جموں//ٹریفک کا نظام موجودہ دور میں ایک اہم مسئلہ بناہواہے ۔ریاست بھر میںروزانہ سڑک حادثات رونماہوتے رہتے ہیں جس میں قیمتی جانیں تلف ہوتی ہیں اور کئی لوگ زندگی بھر کیلئے معذور بن جاتے ہیں ۔ ساتھ ہی اﺅرلوڈنگ ، غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں ہر روز کے مسائل ہیں ۔اور جب بات جموں خطے کے دیہی علاقوں کی ہوتو اس نظام کی ایک الگ ہی تصویر سامنے آتی ہے ۔اس نظام میں سدھار کیلئے لداخ خطے کے قصبہ لیہہ سے تعلق رکھنے والی خاتون پولیس افسر(ایس پی ٹریفک رورل )شاہین وحیدایک الگ ڈھنگ سے کوشاں ہیں ۔ان کی اصل ترجیح عوام خاص طور پر طلباءکو ٹریفک کے بارے میں بیدار کرنا ہے ۔ شاہین کیلئے ٹریفک میں کام کرنا بھی پہلا تجربہ ہے تاہم انہوںنے ایک خاتون ہوتے ہوئے بھی کچھ ایسی تبدیلیاں لائیں جن کے نتیجہ میں جموں کے دیہی علاقوں میں پچھلے برسوں کے مقابلے گاڑیوں میں اضافہ ہونے کے باوجود سڑک حادثات میں کمی واقع ہوئی اور ٹریفک پولیس کی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ۔تاہم اس سے بھی ہٹ کر انہوںنے جو سب سے اہم کام کیا ،وہ لکھنپور سے لیکر پونچھ تک جگہ جگہ تعلیمی اداروں و دیگر مقامات پر بیداری کیمپ منعقد کرکے طلباءاور سماج کے دیگر لوگوں کو ٹریفک قوانین کے بارے میں جانکاری فراہم کرناہے ۔ انہوںنے ایک سال میں سینکڑوں بیداری کیمپ منعقد کئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔شاہین نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی ہائی سکول میں ہی حاصل کی جس کے بعد وہ مزید تعلیم کیلئے چندی گڑھ چلی گئیں اور گیارہویں سے لیکر پوسٹ گریجویشن تک وہیں پڑھائی کی ۔ گریجویشن مکمل ہونے کے بعد کے اے ایس کیلئے فارم نکلے اور شاہین نے بھی فارم بھردیا ۔چونکہ بچپن سے ہی ان کا مقصد کے اے ایس اور آئی اے ایس جیسے امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا تھااس لئے انہوںنے محنت سے کام لیتے ہوئے 2004میں یہ امتحان پاس کرلیا ۔انہیں ضروری تربیت کے بعد ڈی وائی ایس پی آئی آر پی آٹھ بٹالین تعینات کیاگیا جس کے بعد انہوںنے مختلف عہدوں پر کام کیا اور بعد میں ترقی پاکروہ سٹیٹ کرائم ریکارڈ بیرو میں ایس پی کے طورپر تعینات ہوئیں اورپچھلے ایک سال سے ایس پی ٹریفک رورل کے عہدے پرخدمات انجام دے رہی ہیں ۔ان کے ذمہ راجوری ، پونچھ ، ریاسی ، کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع کے ٹریفک نظام کی نگرانی کرناہے ۔ اس خاتون افسر کی کارکردگی کی بناپر انہیں ٹرانسپیرنٹ ریکروٹمنٹ پالیسی میں بطور ممبر چناگیا ۔شاہین وحید کاکہناہے ”ہم 365دن سڑک پر ہوتے ہیں، صبح سے لیکر شام تک ہر روز سڑک پر ہی رہناہے ،روزانہ لوگوں کاسامناکرناپڑتاہے ،گاڑی ہر کوئی خرید لیتاہے تو ہر ایک چلالیتاہے لیکن جانکاری نہیں اور نہ ہی تمیز ہے ،پیدل چلنے والوں کو بھی جانکاری نہیں ۔حالت یہ ہے کہ ہم ایمبولینس تک کو گزرنے کا راستہ نہیں دیتے، اپنی سہولت کیلئے دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں ،ہمیں یہ سوچناہوگاکہ کل ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوسکتاہے“۔