تہران// عراق اور ایران کے سرحدی علاقے میں اتوار کے روز زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ۔ اس دوران ایک کی موت جبکہ 361 دیگر زخمی ہوگئے ۔عراق کے زلزلہ انتباہ مرکز کے مطابق ریختر پیمانے پر زلزلے کی شدت 6.3 ماپی گئی۔ زلزلے کی وجہ سے عراقی کردستان کے علاقے میں ایک شخص کی موت ہو گئی اور 43 دیگر زخمی ہو گئے ۔سی این این نے امریکی جیولوجی سروے کے حوالے سے بتایا ہے کہ زلزلے کا مرکز ایران کے کرمن شاہ اسلامی شہر سے 114 کلومیٹر شمال مغربی علاقے میں 65 کلومیٹر زمین کی گہرائی میں تھا۔افسران نے کہا کہ زلزلے کے جھٹکے تھمنے کے بعد متاثرہ علاقوں میں چھ راحت اور بچاؤ ٹیمیں روانہ کردی گئیں۔ فوج اور اس کے نیم فوجی دستہ ریوولیوشنری گارڈ بھی بچاؤ مہم میں تعاون کررہا ہے ۔افسران کے مطابق زلزلہ کرمن شاہ کے کچھ روڈویز سمیت شہری اور دیہی علاقوں میں کئی گھروں کو نقصان پہنچنے کی خبریں ہیں۔ احتیاط کے طور پر بجلی کی سپلائی بند کئے جانے کے سبب لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ زلزلے کے جھٹکے عراق کی راجدھانی بغداد تک محسوس کئے گئے ۔ایران ان اہم زلزلہ متاثر علاقوں میں شامل ہیں جہاں آئے دن زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں۔ سال 2003 میں 6.6 شدت کے زلزلنے نے جنوبی ایران کے تاریخی شہر بام کو تہس نہس کردیا تھا جس میں 60 ہزار لوگ مارے گئے تھے ۔ اس سے قبل ایران کے مغربی کرمن شاہ صوبے کے گلان گھرب، سارپول جھاب اور قصرِشیریں میں زلزلے کی وجہ سے 361 افراد زخمی ہو گئے ۔ زلزلے کے جھٹکے مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً سات بج کر 37 منٹ پر محسوس کئے گئے ۔ زلزلے کا مرکز ایران کے سرحدی علاقے قصرِ شیریں میں تھا۔بغداد میں لوگوں نے زلزلے کے جھٹکے تقریباً ایک منٹ تک محسوس کئے ۔ زلزلے کے جھٹکے مشرقی دیالہ صوبے سمیت کئی عراقی صوبوں میں بھی محسوس کئے گئے ۔واضح رہے کہ 12 نومبر 2017 کو عراق میں شمالی سلائی منیاہ صوبے کے دربنندي خان علاقے میں 7.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں آٹھ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے ۔