر وقت وقت کے شاہوں اور جابروں نے اس دریا دلی کے بدلے ہمیں صدیوں کی غلامی، محکومی اور مظلومیت کے ایسے تحائف دئے کہ ہم اپنے پیدائشی اور بنیادی حقوق تک بھول گئے۔
ہم پر عائد بندشوں اور قدغنوں نے ہماری زندگیاں تلخ بنا دی ہیں۔ وہ ملک کیا پھلے پھولے گا جہاں بیروزگاری اور بے چینی کی وجہ سے لوگ نانِ شبینہ کے محتاج ہوں۔ ہمارا کشمیر قدرت کے عطایا سے تہی دامن نہیں کہ ہمیں روٹی مہیا نہ کرسکے۔ بفضلِ خدا وادی ٔکشمیر اللہ کی عطاکردہ دولتوں سے مالامال ہے۔
ہمارے یہاں معدنیات کے خزانے ہیں، کھیت کھلیان ہیں، چپے چپے میں بیچ قیمت لعل و جواہرات دفن ہیں۔لیکن کیا کریں کہ ارباب سیاست کو کبھی توفیق نہ ہوئی کہ اس گنج ہائے گراں مایہ سے عوام کو مستفید کروانے کے لئے بہتر منصوبہ بندی کرتے۔
ہماری صنعت و حرفت اور دست کاریاں بھی اسی وجہ سے روبہ زوال ہیں۔ آج سے صرف ایک صدی قبل اقوام عالم میں کشمیری اپنی مصنوعات کی وجہ سے چرب دست و تردماغ کہلاتے تھے۔ اِن ہی کی بدولت کشمیرکے لاکھوں لوگ اپنا گزربسر کرتے تھے۔
مگر افسوس! آج ہمارے وہ شہرہ آفاق شال دوشالے نایاب ہیں جنہوں نے کشمیر کا نام پوری دنیا میں روشن کردیا تھا، اور جن کو شاہانِ مغرب فخر سے زیبِ تن کرتے تھے۔
ہم نے غفلتوں کی حد کرکے نہ صرف اپنی ہنرمندیاں اپنے ہاتھ نیلام کردیں بلکہ شائد ہی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا ہو جس میں ہم نے اپنی نکیل غیروں کو نہ تھمادی ہو۔ نتیجہ یہ کہ آج ریاست کا رہاسہا تشخص کھوجانے کے بعد واویلا کرتے ہیں، اور ہماری کوئی نہیں سْن رہا۔
ہم نے اپنی زرعی زمین پر بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کرکے اجنبی کمپنیوں اور غیرریاستی اداروں کو کرایہ پر دے کر اپنی نئی پود کو زوال کے دلدل میں دھکیل دیا۔
وقت آگیا ہے کہ ہم دوسروں پر اْنگلی اْٹھانے سے پہلے اپنے گریباں میں جھانکیں، تبھی ہم اس دلدل سے نکلنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ یاد رکھئے کوئی قوم یا ملک جب تک زراعت، باغبانی، صحت عامہ اور تعلیم کے شعبوں میں خودکفیل نہ ہوجائے تک وہ محرومی اور محکمومی کے اندھے کنویں سے باہر نہیں نکل سکتی۔
ہمیں چاہیے کہ زندگی کی جدید ضرورتوں کا فہم و ادراک کرکے تمام شعبوں میں نئی نسل کی صلاحیتیوں کو بہر پلاننگ سے بروئے کار لائیں تاکہ ہمارا مستقبل ماند نہ پڑ جائے، اور ہماری قوم کا سرمایہ یعنی نوجوان نسل ترقی کے زینے چڑھنے میں اوروں سے پیچھے رہ جائے۔
(کالم نگار سماجی رضاکار ہیں، رابطہ 946769449)