وہ ٹریفک نظام کی خرابی کیلئے غلط پارکنگ کو بھی ایک بڑا مسئلہ مانتی ہیں ۔ان کاکہناہے ”لوگوں کو اگر سبزی یا کوئی چیز لیناہو تو وہ بیچ سڑک کے گاڑی کھڑی کردیتے ہیں ،اگر ان کا بس چلے تو وہ گاڑی کو دوکان کے اندر ہی لے جائیں ،راجوری پونچھ میں پارکنگ کی توکوئی جگہ ہی نہیں ، ہر کوئی غلط پارکنگ بھی کرتاہے اور ہر کوئی شکایت بھی کرتاہے “۔ان کے تجربہ کے مطابق لوگوں میں صبر ختم ہوگیاہے ،سڑک پر ہر کوئی جلدی میں ہوتاہے،گھر تو سب نے ہی جاناہے لیکن صبر کرنے کوکوئی تیار نہیں، غیر ضروری طور پر اﺅرلوڈنگ اور ہارن بجائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہوتاہے ،بیداری لوگوں کے اندر سے آنے کی ضرورت ہے ۔وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہیں کہ جب تک مناسب گاڑیاں فراہم نہ ہوجائیںتب تک اﺅرلوڈنگ پر قابو نہیں پایاجاسکے گا۔انہوںنے بتایاکہ محکمہ کی طرف سے سروے کروایاگیاجس میں گاڑیوں کی کمی کا پتہ چلا اور اس حوالے سے ٹرانسپورٹ کمشنر کومکتوب تحریرکرکے ان سے گاڑیاں فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔شاہین وحید کا مانناہے کہ اگر نوجوان نسل اور طلباءوخواتین بیدار ہوں تو پورے سماج میں بیداری آجائے گی ۔ان کاکہناہے ”میری ترجیح طلباءکو بیدار کرناہے کیونکہ کل انہوںنے ہی سڑک پر آناہے ،اگر ان کو بیدار کیاجائے تو سماج میں خود بخود بیداری آجائے گی ،میں راستے میں کہیں پر بھی سکول دیکھتی ہوں تو انتظامیہ سے بات کرکے طلباءمیں بیداری لانے کیلئے پروگرام منعقد کرلیتی ہوں ،کچھ مہینے قبل بڑی براہمناں کے ایک سکول میں گئی جہاں طلباءکو ٹریفک قوانین کے بارے میں بتایااورپھر حال ہی میں وہاںدوبارہ جانے کا موقعہ ملاتو انہی طلباءکا مثبت رد عمل ملا اور وہ اب اپنے والدین کو بھی ٹریفک قوانین پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں “۔وہ اس بیداری کیلئے خواتین کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کرتی ۔ شاہین کاکہناہے ”عورت گھر کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور میں نے خواتین کوساتھ لیکربیداری مہم شروع کی جس سے مثبت نتائج ملے ،لڑکی صبر کا پیکر ہوتی ہے ،وہ بیٹی بھی ہے ،ماں بھی ہے اور بیوی بھی اور وہی نسل کوآگے چلاتی ہے ،بیٹا گھومے پھرے گا لیکن بیٹی ناکے سے سکول جائے گی اور ناکے سے گھرواپس آئے گی ،وہ ہر چیز کا انتظام کرتی ہے ،اگر وہ اپنے بچوں میں صبر لائے تووہ پھر ایک خاندان کے صرف ٹریفک میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر ایک شعبے میں کام آئے گا،میں مانتی ہوں کہ عورت کا سماج میں بہت بڑا رول ہے ۔تاہم اسی عورت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیاجاتاہے ،پہلے تو ہم بیٹی جو جنم ہی نہیں دیتے اور اگر بدقسمتی سے اس کی پیدائش ہوجائے تو بڑی ہونے پر بیٹااور بیٹی دونوں سکول جائیںگے اور ایک جیسی مشکلات اٹھاکر پڑھائی کرکے واپس آئیںگے لیکن گھر پہنچنے پر ہم بیٹی سے کہتے ہیں کہ اٹھو اور بھائی کیلئے پانی کا گلاس لاﺅ “۔وہ لداخ خطے کی خواتین کوحوصلہ منداور باہمت مانتی ہیں ۔