سوپور//ولرجھیل کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے ولرکنزرویشن اینڈمنیجمنٹ اتھارٹی نے ملاحوں سے نقدی کے عوض جھیل سے اکٹھا کئے گئے ردی سامان کو خریدنے کی تجویز دی ۔ولرکنزرویشن اینڈامنیجمنٹ اتھارٹی کے کارڈی نیٹرعرفان رسول وانی نے وٹلب سوپور میں ’’عالمی یوم آب گاہ‘‘منائے جانے کے سلسلے میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ولرجھیل کا پانی صاف رکھنے پرزوردیتے ہوئے کہا کہ یہ پانی پینے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔لہروال پورہ بانڈی پورہ میں ایک اور پروگرام کے دوران جھیل میں مچھلیاں پکڑنے کیلئے جال منہدم کرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے عرفان رسول وانی نے کہا کہ یہ قدم فشریزمحکمہ کی درخواست پراُٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ مچھلیاں پکڑنے کے یہ جال بیدکے درختوں کے شاخوں اورنائیلوں کی جالی سے بنائے جاتے ہیں جو جھیل میں پانی کو متاثرکرتے ہیں اورپانی کا معیاربھی اثراندازہوتا ہے اورولرجھیل میں ان کے استعمال پرپابندی عائد کی گئی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان سرگرمیوں سے اجتناب کریں جن سے جھیل تباہ ہوگی۔ اس موقعہ پرمقامی ملاحوں کو جھیل کی سطح پر تیررہے گندگی اورکوڑا کرکٹ جمع کرنے کیلئے روانہ کیاگیا۔ایک اور پروگرام میں لہروال پورہ بانڈی پورہ میں غیرقانونی مچھلیاں پکڑنے کے جال ختم کئے گئے۔قابل ذکر ہے کہ ولرکنزرویشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی اس وقت جھیل کے ماحولیاتی نظام کو بحال کرنے کیلئے 200کروڑ روپے کے ایک منصوبے پر کام کررہا ہے جس کے تحت جھیل کے3.10کلومیٹر رقبہ جو مٹی سے بھراپڑا ہے کوڈرجنگ کے ذریعے صاف کیا جارہا ہے اوریہاں سے65لاکھ مکعب میٹر مٹی کوباہر نکالا جائے گا۔منصوبے کے دیگر جزبھی ہیں جس میں مضافات کاتحفظ ،ماحولیاتی سیاحتی ترقی اورجھیل کے تنوع کاتحفظ شامل ہیں ۔اس وقت منصوبے کے تمام جزوں پر کام ہورہا ہے اوراُمید ہے کہ اگلے مالی سال کے اختتام تک یہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔اس ماحولیاتی بحالی منصوبے سے نہ صرف جھیل کی ہیت بحال ہوگی،بلکہ گردونواح میں رہ رہے لوگوں کیلئے روزگار کی سبیل بھی پیداہوگی ۔