یو این آئی
لوزان/انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کے ایگزیکٹو بورڈ نے روسی اولمپک کمیٹی پر 12 اکتوبر 2023ء سے عائد معطلی کو عارضی طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ فیصلہ آئی او سی کے قانونی امور کے کمیشن کے تفصیلی جائزے کے بعد کیا گیا ہے جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ روسی اولمپک کمیٹی نے اب اپنے ارکان میں سے یوکرین کے دائرہ اختیار میں آنے والے مقبوضہ علاقوں کی علاقائی کھیلوں کی تنظیموں کو نکال دیا ہے اور وہاں مستقبل میں کوئی سرگرمی نہ کرنے کی باقاعدہ یقین دہانی کرائی ہے ۔لاس اینجلس 2028 اولمپکس اور ڈولومیٹی والٹیلینا 2028 ونٹر یوتھ اولمپک گیمز کے کوالیفائنگ رائونڈز کے آغاز کے پیش نظر، عالمی باڈی نے تمام کھلاڑیوں کو کھیلوں کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس کے تحت روسی اور بیلاروسی ایتھلیٹس کے لیے 2022ء اور 2023ء میں جاری کردہ سخت سفارشی اور حفاظتی پابندیاں اب نافذ العمل نہیں رہیں گی۔
عالمی مقابلوں میں واپسی کے باوجود روسی کھلاڑیوں کو سخت ترین مانیٹرنگ اور قوانین کا سامنا کرنا پڑے گا۔ روس کی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (روساڈا) کے انتظامی امور پر عالمی برادری کے عدم اعتماد کے باعث بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے والے تمام روسی کھلاڑیوں کے لیے انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (آئی ٹی اے ) کے تحت سخت اور متعدد ڈوپنگ ٹیسٹ پاس کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔جہاں تک روسی پرچم، رنگوں اور قومی ترانے کی بحالی کا تعلق ہے تو اس کا فیصلہ متعلقہ کھیلوں کی بین الاقوامی فیڈریشنز کے صوابدیدی اختیار پر چھوڑ دیا گیا ہے تاہم آئی او سی روس میں کسی ایونٹ کی میزبانی نہیں کرے گی اور نہ ہی روسی حکام کو دعوت نامے جاری کیے جائیں گے ۔ اولمپک کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کی شدید مذمت کے حوالے سے اس کے اصولی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور وہ یوکرینی کھلاڑیوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مالی اور لاجسٹک امداد کا سلسلہ بدستور جاری رکھے گی۔