ان کا کہناتھا”اگرچہ آج حالات بدل گئے ہیں لیکن میرے بچپن کے وقت لہیہ کے حالات بہت مشکلات بھرے تھے ،وہاںخواتین خود کام کرتی ہیں ،وہیںسے کچھ کرنے کی تحریک ملی، سردی میں ٹھنڈے پانی میں کپڑے دھونا اور دیگر مشکل کام خود کرنا سیکھا،مشکل سے مشکل کام بھی خود کئے، پانی دور دور سے لاناپڑتاتھا، لیہہ میں لڑے اور لڑکیاں برابر صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں ،یہاں تک کہ فیصلہ سازی میں بھی ۔مجھے کبھی یہ محسوس نہیں ہواکہ عورت ہوں بلکہ ایمانداری سے کام کرنے کی کوشش کی ،اگر یہاں نہیں ہوتی تو ماﺅنٹ ایورسٹ پر گھوم رہی ہوتی اور ایک دو بار چڑھائی بھی کردی ہوتی ،میںسکول میں کھیل کود کی سرگرمیاں میں حصہ لیتی رہی اس لئے پولیس کی ٹریننگ بہت آسان لگی ،کبھی خوف نہیںہوا ،اپنے دوسرے بچے کی پیدائش سے کچھ گھنٹے قبل تک پورا دن ایئرپورٹ پر کھڑے رہ کر ڈیوٹی دی،گھر میں بھی ماحول اچھا رہا ،والد ٹھیکیدار ہیں اور والدہ گھر یلو کام کاج کرتی ہیں اور دونوں نے بچپن سے ہی ہمت بندھائی ،یہی وجہ رہی کہ کے اے ایس اور آئی اے ایس کوالیفائی کرنا بچپن سے ہی شوق رہا “۔شاہین موجودہ دور میں عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کیلئے آج کی ضروریات کا ادرا ک بھی رکھتی ہیں ۔ ان کی نگرانی میں ٹریفک رورل کے نام سے وٹس ایپ ، ٹوئٹر اور فیس بک اکاﺅنٹ چلائے جارہے ہیں اور سوشل میڈیا کابھرپور استعمال کیاجارہاہے ۔وہ سوشل میڈیا پر عوام کی حفاظت سے جڑا روزانہ ایک پیغام جاری کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔انہوں نے ہیلپ لائن بھی جاری کی ہوئی ہیں جن کے ذریعہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے فون اور پیغامات موصول ہوتے رہتے ہیں جس پر متعلقہ ڈی ٹی آئیز اور ایس اوز کوفوری کارروائی کی ہدایت دی جاتی ہے ۔انہیں فیس بیک اور ٹوئٹر سے اچھا رد عمل مل رہاہے ،امریکہ میں روڈ سیفٹی پر کام کرنے والے بھی فالو کررہے ہیں ،ری ٹوئٹ کررہے ہیں اور سراہناہورہی ہے ،وزراءنے سراہنا کے خطوط بھیجے ہیں ،سینئر افسران بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔اس مہم کے نتائج کے بارے میں ان کاکہناہے ”ہاں لوگوں کی طرف سے مثبت رد عمل بھی مل رہاہے ۔حال ہی میں جموں پونچھ شاہراہ پر ایک گاڑی کو حادثہ پیش آیاتاہم ڈرائیور نے سیٹ بیلٹ پہنی تھی جس کی وجہ سے وہ بچ گیا جس کے بعد اس نے ہم سے رابطہ کرکے بتایاکہ وہ اسی مہم سے متاثر ہواہے ۔لوگ اور سکول انتظامیہ فو ن کرکے مدعو کرتے ہیں اوربیداری کیمپ منعقد کرنے کا کہاجاتاہے اور امید ہے کہ نوجوان نسل میں بہت جلد ٹریفک کے تئیں بیداری آئے گی “۔شاہین وحید نے بتایاکہ ہیلمٹ کے بغیر یا بغیر کاغذات کے گاڑیاں چلانے والوں کو موقعہ پر پکڑ کر ان کی کونسلنگ کی جاتی ہے ،مخصوص Drives چلائی جارہی ہیں ،کبھی ہیلمٹ پر ، کبھی سیٹ بیلٹ پر اور کبھی کسی اورکیلئے ۔اگر کہیں حادثہ پیش آجائے تو ٹریفک اہلکار وہاں بھیج کر یہ وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حادثہ کیوں پیش آیا ، کیا ڈرائیور کی غلطی تھی یا کوئی دوسری وجہ ۔ ؟ان کی والدین سے اپیل ہے کہ وہ نابالغ بچوں کو بائیک مت نہ دیں ، لوگ بائیک دے کر اور خود بچے بھی اس کو اپنی شان سمجھتے ہیں جو نہیںکرناچاہئے ۔